Column

اسلام آباد ایکارڈ پہلے دن ہی کیوں نہیں ہوا؟

اسلام آباد ایکارڈ پہلے دن ہی کیوں نہیں ہوا؟
تحریر: مسعود چودھری
اعتماد کے فقدان کے سائے میں ہونے والے مذاکراتی عمل کو عالمی طور پر بین الاقوامی سفارتکاری کی تاریخ میں ایک انمٹ حقیقت گردانا جاتا رہے گا لیکن پاکستان کی جانب سے امن کی کوشش ایک واضح مگر عوامی طور پر یکسر نظر انداز کی جانے والی حقیقت سامنے لاتی ہے کہ کسی بھی بڑے معاہدے کی ظاہری رفتار دراصل اس کے پسِ پردہ جاری طویل، پیچیدہ اور کثیر سطحی عمل کی عکاسی نہیں کرتی۔ کامیابی کے شور میں اکثر وہ محنت چھپ جاتی ہے جو کامیابی تک پہنچنے کے لئے کی گئی ہوتی ہے جبکہ جسے ناکامی بنا کر پیش کیا جا رہا ہوتا ہے در اصل ناکامی نہیں ہوتی۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے نظرانداز کرتے ہوئے پاکستان میں جاری حالیہ امریکہ، ایران مذاکرات پر بعض حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ محض اکیس گھنٹوں میں کوئی حتمی معاہدہ کیوں سامنے نہیں آیا؟۔
دراصل جذباتی و جلد باز سوچ کے مالک ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ پانچ دہائیوں پر محیط امریکہ، ایران دشمنی سے آگے نکلی ہوئی، اپنے مفادات پر گرفت کی جاری رسہ کشی روز اول سے اس نکتہ یکتا پر مرتکز ہے کہ ’’ سب کچھ یا کچھ نہیں‘‘۔ معنی صلح میری شرائط پر ہو گی اور اس میں دونوں فریقین ہی اپنی اپنی جگہ مضبوط موقف و سخت گیر طرز عمل کے مالک دکھائی دیتے ہیں، جو کہ دونوں فریقین کے ذاتی مفادات و نظریات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ عالمی تاریخ میں تاریخی معاہدات کا جائزہ لیا جائے تو کیمپ ڈیوڈ ایکارڈ بظاہر تیرہ دن کی مسلسل گفت و شنید کے بعد طے پایا، مگر اس کے پیچھے بھی دہائیوں کی جنگ، سفارتی کوششیں اور عالمی دبائو کارفرما تھا۔ اسی طرح اوسلو ایکارڈ، ڈیٹن ایگریمنٹ، اور پیرس پیس ایکارڈ نے کئی ماہ کی خفیہ بات چیت، برسوں کی سفارتکاری کے بعد تکیمیلی شکل اختیار کی۔
لہٰذا اسلام آباد میں جاری مذاکرات کو محض چند گھنٹوں یا ایک دن کے پیمانے پر جانچنا نہ صرف غیر سنجیدہ طرز عمل ہے بلکہ سفارتی عمل کی بنیادی نوعیت سے ناواقفیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ درحقیقت، جو کچھ عوام کے سامنے’’ پہلا دن ‘‘ نظر آ رہا ہے، وہ دراصل ایک طویل بیک چینل اور پیشگی رابطوں کے سلسلے کا تسلسل ہے، جس میں مختلف سطحوں پر پیغامات، شرائط اور فریم ورک پہلے ہی زیر بحث آ چکے ہوتے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے تعلقات خود اس حقیقت کی ایک زندہ مثال ہیں۔ گو کہ موجودہ نوعیت کے ہائی لیول اعلانیہ مذاکرات اپنی نوعیت کے پہلے باضابطہ مذاکرات ہیں لیکن دونوں ممالک کے درمیان کھلے اور خفیہ مذاکرات کی ایک طویل تاریخ اپنی جگہ موجود ہے۔ 2001ء میں افغانستان کے معاملے پر بون کانفرنس کے دوران دونوں کے درمیان محدود تعاون دیکھنے میں آیا۔ بعد ازاں 2012۔ 2013ء میں عمان کے دارالحکومت مسقط میں خفیہ بیک چینل مذاکرات ہوئے، جنہوں نے بالآخر Joint Comprehensive Plan of Actionکی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد 2015ء میں ویانا میں طویل اور پیچیدہ مذاکرات کے نتیجے میں یہی معاہدہ طے پایا، جو تقریباً 20ماہ کی رسمی بات چیت اور ایک دہائی سے زائد کشیدگی کے بعد ممکن ہوا۔ یہاں یہ تشریح بھی ضروری ہے کہ یہ بائی لیٹرل یعنی دو ممالک کے بجائے ملٹی لیٹرل یعنی کثیر ملکی ہے۔ لیکن دونوں اکٹھے بیٹھے۔
اسی طرح 2019ء سے 2023ء کے درمیان بھی مختلف سطحوں پر خفیہ اور نیم اعلانیہ رابطے جاری رہے، جن میں بعض خلیجی ممالک نے سہولت کاری کا کردار ادا کیا۔ 2023۔ 2024ء میں قیدیوں کے تبادلے اور فنڈز کی جزوی بحالی جیسے محدود معاہدے بھی انہی خاموش سفارتی کوششوں کا نتیجہ تھے۔ ان تمام مثالوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ ، ایران جیسے پیچیدہ تعلقات میں کوئی بھی پیش رفت مرحلہ وار، تدریجی اور اکثر غیر مرئی طریقے سے سامنے آتی ہے۔
پاکستان کا موجودہ کردار اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے جبکہ دوسری جانب اعلانیہ دو بدو ملاقات جس کے بارے میں امریکی صدر ڈنلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ملاقات کے اختتامی اوقات میں دونوں فریقین کے دوران دوستانہ و بے تکلفانہ گفتگو کا تبادلہ بھی ہوا ہے، جو کہ جنگ کی ماحول میں نہ صرف ایک بہت بڑی کامیابی ہے بلکہ اسلام آباد کے نہ صرف ایک میزبان بلکہ ایک فعال ثالث اور سہولت کار کے طور پر ابھر کر سامنے آنا بھی ہے۔ اعلانیہ تعریف کے ساتھ ساتھ سفارتی ذرائع کے مطابق، دونوں فریقین، امریکہ اور ایران، نے پاکستان کے کردار کو انتہاء مثبت قرار دیا ہے اور اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ ایک قابلِ اعتماد، متوازن اور با اعتماد چینل کی فراہمی کسی بھی پیش رفت کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی، سیاسی اور سفارتی حیثیت اسے اس قابل بناتی ہے کہ وہ ایسے حساس مذاکرات کے لیے ایک موثر پل کا کردار ادا کرے۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ابتدائی مذاکراتی مراحل میں عمومی طور پر فریقین اپنے موقف واضح کرتے ہیں، اعتماد سازی کے اقدامات زیر غور آتے ہیں، اور ایک ممکنہ فریم ورک ترتیب دیا جاتا ہے۔ کسی بھی ’’ اکارڈ ‘‘ کا اعلان آخری مرحلہ ہوتا ہے، نہ کہ آغاز۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ اور موجودہ آئرلینڈ کے درمیان ہونے والے گڈ فرائیڈے ایگریمنٹ جیسے معاہدے بھی آخری چند دنوں میں طے پائے، حالانکہ ان کے پیچھے برسوں کی محنت شامل تھی۔
موجودہ حالات میں بھی اشارے یہی بتاتے ہیں کہ مذاکرات ایک سنجیدہ اور نتیجہ خیز سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اگر ابتدائی مرحلے میں فریقین بات چیت جاری رکھنے پر آمادہ ہیں، رابطے برقرار ہیں، اور ثالث پر اعتماد موجود ہے، تو یہ خود ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ ایسے میں فوری نتائج کا مطالبہ کرنا نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ بعض اوقات خود امن کی کوششوں کے عمل کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ مذاکرات مزید واضح شکل اختیار کریں گے، ممکنہ طور پر تکنیکی اور سیاسی سطح پر علیحدہ علیحدہ ورکنگ گروپس تشکیل پائیں گے، اور مرحلہ وار پیش رفت سامنے آئے گی۔ چند دن میں مزید ملاقاتیں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جب حالات، ارادہ اور سفارتی چینلز ہم آہنگ ہو جائیں تو بظاہر سست رفتار عمل بھی اچانک ایک بڑی پیش رفت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہ بھی اپنے آپ میں ایک بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ جنگ اس وقت رکی ہوئی ہے اور دونوں فریقین کو اس بات کا بخوبی ادراک ہو چکا ہے کہ دنیا امن چاہتی ہے اور اس امن کے حصول کے لئے مخلص کوشش کرنے والے ممالک میں سب سے پہلا نام پاکستان کا ہے۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور ان کی تمام ٹیم کی کاوشوں اور انتظامات کی جس طرح عالمی سطح پر تعریف کی جا رہی ہے وہ ہر پاکستانی کے لئے قابل فخر ہے۔
مختصراً، اسلام آباد میں جاری مذاکرات کو ایک دن یا چند گھنٹوں کے پیمانے پر نہیں بلکہ ایک طویل سفارتی عمل کے تسلسل کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اگر ماضی کی مثالوں کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ ’’ اکارڈ کیوں نہیں ہوا‘‘، بلکہ یہ ہے کہ ’’ کیا فریقین ایک قابلِ عمل راستے پر آ چکے ہیں؟‘‘، اور اس سوال کا جواب، موجودہ اشاروں کی روشنی میں، محتاط مگر واضح طور پر مثبت دکھائی دیتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button