تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

اخلاق سے عاری جمہوریت آمریت بن جاتی ہے ، پوپ لیو کا ٹرمپ کی تنقید پر جواب

مسیحی برادری کے عالمی پیشوا پوپ لیو نے خبردار کیا ہے کہ اگر جمہوری نظام اخلاقی اقدار سے محروم ہو جائے تو یہ ’اکثریتی آمریت‘ میں بدل سکتا ہے۔

ویٹیکن کی جانب سے یہ پیغام ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

تاریخ کے پہلے امریکی نژاد پوپ نے جمہوری معاشروں میں طاقت کے استعمال کے موضوع پر ہونے والے ایک اجلاس کے شرکا کو خط لکھتے ہوئے کہا کہ جمہوریت تب ہی صحت مند رہتی ہے جب اس کی بنیادیں انسانی وقار اور اخلاقی قوانین پر استوار ہوں۔

پوپ لیو نے اپنے خط میں واضح کیا کہ اگر اخلاقی بنیادیں موجود نہ ہوں تو جمہوریت کے نام پر یا تو اکثریت کی آمریت قائم ہو جاتی ہے یا پھر یہ معاشی اور تکنیکی اشرافیہ کے غلبے کا نقاب بن جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ طاقت بذاتِ خود کوئی مقصد نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے ’عوامی بھلائی‘ کے لیے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی اتھارٹی کا جواز معاشی یا فوجی طاقت جمع کرنے میں نہیں بلکہ اس حکمت اور فضیلت میں ہے جس کے ساتھ اسے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ خط ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا ہے جب پوپ لیو افریقہ کے دس روزہ دورے پر ہیں اور صدر ٹرمپ نے انہیں حال ہی میں ’خطرناک‘ قرار دیا ہے۔

ٹرمپ کی ناراضی کی بڑی وجہ پوپ کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری حالیہ جنگ پر مسلسل تنقید ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ پوپ خارجہ پالیسی کے معاملے میں ’انتہائی برے‘ ہیں اور انہیں سیاست کے بجائے اپنے مذہبی فرائض پر توجہ دینی چاہیے۔

تاہم پوپ لیو نے برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ سے گفتگو میں صاف کہا کہ وہ صدر کی تنقید کے باوجود امن کی کال دیتے رہیں گے اور انہیں ٹرمپ انتظامیہ کا کوئی خوف نہیں ہے

جواب دیں

Back to top button