مسئلہ اقتدار نہیں، طرز حکمرانی ہے

مسئلہ اقتدار نہیں، طرز حکمرانی ہے
قادر خا ن یوسفزئی
خیبر پختونخوا اس وقت صرف ایک صوبہ نہیں، پاکستان کے ریاستی شعور کا امتحانی پرچہ بن چکا ہے۔ یہاں اگر سڑک ٹوٹتی ہے تو صرف سفر مشکل نہیں ہوتا، ریاست کی گرفت کمزور پڑتی ہے۔ یہاں اگر تھانے پر اعتماد اٹھ جائے تو قانون کی کتاب نہیں، پورا سماجی معاہدہ ہل جاتا ہے۔ یہاں اگر اسکول، اسپتال، تحصیل اور سیکریٹریٹ ایک دوسرے سے کٹے ہوئے دکھائی دیں تو معاملہ محض انتظامی کوتاہی کا نہیں رہتا، پھر یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ حکومت آخر ہے کہاں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خیبر پختونخوا کے مسائل کو محض ایک جماعت، ایک حکومت یا ایک افسر کی ناکامی سمجھنا خود مسئلے کو چھوٹا کر دینے کے مترادف ہے۔ اصل بحران یہ ہے کہ ہم نے گورننس کو سیاست کا تابع بنا دیا ہے ، حالانکہ سیاست کا اصل امتحان ہی اچھی حکمرانی ہے۔
خیبر پختونخوا میں گورننس کے مسائل کی جڑیں ایک دن میں نہیں پڑیں۔ یہ خرابی برسوں کی غیر تسلسل زدہ پالیسیوں، سکیورٹی کے بوجھ، مرکز اور صوبے کے درمیان اعتماد کی کمی، کمزور بلدیاتی ڈھانچے، سیاسی مداخلت سے متاثرہ انتظامیہ، محدود مالی گنجائش، اور فوری نعرے بازی پر کھڑی سیاست کے ملے جلے اثرات سے پیدا ہوئی ہے۔ صوبہ ایک طرف دہشت گردی کے خطرات سے نبرد آزما ہے، دوسری طرف روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے سوالات سے بھی دوچار ہے۔ ایسے میں اگر حکومت کی توجہ کا بڑا حصہ سیاسی جواب دہی کے بجائے فروعی بقا پر لگ جائے تو عوامی مسائل فائلوں میں دب جاتے ہیں۔ گورننس وہاں خراب ہوتی ہے جہاں فیصلے عوام کی ضرورت کے مطابق نہیں بلکہ سیاسی موسم کے مطابق ہونے لگیں۔
یہ بات بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ خیبر پختونخوا کی انتظامی مشکلات کا ایک بڑا سبب مسلسل عدم استحکام ہے۔ جو صوبہ طویل عرصہ سکیورٹی کی کشمکش سے گزرے، جہاں بعض اضلاع میں ریاستی رٹ کا سوال دوبارہ سر اٹھائے، جہاں سرمایہ کاری خوف کے سائے میں قدم رکھے، وہاں حکومت کو معمول سے زیادہ فعال، مربوط اور جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں الٹا ہوا۔ پالیسی کا تسلسل کمزور رہا، ترجیحات بدلتی رہیں، اور ریاستی مشینری اکثر اس انتظار میں رہی کہ سیاسی ہوا کا رخ کس طرف مڑتا ہے۔ جب حکومت کا اعصاب سیاسی محاذ آرائی میں الجھا ہو تو فلاحی اور انتظامی ڈھانچہ رفتہ رفتہ بے جان ہو جاتا ہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ گورننس صرف وزیراعلیٰ ہاس یا سیکرٹریٹ کے چند کمروں کا نام نہیں۔ ایک اچھا نظام تب بنتا ہے جب پولیس پیشہ ور ہو، بیوروکریسی سیاسی خوف سے آزاد ہو، مقامی حکومتیں بااختیار ہوں، ترقیاتی منصوبے کاغذی نہیں بلکہ زمینی ہوں، اور احتساب کا معیار مخالف اور موافق دونوں کے لئے یکساں ہو۔ خیبر پختونخوا میں اکثر مسئلہ یہ رہا کہ سیاسی ترجیح اور عوامی ضرورت کی درمیان فاصلہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا گیا۔ سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معیشت، امن و امان، صوبائی ہم آہنگی اور عوامی خدمت اس شور میں بہتر نہیں ہوتے جس میں ہر فریق دوسرے کو غدار، نااہل یا ناجائز ثابت کرنے پر تلا ہو۔ حکومت کی ذمہ داری زیادہ ہے کیونکہ اختیار اس کے پاس ہے، لیکن اپوزیشن کی ذمہ داری کم نہیں کیونکہ سیاسی درجہ حرارت کو مسلسل بڑھاتے رہنا بھی قومی خدمت نہیں۔
مثبت پیش رفت کی ابتدا چند بنیادی اصولوں سے ہو سکتی ہے۔ پہلی بات، سیاسی اختلاف کو ریاستی دشمنی میں تبدیل نہ کیا جائے۔ دوسری بات، پارلیمان کو محض رسمی ادارہ نہ رہنے دیا جائے بلکہ قومی اور صوبائی سطح پر بڑے مسائل پر بامعنی مکالمہ ہو۔ تیسری بات، انتخابات، مینڈیٹ، احتجاج اور قانون کی حدود کے بارے میں مشترکہ سیاسی اخلاقیات بنیں۔ چوتھی بات، معیشت، سکیورٹی اور صوبائی خودمختاری جیسے معاملات پر کم از کم قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ یہ کوئی رومانوی بات نہیں، یہ ریاستی بقا کی عملی شرط ہے۔ دنیا کے سنجیدہ نظام اختلاف کو ختم نہیں کرتے، اختلاف کو ادارہ جاتی بناتے ہیں تاکہ وہ نظام کو تباہ کرنے کے بجائے اسے درست کرتا رہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا گورنر راج یا ایمرجنسی خیبر پختونخوا کے مسائل کا حل ہے۔ میرے نزدیک اس سوال کا جواب جذبات سے نہیں، آئینی اور عملی دونوں زاویوں سے دینا چاہیے۔ اگر کسی صوبے میں ایسی غیر معمولی صورت حال پیدا ہو جائے جہاں آئینی مشینری مکمل طور پر مفلوج ہو، جان و مال کا تحفظ ریاست کے معمول کے ڈھانچے سے ممکن نہ رہے، اور منتخب نظام عملی طور پر کام کرنا چھوڑ دے، تو آئین کچھ غیر معمولی راستے ضرور فراہم کرتا ہے۔ لیکن آئینی راستہ اور سیاسی مصلحت ایک چیز نہیں ہوتے۔ گورنر راج یا ایمرجنسی کسی صوبے کے زخم پر مستقل مرہم نہیں، زیادہ سے زیادہ ایک عارضی پٹی ہو سکتی ہے، وہ بھی تب جب زخم کی نوعیت واقعی ایسی ہو کہ معمول کا علاج ناکافی ہو۔ اگر اسے سیاسی مخالف کو بے دخل کرنے، صوبائی مینڈیٹ کو کمزور کرنے یا وقتی برتری حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جائے تو اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، محرومی اور بداعتمادی بڑھتی ہے۔
اس رائے کے مقابل ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ جب صوبائی حکومت امن، انتظام اور عوامی خدمات برقرار رکھنے میں ناکام دکھائی دے تو وفاق کو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھنا چاہیے۔ اس دلیل میں وزن ہے، کیونکہ ریاست کا پہلا فرض شہری کا تحفظ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا غیر معمولی آئینی اقدام آخری چارہ کار کے طور پر زیر غور ہے یا پہلا سیاسی ہتھیار بن چکا ہے۔ اگر مسئلہ انتظامی نااہلی، کمزور رابطہ کاری، ناقص پولیسنگ، محدود وسائل اور سیاسی کشیدگی کا مجموعہ ہو تو اس کا حل وفاقی قبضہ نہیں بلکہ ادارہ جاتی اصلاح، بین الحکومتی تعاون اور جواب دہی کا سخت نظام ہے۔ کسی منتخب صوبائی ڈھانچے کو ایک جھٹکے میں معطل کر دینا آسان فیصلہ ہو سکتا ہے، درست فیصلہ نہیں۔
خیبر پختونخوا سمیت پورے ملک میں گورننس بہتر کرنے کے لئے حکومت اور اپوزیشن کو چند تلخ مگر ضروری فیصلے کرنے ہوں گے۔ سب سے اہم، سیاسی قیادت خود اپنے کارکنوں اور ووٹروں کو یہ پیغام دے کہ ریاستی اداروں کو میدان جنگ نہ بنایا جائے۔ خیبر پختونخوا کو آج ایسے سیاسی شعور کی ضرورت ہے جو یہ سمجھے کہ صوبائی خودمختاری کا مطلب وفاق سے تصادم نہیں، اور وفاقی ذمہ داری کا مطلب صوبائی مینڈیٹ کو روندنا نہیں۔ دونوں کے درمیان تعاون ہی ریاستی توازن پیدا کرتا ہے۔ خیبر پختونخوا کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ حکومت کس کی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ حکمرانی کیسی ہے۔
اگر حکومت سیاسی سنجیدگی دکھائے، اپوزیشن احتجاج کے ساتھ تجویز بھی دے، وفاق صوبے کو سیاسی زاویے سے نہیں بلکہ انتظامی ذمہ داری سے دیکھے، اور صوبائی قیادت عوامی خدمت کو جماعتی برتری پر ترجیح دے، تو بہت سا اندھیرا کم ہو سکتا ہے۔ گورنر راج اور ایمرجنسی ریاست کی الماری میں رکھے وہ سخت اوزار ہیں جنہیں ہر چھوٹے بڑے کام کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ قومیں آئینی شارٹ کٹ سے نہیں، سیاسی بلوغت سے سنبھلتی ہیں۔ سوال اب بھی وہی ہے کہ ہم اقتدار بچانا چاہتے ہیں یا ریاست کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ اگر جواب دوسرا ہے تو پھر راستہ بھی دوسرا ہی اختیار کرنا ہوگا۔







