Column

سرنڈر

سرنڈر
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
کبھی کبھی انسان زندگی کی جنگ لڑتے لڑتے اچانک تھک جاتا ہے، رک جاتا ہے۔ ہاتھ خالی ہوتے ہیں، آنکھیں الجھی ہوتی ہیں، ذہن سوالوں سے بھرا ہوتا ہے اور دل کے پاس کوئی جواب ہوتا ہے نہ قرار۔ وہ ہر طرف دیکھتا ہے۔۔۔ کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا، کوئی سہارا باقی نہیں رہتا۔ پھر وہ آنکھیں بند کرتا ہے، ہاتھ اٹھاتا ہے اور کہتا ہے: یا اللہ! اب میں نہیں لڑ سکتا۔۔۔ اب تو ہی سنبھال۔ شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان شکست نہیں کھاتا، بلکہ پہلی بار سرنڈر کرتا ہے۔ وہ دنیا سے نہیں، اپنے رب کے سامنے سرنڈر کرتا ہے۔ اپنی تدبیر، انا، ضد، خوف، خواہش اور تمام حساب کتاب ایک طرف رکھ کر خود کو اس ذات کے حوالے کر دیتا ہے جس نے اسے بھیجا ہے۔ وہ پکار پکار کر کہتا ہے: تو نے بھیجا ہے تو ہی سنبھالے گا ، تو ہی بچائے گا۔ تو بچاتا آیا ہے۔۔۔ اور تو ہی بچائے گا۔ یا اللہ! آج میں تیرے سامنے اپنی نیکیوں کی فہرست لے کر نہیں آیا۔ میں صرف اپنے آپ کو لے کر آیا ہوں۔۔۔ اپنی کمزوریوں، خطاں، خوف اور بے بسی سمیت۔میں تھک گیا ہوں۔ دنیا کو خوش کرتے کرتے، لوگوں کی توقعات پوری کرتے کرتے، یہ سوچتے سوچتے کہ کون میرے ساتھ ہے اور کون میرے خلاف۔ میں نے لوگوں میں سہارا تلاش کیا، دروازوں میں راستے، اپنی عقل میں نجات اور تدبیروں میں کامیابی۔۔۔ مگر آخرکار سمجھ آیا کہ انسان جتنا بھی تدبیر کر لے، فیصلہ پھر بھی تیرے ہاتھ میں رہتا ہے۔ آج میں نے فیصلہ کیا ہے: میں نے سرنڈر کر دیا۔ مکمل سرنڈر!
ہم سجدے میں صرف پیشانی زمین پر نہیں رکھتے، اپنے پورے وجود کو مالک کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ پیشانی جھکتی ہے تو انا جھکتی ہے۔ سر جھکتا ہے تو غرور جھکتا ہے۔ گھٹنے ٹکتے ہیں تو اختیار کا زعم ٹوٹتا ہے۔ ہاتھ زمین پر آتے ہیں تو انسان تسلیم کرتا ہے کہ اصل طاقت اس کے ہاتھ میں نہیں۔ اور دل جب کہتا ہے: یا اللہ! تو بندے کی زندگی کا سب سے بڑا لمحہ وہی ہوتا ہے۔ کیوں کہ سجدہ سرنڈر ہے۔ یہ اعلان ہے، یا اللہ! میں اپنی مرضی تیرے سامنے رکھتا ہوں، مگر آخری فیصلہ تیرا مانوں گا۔ میں دعا کروں گا، مگر اصرار نہیں کروں گا۔ میں کوشش کروں گا، مگر نتیجہ تیرے حوالے کروں گا۔ یا اللہ! زبان سے کہنا آسان ہے کہ ’’ میں تیرے حوالے‘‘، مگر دل سے اپنی خواہش چھوڑ دینا مشکل ہے۔
ہم چاہتے ہیں دعا ہماری مرضی کے مطابق قبول ہو، راستہ ہماری خواہش کا کھلے، حالات ہمارے مطابق بدلیں۔ ہم تجھ پر ایمان رکھتے ہیں، مگر کبھی اپنی خواہش کو تیری مصلحت پر ترجیح دے بیٹھتے ہیں۔ مجھے ایسا ایمان دے کہ جب میری مرضی اور تیری مصلحت میں فرق ہو تو میں اپنی مرضی چھوڑ سکوں۔ ایسا یقین دے کہ راستہ بند ہو تو مایوس نہ ہوں۔ ایسا صبر دے کہ جواب دیر سے آئے تو تیرے در سے اٹھ نہ جائوں۔ ایسا توکل دے کہ کوئی ساتھ نہ دے تو میں نہ بھولوں کہ تو میرے ساتھ ہے۔ یا اللہ! میری آنکھیں تیری عطا ہیں۔ انہیں وہ دکھا جو تیری رضا کے قریب لے جائے۔ میرے کان تیرے دئیے ہوئے ہیں۔ انہیں ایسی آوازوں سے بچا جو میرے دل کو تیرے ذکر سے دور کر دیں۔ میری زبان تیری عطا ہے۔ اسی جھوٹ، غیبت، بہتان اور دل آزاری سے محفوظ رکھ۔ میرے ہاتھ تیرے ہیں۔ انہیں ظلم کے بجائے کسی کا سہارا بننے کی توفیق دے۔ میرے قدم تیرے ہیں۔ انہیں حرام راستوں سے بچا اور اپنی راہ پر چلا۔ میری عقل تیرے فضل سے ہے، اسے تکبر کا شکار نہ ہونے دینا۔ اور میرا دل۔۔۔! تو نے بس ایک دل بنایا ہے اور صرف اپنے لیے بنایا ہے، اس میں محبت بھی بس ایک ہی کی ہونی چاہیے، بنانے والے کی محبت، یعنی تیری محبت ۔ یا اللہ، میرا دل سب سے زیادہ تیرے حوالے ہے۔ اس میں محبت بھی ہے، خوف بھی، حسرت بھی، خواہش بھی، دکھ بھی، زخم بھی۔ میں سب تیرے حوالی کرتا ہوں۔ جو شخص میرے دل میں درد بن کر بیٹھا ہے، اسے بھی تیرے حوالے۔ جو خواہش پوری نہیں ہوئی، اسے بھی تیرے حوالے۔ جو خواب ٹوٹ گیا، اسے بھی تیرے حوالے۔ اور جو کل آنے والا ہے، اسے بھی تیرے حوالے۔ کیوں کہ تو جانتا ہے۔ میں نہیں جانتا۔ تو دیکھتا ہے۔ میں نہیں دیکھتا۔ تو انجام جانتا ہے۔ میں صرف لمحہ دیکھتا ہوں۔ پھر میں تجھ سے زیادہ اپنے فیصلے پر کیسے بھروسہ کر سکتا ہوں؟۔ یا اللہ! مجھے رزق کی فکر رہتی ہے، مگر رزق تیرے ہاتھ میں ہے۔ مجھے عزت کی فکر رہتی ہے، مگر عزت تیرے ہاتھ میں ہے۔ مجھے زندگی کی فکر رہتی ہے، مگر زندگی تیرے ہاتھ میں ہے۔ مجھے موت کا خوف رہتا ہے، مگر موت بھی تیرے حکم سے ہے۔ پھر میرے پاس اپنے خوف کے لیے کیا جواز ہے؟۔ جس رب نے مجھے ماں کے پیٹ کے اندھیروں میں سنبھالا، وہ دنیا کے اندھیروں میں بھی مجھے تنہا نہیں چھوڑے گا۔ جس نے مجھے اس دنیا میں بھیجا، کیا وہ مجھے بے سہارا بھیجے گا؟، نہیں! وہی میرا رب ہے۔ وہی میرا مالک ہے۔ وہی میرا رازق ہے۔ وہی میرا محافظ ہے۔ وہی میرے حال سے واقف ہے۔ وہی میرے مستقبل کو جانتا ہے۔ اور وہی جانتا ہے کہ میرے لیے کیا بہتر ہے۔ یا اللہ! میرے پاس کوئی نہیں۔ کوئی ایسا نہیں جو تجھ سے زیادہ میرا خیال رکھ سکے۔ لوگ میری آواز سنتے ہیں، تو میری خاموشی سنتا ہے۔ لوگ میرے چہرے کو دیکھتے ہیں، تو میرے دل کو جانتا ہے۔ پھر میں تیرے سوا کس کے سامنے جائوں ؟ اسی لیے آج میں سب کچھ چھوڑ کر تیرے سامنے آ گیا ہوں۔ سرنڈر۔ مکمل سرنڈر۔ اپنی فکر تیرے حوالے۔ اپنا مستقبل تیرے حوالے۔ اپنے رشتے تیرے حوالے۔ اپنی عزت تیرے حوالے۔ اپنی روزی تیرے حوالے۔ اپنی کامیابی اور ناکامی تیرے حوالے ۔ اپنی زندگی تیرے حوالے۔ اور اپنی موت بھی تیرے حوالے۔ اب میں یہ نہیں مانگتا کہ میری زندگی میں آزمائش نہ آئے۔میں صرف یہ مانگتا ہوں کہ آزمائش آئے تو میرا ایمان سلامت رہے۔ غم آئے تو میرا یقین سلامت رہے۔ تنہائی آئے تو مجھے تیرا قرب محسوس ہوتا رہے۔ لوگ چھوڑ جائیں تو میرا رب مجھے نہ چھوڑے۔ دروازے بند ہوں تو میں تیرے دروازے کو کھلا سمجھوں۔ دنیا مجھے مسترد کر دے تو میں جانتا رہوں کہ میرا رب مجھے جانتا ہے۔
یا اللہ! مجھے دنیا سے جیتنے سے زیادہ اپنے نفس کو شکست دینے کی قوت دے۔ مجھے دولت سے زیادہ قناعت دے۔مجھے شہرت سے زیادہ اخلاص دے۔ مجھے لمبی زندگی سے زیادہ بامقصد زندگی دے۔ اور جب میری زندگی کا آخری لمحہ آئے تو میری زبان پر تیرا نام ہو، میرے دل میں تیرا یقین ہو اور میرے وجود میں تیری رضا کی طلب ہو۔ میں نے اپنی پریشانی، خوف، خواہش، ناکامی اور کامیابی تیرے حوالے کر دی۔ اب جو تو چاہے، وہی میرا راستہ ہے۔ میری آنکھوں میں آنسو ہیں، مگر دل میں سکون ہے۔ کیونکہ اب مجھے معلوم ہو گیا ہے: میرا کام کوشش کرنا ہے، نتیجہ دینا تیرا اختیار ہے۔ میں سجدے میں ہوں۔ میرا سر زمین پر ہے، مگر میرا یقین آسمانوں کے رب پر ہے۔ میں کمزور ہوں، مگر میرا رب طاقتور ہے۔ میں محتاج ہوں، مگر میرا رب بے نیاز ہے۔ میں نہیں جانتا، مگر میرا رب سب جانتا ہے۔ میں راستہ نہیں جانتا، مگر میرا رب ہر راستہ جانتا ہے۔ اس لیے اب مجھے ڈر نہیں۔ میں نے سرنڈر کر دیا ہے۔ یا اللہ! جو ہو گا، تیرے حکم سے ہو گا۔ جو ملے گا، تیرے حکم سے ملے گا۔ جو چھنے گا، تیری حکمت سے چھنے گا۔ جو راستہ کھلے گا، تیری رحمت سے کھلے گا۔ اور جو بند ہو گا، شاید اس میں بھی میری حفاظت چھپی ہوگی۔ بس مجھے اپنے فیصلے پر راضی رہنے والا دل دے۔ کیونکہ اب میں جان گیا ہوں: جس نے بھیجا ہے، وہی بچائے گا۔ جس نے پیدا کیا ہے، وہی سنبھالے گا۔ جس کے حوالے میں نے خود کو کر دیا ہے، اس کے بعد میرے لیے بے سکونی کیسی؟، میں سجدے میں تھا۔ آنسو بہہ رہے تھے۔ زبان خاموش تھی۔ مگر دل مسلسل کہہ رہا تھا: یا اللہ۔۔۔ میں نے سرنڈر کر دیا۔ مکمل سرنڈر۔ اور شاید یہی بندگی کی ایک بڑی منزل ہے کہ انسان اپنی جنگ ختم کر کے اپنے رب کی رضا میں پناہ لے لے۔ وہی میرا رب ہے۔۔۔ اور جس کا رب ہو، اس کے پاس سب ہوتا ہے اور وہ کبھی بے سہارا نہیں ہوتا۔

جواب دیں

Back to top button