ColumnQadir Khan

9؍11’’ فارایور وارز‘‘ کے 25برس

9؍11’’ فارایور وارز‘‘ کے 25برس
قادر خان یوسف زئی
پچیس برس بیت گئے۔ وقت کی گرد نے اگرچہ نیویارک کے ٹوئن ٹاورز کے ملبے کو تو بہت پہلے چھپا دیا تھا، لیکن اس روز جو آگ بھڑکی، اس کا دھواں آج بھی دنیا کے کئی خطوں کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ یہ وقت ان ہزاروں امریکی خاندانوں کے دکھ کو یاد کرنے کا تو ہے ہی، لیکن اس سے کہیں بڑھ کر یہ ان کروڑوں انسانوں کی بربادی کا ماتم کرنے کا وقت ہے جو امریکی قیادت میں لڑی جانے والی ان لایعنی جنگوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔
سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے جب 2001ء میں افغانستان پر حملے کے ساتھ اس طویل ترین فوجی مہم کا بگل بجایا، تو اس وقت کے پالیسی سازوں کا دعویٰ تھا کہ یہ جنگ دنیا کو محفوظ بنانے کا واحد راستہ ہے۔ لیکن آج پچیس برس بعد، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وہ جنگ جو ایک خطے سے شروع ہوئی تھی، اب درجنوں ممالک تک پھیل چکی اور انسانی جانوں کے ایسے زیاں کا سبب بن رہی ہے جس کا تصور ہی محال ہے۔ یہ محض ماضی کا قصہ نہیں بلکہ ایک جاری المیہ ہے۔ آج بھی انسدادِ دہشت گردی کے نام پر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایسی فوجی کارروائیوں اور پالیسیوں کا جواز تراش رہی ہے۔ بحیرہ کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں کشتیوں پر فضائی حملے ہوں یا وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششیں، ان سامراجی ہتھکنڈوں پر گزشتہ ایک سال کے دوران 4.7بلین ڈالر سے زیادہ کی خطیر رقم پھونکی جا چکی ہے۔
تلخ ترین سچائی یہ ہے کہ طاقت کے زور پر مسلط کی جانے والی یہ نام نہاد ’’ فارایور وارز‘‘ کسی بھی ملک یا قوم کے لیے سلامتی کا ضامن نہیں بن سکیں، بلکہ انہوں نے عدم استحکام، معاشی تباہی اور انسانی المیوں کی ایک ایسی نہ ختم ہونے والی زنجیر کو جنم دیا ہے جو اب خود امریکی معاشرے اور عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ ایران کے ساتھ موجودہ جنگ کو شروع ہوئے چھ ماہ گزر چکے ہیں، اور ’’ کاسٹس آف وار‘‘ رپورٹ کے حقائق ہمارے لیے چشم کشا ہونے چاہئیں۔
جب بھی کوئی ریاست جنگ چھیڑنے کا فیصلہ کرتی ہے، تو وہ صرف اپنے فوجیوں کی موت کے پروانے پر دستخط نہیں کرتی، بلکہ وہ ان گنت ایسے انسانوں کی موت کا فیصلہ بھی کرتی ہے جن کا اس کھیل میں کوئی قصور نہیں ہوتا۔ بمباری اور گولیوں کی بوچھاڑ سے ہونے والی ہلاکتیں تو محض کہانی کا ایک رخ ہیں۔ جنگ جب کسی خطے میں داخل ہوتی ہے تو وہ وہاں کی معیشت، بنیادی ڈھانچے، ہسپتالوں اور ماحول کو اس حد تک خاک میں ملا دیتی ہے کہ بم گرنا بند ہونے کے برسوں بعد بھی موت کا رقص جاری رہتا ہے۔ نائن الیون کے بعد کے جنگی خطوں میں، جن میں افغانستان، پاکستان، عراق، شام اور یمن شامل ہیں، براہ راست اور بالواسطہ اموات کی کل تعداد 45سے 47لاکھ کے درمیان ہو سکتی ہے، اور یہ گنتی آج بھی رکی نہیں۔ اگرچہ اموات کے ان اعداد و شمار کا سو فیصد درست تعین کرنا ناممکن ہے، لیکن ایک بات طے ہے کہ اس بربادی کا سب سے بڑا شکار بچے بنے ہیں، جو گولیوں سے کم اور جنگ کے بعد پیدا ہونے والے اثرات، جیسے ہیضہ، قحط اور دیگر مہلک وبائی امراض سے زیادہ مرتے ہیں۔
جنگیں ہمیشہ اس تخمینے سے کہیں زیادہ مہنگی ثابت ہوتی ہیں جو سیاسی رہنما جنگ کے آغاز پر اپنے عوام کو بتاتے ہیں۔ 2001ء کے اواخر سے لے کر 2022ء تک، نائن الیون کے بعد لڑی جانے والی امریکی جنگوں پر قریباً 8ٹریلین ڈالر کا ہوشربا خرچہ آیا ہے۔ اس رقم میں ان سابق فوجیوں ( ویٹرنز) کی دیکھ بھال کے وہ متوقع اخراجات بھی شامل ہیں جو آنے والی کئی دہائیوں تک امریکی حکومت کو برداشت کرنا ہوں گے۔ آج جب امریکا ایران کے ساتھ برسرِ پیکار ہیں، تو ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ تھا کہ یہ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی اور اس پر کوئی خاص لاگت بھی نہیں آئے گی۔ یہ بعینہ وہی سراب ہے جو عراق اور افغانستان کے وقت دکھایا گیا تھا۔ محققین کا محتاط اندازہ ہے کہ اگر ایران کے ساتھ یہ جنگ آج اسی لمحے ختم بھی ہو جائے، تب بھی اس پر 1ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا خرچ آ چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار محض کاغذ پر لکھی سیاہی نہیں، بلکہ اس سرمائے کا نوحہ ہیں جو انسانوں کی فلاح پر لگایا جا سکتا تھا۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی ریاست اپنی قومی سلامتی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی۔ نائن الیون کے حملوں نے امریکی عوام کے دلوں میں جو خوف اور غصہ پیدا کیا، وہ فطری تھا۔ عسکری حکمتِ عملی کے حامی اکثر یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر یہ جنگیں بیرونِ ملک نہ لڑی جاتیں، تو دہشت گردی کے عفریت کو روکنا ناممکن ہو جاتا اور امریکہ کو مزید نائن الیون جیسے سانحات کا سامنا کرنا پڑتا۔ ان کے نزدیک عالمی سطح پر امریکی مفادات کا تحفظ اور’’ دشمن‘‘ کو اس کے اپنے گڑھ میں الجھائے رکھنا ہی ایک محفوظ امریکہ کی ضمانت ہے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہوا؟ کیا طاقت کے اس بے تحاشا اور اندھے استعمال نے دہشت گردی کو ختم کر دیا، یا اسے مزید شاخوں میں بانٹ کر پوری دنیا میں پھیلا دیا؟ حقائق بتاتے ہیں کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ دہشت گردی ایک نظریے کا نام ہے، اور نظریات کو بموں سے نہیں، بلکہ عدل، برابری اور تعلیم سے ختم کیا جاتا ہے۔
ان جنگوں کی قیمت صرف غیر ملکی سرزمین پر ہونے والی تباہی تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تاوان خود امریکی معاشرے کو سماجی تنزلی کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ اپنے ہی عوام کے ٹیکسوں سے اکٹھی کی گئی جو کھربوں ڈالر کی رقم ان ’’ فارایور وارز‘‘ پر جھونکی جا رہی ہے، اس کی ایک بہت بڑی ’’ متبادل قیمت‘‘ ہے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ یہ خطیر رقم کہاں کہاں استعمال ہو سکتی تھی؟ اس سے قومی قرضہ اتارا جا سکتا تھا، یا پھر معاشرے کی ان بنیادی ضروریات پر سرمایہ کاری کی جا سکتی تھی جن میں عوام کی صحت، معیاری اور سستی تعلیم، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے صاف ماحول کی فراہمی، اور بوسیدہ ہوتے ہوئے ملکی انفراسٹرکچر کی تعمیر نو شامل ہے۔ آج کا عام امریکی شہری جب اپنے ملک کے اندر بنیادی سہولیات کو ترستا ہے، تو اسے یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ اس کے حصے کا نوالہ ان جنگی طیاروں کا ایندھن بن چکا ہے جنہیں دنیا کے کسی دور دراز خطے میں موت برسانے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
بات صرف وسائل کے ضیاع کی نہیں، اسلوبِ حکمرانی اور تزویراتی سوچ کی ہے۔ جب ہم جنگی حکمتِ عملی کی بات کرتے ہیں، تو ہم اکثر وہ بنیادی اور سب سے اہم سوالات پوچھنے میں ناکام رہتے ہیں جو ایک زندہ اور باشعور قوم کو پوچھنے چاہئیں۔ ہمیں خود سے اور اپنے حکمرانوں سے پوچھنا ہوگا۔ کیا یہ جنگیں واقعی کسی کو محفوظ بنا رہی ہیں؟، یا یہ محض ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس اور چند مخصوص اشرافیہ کی تجوریوں کو بھرنے کا ایک خون آشام طریقہ ہے؟، کیا طاقت کے استعمال کے علاوہ ہمارے پاس کوئی متبادل موجود نہیں؟۔

جواب دیں

Back to top button