میں نے جیل میں کیا دیکھا؟

میں نے جیل میں کیا دیکھا؟
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
جیلوں کی ایک الگ دنیا ہوتی ہے، جہاں پہنچنے کے بعد اپنے پرائے سبھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، ہاں مجھ ایسے اس لحاظ سے خوش قسمت ہوتے ہیں جن کے خاندان کے لوگ باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتے رہے۔ حوالات سے سزائے موت تک انسان کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے، کہیں ذرا سی غلطی کی پاداش میں قصوری بلاک نہ بھیج دیا جائے یا کسی دوسری جیل میں شفٹ کر دیا جائے۔ جیلوں میں داخل ہوتے ہی خواہ کتنا بڑا کوئی ہو اسے نظر یں نیچے رکھنا پڑتی ہیں۔ سپرنٹنڈنٹس کے دورہ کے دن تو ہو کا عالم ہوتا ہے، بس گھنٹی بجنے کی دیر ہے ہر شے پر سکوت طاری ہو جاتا ہے۔ پریڈ ہوشیار کی صدا آنے کی دیر ہے قیدیوں، حوالاتیوں پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایسے ہی تو نہیں کہا تھا ملک میں دو وزیراعظم ہوتے ہیں، گویا جیلر بھی ایک طرح کا وزیراعظم ہوتا ہے، جو کلی اختیارات کا مالک ہوتا ہے۔ جب کبھی باہر سے دورہ آجائے تو کیا مجال کوئی قیدی سوال کرنے کی جرات کر سکے، ہاں اگر کوئی اس طرح کی گستاخی کا مرتکب ہو جائے تو دورہ ختم ہوتے ہی اسے پولیس وین میں ڈال کر کسی دوسری جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ قیدی، حوالاتی اپنے کئے کی سزا بھگت رہے ہوتے ہیں، ان کے ساتھ ان کے اہل خانہ رل جاتے ہیں۔ جن قیدیوں کو پانچ سو کلومیٹر دور ضلعی جیل سے دوسری جیل بھیج دیا جائے، ان کے خاندان کے لوگوں پر جو گذرتی ہے اس کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔ بعض ظالم اور ہوس زر کے پجاری جیلر کو قیدی، حوالاتی مال پانی نہ دے تو اس کا ضلعی جیل میں رہنا دشوار ہو جاتا ہے۔ جیلر کے پاس قیدی کا چالان نکالنا ایک بڑا ہتھیار ہوتا ہے، جسے وہ کسی وقت بھی بروئے کار لا سکتا ہے۔ ستم ظرفی دیکھئے ایک ہیڈ وارڈر کسی قیدی کا نام ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو دے دے تو اس کا اس جیل میں رہنا ناممکن ہوتا ہے۔ اللہ کے بندوں تصدیق تو کرلو قیدی نے کیا جرم کیا ہے، اتنی تکلیف کون کرے۔ ایوب نامی اسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جو دنیا سے جا چکا ہے، وارنٹ پر اس کی ڈیوٹی تھی، جو قیدی پیسے نہ دے یا کوئی قیدی پیسے دے کر دوسرے قیدی بارے کہہ دے، چند روز میں اسے کسی دوسری جیل بھیج دیا جاتا تھا۔ سپرنٹنڈنٹس بھی مکھی پر مکھی مارتے ہیں، یہ نہیں کوئی انکوائری کرا لیں، بس ڈپٹی کسی قیدی بارے جو کہہ دے صحیفہ آسمانی سمجھا جاتا ہے۔ گوگا نامی کار لفٹر جو سیل میں بند تھا، نے چیف جسٹس افتخار چودھری سے اس کی کرپشن کی شکایت کی تو چیف جسٹس صاحب نے حوالاتی اور اسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ دونوں کو طلب کر لیا، فریقین کو سننے کے بعد چیف جسٹس نے حکم دیا ایوب کو کسی صورت میں آئندہ سینٹرل جیل راولپنڈی نہ لگایا جائے، جس کے بعد ملازمت سے سبکدوشی تک ایوب راولپنڈی جیل نہیں آسکا۔ جیل کی ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد ایوب نے راولپنڈی کی ضلعی عدالتوں میں وکالت شروع کر دی، کہ ایک روز دل کا دورہ پڑا اور رخصت ہو گیا۔ ایوب کے قیدیوں پر مظالم کی تفصیل لکھوں تو کئی کالم درکار ہوں گے۔ ایوب کا چہرہ دیکھ کر انسان پر ہیبت طاری ہو جاتی تھی۔ وہ ہر روز شام کو بیرکس اور بی کلاس میں گھوم گھوم کر خیرات مانگا کرتا تھا، گویا محکمہ جیل خانہ جات پر بدنما داغ تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ جیلوں میں اصلاحات بھی ہو رہی ہیں، قیدیوں کا چالان نکالنے کے لئے طریقہ کار طے کر لیا گیا ہے، جس سے کم از کم چالان نکالنے میں کمی واقع ہوگی۔ جیلوں میں کسی ملازم کے پاس نہ کوئی اسلحہ، نہ کوئی چھڑی ہوتی ہے، دس دس قتل کرنے والے ایک ہیڈ وارڈر کے سامنے سر اٹھانے کی جرات نہیں کر سکتے۔ ہاں جب قیدیوں کی ملاقاتوں کا دن ہوتا ہے عجیب منظر ہوتا ہے، جونہی ملاقاتیوں کو جیل سے باہر بھیجا جاتا ہے، جیل ملازمین کی قیدیوں کی طرف فرمائش بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ چائے پانی، مٹھائیوں ، زردہ ،پلائو اور گوشت سے جیل ملازمین کی تواضع شروع ہو جاتی ہے جبکہ نقدی کا لین دین اضافی ہوتا ہے۔ قانونی طور پر کوئی قیدی اپنے پاس کرنسی نہیں رکھ سکتا، نہ قیدیوں کے ملاقاتی اپنے ہمراہ لا سکتے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود قیدیوں کو کرنسی دینے کا طریقہ کار ہے، ملاقات کے ساتھ آنے والے ملازمین ہی ملاقاتیوں سے کرنسی وصول کرکے قیدیوں کو پہنچا دیتے ہیں اور اپنا حصہ وصول کر لیتے ہیں۔ جیلوں میں نصب جیمر لگائے کتنے سال ہو چکے، موبائل سروس چل رہی ہے، کروڑوں کے جیمر لگانے کا کیا فائدہ ہوا۔ پی سی او کی موجودگی کے باوجود موبائل چل رہے ہیں تو مبینہ طور پر ملازمین کی ملی بھگت سے تو چل رہے ہیں۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں جیل میں داخل ہونے کے بعد خواہ کوئی کتنا پھنے خان کیوں نہ ہو بکری بن جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں کوئی قیدی جیل ملازمین کی مبینہ ملی بھگت سے موبائل کا استعمال کر سکتا ہے۔ چند روز پہلے ایک جیل کے قیدیوں سے موبائل برآمد ہوئے تو انہیں دوسری جیل میں بھیج دیا گیا، جبکہ ڈیوٹی پر مامور ملازمین کو معطل کر دیا گیا۔ قانون میں ملازمت سے معطلی کوئی سزا نہیں، بلکہ ملازم کو سرکاری فرائض سے روک دیا جاتا ہے، جبکہ تنخواہ عرصہ معطلی میں اسے ملتی رہتی ہے۔ اس ناچیز کے خیال میں ایسے ملازمین کو محکمہ میں رکھنا ضروری ہوتا ہے، یا اسے ملازمت سے برخاست کیا جانا بہتر ہے، تاکہ دیگر ملازمین عبرت حاصل کریں۔ اللہ جانتا ہے مجھے کسی جیل سپرنٹنڈنٹ یا کسی اہل کار سے پرخاش نہیں، اگر میری سچ باتیں کسی کو ناگوار گزرتی ہیں تو بسم اللہ، مجھے کسی کا کوئی خوف نہیں، انسان کو ڈر صرف حق تعالیٰ کا ہونا چاہیے، جس کے قبضے میں انسان کی جان ہوتی ہے، اور جس کے روبرو ہمیں ایک روز اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔ اگر انسان ذہن میں ایک بات نقش کر لے یہ دنیاوی مال و متاع اور جاہ و جلال سب عارضی ہیں۔ گو میری آخری بات کالم کے موضوع سے مناسبت نہیں رکھتی، ایک دوست جو کبھی معروف تحصیل دار ہوا کرتے تھے، کسی حوالے سے ایک بیوروکریٹ کی بات ہوئی تو کہنے لگے آئی ایٹ کا قبرستان بیوروکریٹس سے بھر ا پڑا ہے۔ اللہ اکبر





