اگر مگر نہیں، صرف پاکستان

اگر مگر نہیں، صرف پاکستان
تجمّل حسین ہاشمی
جنگیں انسانیت کی دشمن ہیں۔ دنیا کی تخلیق کے ساتھ ہی لڑائی جھگڑوں کا بھی آغاز ہوا۔ اسلام جہاں صلح جوئی کی تلقین فرماتا ہے وہیں دفاعی مضبوطی، گھر کے تحفظ کا درس بھی دیتا ہے۔
حالیہ صورتحال کے مدِ مقابل، کرونا کے اثرات کچھ بھی نہیں تھے، مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کی جنگ نے پوری دنیا کی دفاعی پالیسیوں اور طرز زندگی، ان کی سوچوں تک کو تبدیل کر دیا ہے۔ ایران دنیا کے سامنے ایک مضبوط ہمت ، دفاعی حیثیت کے طور پر ابھرا ہے۔ اس جنگ کو لے کر دنیا اپنی پالیسی اور سوچ کے مطابق بات کر رہی ہے۔ لیکن اس جنگی صورتحال کے اثرات بڑے خطر ناک تھے۔ گزشتہ روز میں ایک دفتر میں موجود تھا، جہاں ایران، امریکا جنگ زیرِ بحث تھی۔ میں خاموشی سے موجود دوستوں کا اظہار خیال سن رہا تھا ، مگر میزبان نے ہمیں بھی اٹھا دیا، اور پھر ہم نے بھی اپنے لکھاری ہونے پر محرکات بیان کئے۔ میرے مطابق اس جنگ کو ایک مخصوص صورتحال سمجھنا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ یہ جنگ زیادہ تر معاشی، اقتصادی اور سیکیورٹی صورتحال سے جوڑی ہوئی ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے اور پوری دنیا کی نظریں پاکستان کی میزبانی پر مرکوز رہیں۔ میری مطابق اس جنگ کی میزبانی کی ہمت شاید کسی دوسرے ملک کیلئے ممکن نہیں تھی۔ اس کی وضاحت کالم میں دینا ممکن نہیں۔ چند ایک صحافیوں نے دونوں ممالک کے رہنمائوں کی سوچ میں سختی کے اشارے دئیے اور مذاکرات میں رکاوٹوں کا ذکر کیا۔ میں ان تجزیہ نگاروں سے کہنا چاہتا ہوں: ’’ اگر مگر نہیں، صرف پاکستان زندہ باد‘‘۔ ہمیں اپنی ملکی قیادت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ پاکستان کی بات کرنی چاہیے، نہ کہ کسی تفریق یا تقسیم کو ہوا دینی چاہیے۔ ہماری قیادت نے بہترین حکمت عملی کے تحت ایک کامیاب مذاکراتی عمل شروع کیا، میز تک کا سفر خود ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ امریکا میں موجود پاکستانی ماہرِ معاشیات عاطف میاں کی ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر زیرِ گردش تھی: ’’ جنگ بندی کے ذریعے پاکستان نے دنیا کی معیشتوں کو تین ٹریلین، یعنی تین ہزار ارب ڈالر کا فائدہ پہنچایا ہے‘‘۔ اس بیان کے بعد یقیناً کئی حقیقتیں واضح ہو جاتی ہیں۔ ایک سینئر کالم نگار نے لکھا: ’’ اس فائدے پر ہمارا قرض ہی معاف کر دیا جائے‘‘۔ ویسے سابق وزیر اعظم نواز شریف ایٹمی دھماکوں کے موقع پر فرما چکے ہیں کہ انہوں نے امریکا کی اس آفر کو ٹھکرا دیا تھا۔
ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے مقاصد امریکا کے لیی جو بھی ہوں، جن سے شاید دنیا بے خبر ہو، مگر پاکستانی قیادت نے اسلامی برادر ممالک کو یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ایک مثبت، متحد سوچ کو فروغ دیا ہے۔ اب اسلامی ممالک کو پاکستان کے حوالے سے اپنے طرز عمل کو تبدیل کرنا چاہئے۔ ان کے رویے پاکستانی شہریوں کے لیے مثبت ہونے چاہئیں۔
پاکستان مخالف بیانوں کی بھر مار تھی، غیر ملکی قوتیں اپنی شر انگیزی سے کبھی باز نہیں آئیں۔ ان شر انگیزیوں میں کئی اسلامی ممالک بھی اپنا رنگ دیکھا رہے تھے۔ ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دشمن ممالک کے بیانات کو اپنی آنا کی ذاتی تسکین کے لیے ان کی پذیرائی کرنے لگتے ہیں۔ یہ طرز عمل معاشرے میں تفریق اور تقسیم کو بڑھاوا دیتا ہے۔ جو مشکلات کا باعث بنتا ہے، ہماری سب سے اہم ذمہ داری ہے کہ ہم پاکستان مخالف غیر ملکی قوتوں کے بیانیے اور ان کے نظریات سے خود کو دور رکھیں۔ ہمیں ان سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ متحد رہنا ہے۔ حالیہ میزبانی کے بعد انڈین جنگی جنون کو بھی لات پڑی ہے اور پاکستان مخالف قوتوں کی سفارت کاری ناکام ہوئی۔ امریکا اور ایران کو مذاکراتی میز پر لانا پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔
ہمارے بزرگ کہتے تھے کہ لڑائی اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب دونوں فریق ایک جگہ بیٹھنے پر راضی ہو جائیں، اور جو بیٹھ جائے وہ مشکل بندہ نہیں رہتا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت اس وقت بین الاقوامی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ہماری قیادت کے فیصلے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کو بین الاقوامی سفارتی محاذ پر موثر جواب دیا گیا ہے، جبکہ پاکستانی پاسپورٹ کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کو بھی منہ چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی۔ گزشتہ کئی برس سے پاسپورٹ دبائو کا شکار تھا۔ پاکستان کے ہمسایہ ممالک افغانستان، بنگلہ دیش کو سمجھ آگئی ہے اور اب ایران بھی سمجھ چکا ہے، چین، ایران، بنگلہ دیش اور افغانستان بس پاکستان زندہ باد۔ حکومت کی طرف سے گزشتہ ایک سال میں کیے گئے فیصلوں کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ غریب طبقے کو بھی اس کا فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ بظاہر ایک عام آدمی کو سفارتی کامیابیوں کی باریکیوں کا علم نہیں ہوتا ، وہ تو صرف روٹی اور روزگار میں آسانی پر خوش ہوتا ہے۔ حب الوطنی اس کے لیے ایک ایمانی جذبہ ہے۔
یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ایسے مذاکرات میں فوری نتائج کی توقع رکھنا درست نہیں۔ یہ دو ممالک کے درمیان سنجیدہ مذاکرات ہیں، جن کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ انڈیپنڈنٹ اردو کے کالم نگار سجاد اظہر نے خوب صورت انداز میں دونوں ملکوں کا فطری اندازہ پیش کیا، ان کا کہنا ہے امریکی فطری طور پر ڈپلومیٹ نہیں، وہ حاکمیت ظاہر کرتے ہیں، ایرانی بہت ماہر سفارتکار ہیں ، مذاکرات کی میز پر ایرانی دلیلیں حاوی رہیں، لیکن امریکہ کسی منطق کا نہیں بلکہ حکم کا قائل ہے۔ اب اس حکم کی جتنی تعمیل ممکن ہو سکتی ہے امن مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار اسی پر ہے۔
فی الحال جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس میں پاکستانی قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ملکی سلامتی سے جڑے خاموش محب وطن کردار، سب قابلِ فخر ہیں۔
پاکستانی قیادت کے اس وژن کے بعد امید کی جا سکتی ہے کہ ملک میں غربت اور کرپشن کے خاتمے کی راہ ہموار ہو گی، بروقت انصاف ملے گا، غریبوں کو تحفظ اور کاروبار میں آسانیاں میسر آئیں گی۔ یقینا پاکستان نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے، اور اس کے ثمرات بہت جلد قوم کو حاصل ہوں گے۔





