Abdul Hanan Raja.Column

ایران حکمت اور شدت کے درمیان

ایران حکمت اور شدت کے درمیان !
عبدالحنان راجہ
پہلی ایٹمی اور تیسری عالمی جنگ کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں، ہاں موخر ضرور ہوا ہے۔ ٹرمپ اسلحہ ساز اور صیہونی طاقتوں کا نمائندہ کہ جسے امن یا جنگ سے غرض نہیں وہ ہر دو صورتوں میں اپنا کاروبار چلائے رکھنے کا فن جانتا ہے۔صورتحال سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسرائیل سمیت امریکہ اس کے دشمن اور کئی مسلم ممالک کی نظر میں ایران قابل اعتماد دوست نہیں، اور وہ طاقتور ایران کو خطرہ سمجھتے ہیں، اس کا جواز کافی حد تک ایران نے مسلم ممالک میں اپنی پراکسیز کی صورت میں فراہم بھی کیا۔ گزشتہ 47سال سے مرگ بر امریکہ ایران کا قومی نعرہ، جبکہ اسرائیل سے براہ راست دشمنی کسی سے چھپی نہیں۔ اسرائیلی چالوں اور امریکی سازشوں کی شکار امت مسلمہ کو ہر دو ممالک نے ایران کا ہوا دیکر خوب استعمال کیا، بالخصوص عرب ممالک آج تک انہیں کے دام صیاد میں پھنسے ہیں۔ امریکہ، ایران نفرت کی دہائیوں پر مشتمل تاریخ کے ساتھ ان کو ورکنگ ڈنر پہ بٹھانا کہ جو خلیج آج تک اقوام متحدہ، جی 7، برکس یا او آئی سی نہ پاٹ سکیں، پاکستان کی چند روزہ کوششوں نے پار کر دی۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ اقوام متحدہ کی موجودگی 7عشروں سے فلسطین کا قضیہ حل ہوا اور نہ کشمیر جنت نظیر بن سکا، گرچہ قدرت نے اسے فردوس بر زمیں ہی بنایا تھا۔ اقوام متحدہ پر لہراتا امن کا پرچم اس کی جانبدارانہ اور بزدلانہ پالیسیوں سے تار تار کہ جسے پاکستان رفو کرنے میں کوشاں۔ یہ درست کہ اسرائیل دہشت گرد و ناجائز ریاست اور امریکہ جارح، مگر کچھ حقائق کہ جنہیں ایران کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ایران کے علم میں ہے کہ اس کے بیشتر ہمسائے اس سے نالاں اور امریکہ اس کی براہ راست پہنچ میں نہیں۔ ایران کو یہ بھی معلوم ہے کہ پراکسیز کی وجہ سے بیشتر مسلم ممالک کو بھی طاقتور ایران قبول نہیں۔ ایران کو یہ بھی پتہ ہے کہ جنگ اسی نے لڑنی ہے اور تنہا لڑنی ہے۔ اب جبکہ استقامت کے وصف نے اسے مذاکرات کی میز پر امریکہ کے ہم پلہ بٹھا ہی دیا تو اس سے آگے حکمت، تدبر اور دانش کا کھیل شروع ہوتا ہے کہ امن کی آشا انہی اوصاف متصوف دانتوں میں انگلی دبائے منتظر۔ کہ قیادت مذاکرات کی میز پر انا اور جذبات سے مغلوبہ ہوتی ہے یا مستقبل کا منظر نامہ اور عوام کی 47سالہ تکالیف بھی اس کے پیش نظر۔ اب ایران نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ حکمت کی راہ چنتا ہے یا جذبات سے مغلوب ہوتا ہے۔ باوجود باہمی بداعتمادی اور نفرت کے پاکستان نے اسے دنیا کی سپر پاور کی روبرو بٹھا کر اپنے حصے کا فرض اور قرض ادا کیا جو بطور مسلم ریاست اس کے ذمہ تھا۔ جبکہ امریکہ کو بھی باور کرا دیا کہ جنگ سے فوری انخلا ہی میں اس کی بچی کچی عظمت کا راز ہے۔ ایسے میں ایران کو امریکی سبکی اور پوزیشن سمجھنا ہو گی کہ آتش و آہن کی اتنی بارش کے بعد امریکہ کے ہاتھ کیا ؟ آیا الٹا عالمی گزر گاہ آبنائے ہرمز سے دنیا ہاتھ دھو بیٹھی اب اس کی حیثیت بحالی کو ہی اگر امریکہ اپنی فتح اور پروقار واپسی سمجھتا ہے تو ایران امریکہ کی یہ شرط مان کر اپنے منجمد اثاثہ جات، پابندیوں کا بتدریج خاتمہ اور یورینیم کی کم از کم حد تک افزودگی جیسے مطالبات منظور کروا کر اپنی قوم میں سرخرو ہو سکتا ہے ۔ دونوں ممالک محفوظ اور باوقار واپسی چاہتے ہیں مگر اپنی شرائط پر، معاہدہ کی گارنٹی کون دے سکتا ہے یہ ملین ڈالر سوال اور مشکل کام۔ مذاکرات کے تعطل کی شاید یہ بڑی وجہ مگر پہلی نشست میں ایسی اقوام جو ایک دوسرے کو دیکھنے سننے کی روادار نہیں سے معاہدے کی امید عبث مگر تعطل کا مطلب ناکامی نہیں۔ خبر ہے کہ فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم امریکی صدر کی درخواست پر واشنگٹن جا سکتے ہیں۔
اس وقت ایرانی حکومت، ولایت فقہی اور پاسداران کے زیر اثر اس لیے وہ آزادانہ فیصلے کی پوزیشن میں نہیں۔ ایک طرف پاسداران کہ جن کا ملک پر کنٹرول زیادہ مضبوط اور پھر رہبر کا وزن بھی انہی کے حق میں۔ موجودہ رہبر چونکہ آیت اللہ کے منصب پر نہیں اس لیے شاید وہ صائب فیصلہ کی پوزیشن میں بھی نہیں۔ ان حالات میں ایرانی مذاکراتی وفد سے غیر معمولی لچک کی توقع نہیں مگر انہیں اس پہ سوچنا ہو گا کہ حکمت برمبنی سفارت کاری ہی دنیا میں امن کا دروازہ کھول سکتی ہے۔ وگرنہ مجھے ایک بار پھر ایران سفارتی تنہائی کی طرف جاتا نظر آ رہا ہے۔ اسرائیل اور اس کے حواری ایران کو پھر سے جنگ میں دھکیلنے کے خواہاں کہ اسی سے انہیں لبنان اور غزہ میں قتل و غارت گری کا موقع میسر۔پاکستان نے مذاکرات سے قبل ایران، سعودی عرب میں رابطہ کروا کے نہ صرف ایک بڑی کامیابی حاصل کی بلکہ اسرائیلی مذموم عزائم کو بھی ناکام بنانے کی سعی کی امید کی جا رہی ہے کہ خدانخواستہ جنگ بندی برقرار نہیں بھی رہتی تو بھی ایران سعودی سرزمین پر حملہ نہیں کرے گا کہ اسے پاکستان کی عزت کا بھی خیال رکھنا ہے اور اسرائیلی سازش کو بھی ناکام کرنا ہے تو سعودی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی پاکستان ایران کو کرا چکا۔
ایران نے بھی جاتے جاتے مذاکرات کو جاری رکھنے کی پاکستانی کوششوں کو سراہا اور اس پہ اتفاق کیا جبکہ امریکہ نے بھی مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھ کر جنگ سے باعزت واپسی کا راستہ چننا بہتر خیال کیا۔
بہر حال اسلام آباد نے جس سفارتی عمل کی اساس رکھ دی، ان شاء اللہ وہی تمام فریقین کو اعتماد اور امن کی مستحکم بنیاد فراہم کرے گا۔
پاکستان پائندہ باد

جواب دیں

Back to top button