ColumnImtiaz Aasi

پرامن یا خونی مارچ؟

پرامن یا خونی مارچ؟

 

امتیاز عاصی

دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو سب سے بڑا اور تاریخی مارچ چین کی کیمونسٹ پارٹی کے چیئرمین ماوزئے تنگ نے کیا جس میں ہزاروں کلو میٹر کی مسافت کے دوران انہیں پہاڑوں، دریائوں اور صحراوں سے گزرنا پڑا۔ اس تاریخی مارچ میں کئی ہزار لوگ طویل مسافت یا پھر دریائوں میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ چیئرمین ماوزئے تنگ نے مارچ 1931ء میں مارچ شروع کیا، جس کے نتیجہ میں چین کی سرزمین پر قابض جاپانی، فرانسیسی اور برطانیہ کو وہاں سے نکلنا پڑا۔ گویا دنیا کی تاریخ میں چیئرمین مائو کا مارچ سب سے بڑا اور تاریخی تھا۔ چیئرمین مائو کے مارچ کی خاص بات یہ تھی جس میں کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہوئی اور نہ ہی خون کی ہولی کھیلی گئی۔ اب ہم آتے ہیں اپنے ملک میں ہونے والے لانگ مارچ کی طرف جس کا اعلان پی ٹی آئی نے کر رکھا ہے۔ گو ابھی تک پی ٹی آئی کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لانگ مارچ کے انعقاد پر ڈٹے ہوئے ہیں، لیکن دوسری طرف ان کی اپنی جماعت کے سنیئر رہنما بیرسٹر گوہر آل پارٹیز کانفرنس کی تیاریوں میں ہیں اور دوسری سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کو شرکت کی دعوت دے رہے ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیئر بخاری سے ملاقات کرکے انہیں آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے، جبکہ ان کے ساتھ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس بھی موجود تھے۔ اس سے قبل علامہ ناصر عباس لانگ مارچ کی حمایت کر چکے ہیں، جو اس امر کا غماز ہے وہ لانگ مارچ میں شریک بھی ہوں گے۔ پی ٹی آئی کی ایک صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے اس لانگ مارچ کو خونی مارچ سے منسوب کیا ہے، جو اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے مارچ کے شرکاء کے ساتھ کوئی خاص کھیل کھیلے جانے کا امکان ہے۔ ایک ایسے وقت جب پی ٹی آئی لانگ مارچ کی تیاریوں کے آخری مرحلے پر ہے ایک صوبائی وزیر کا لانگ مارچ کو خونی مارچ سے تشبیہ دینا خطرے کی گھنٹی ہے۔ بیرسٹر گوہر کی یہ بات مجھے اچھی لگی لانگ مارچ میں نہ کوئی حملہ ہوگا نہ کوئی غیر قانونی اقدام ہو گا۔ پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما جنید اکبر کا کہنا ہے جو لوگ مارچ میں شریک نہیں ہوں گے انہیں پارٹی سے خارج کر دیا جائے گا۔ گویا لانگ مارچ جہاں پی ٹی آئی کے لئے درد سر بنا ہوا ہے وہاں پارٹی رہنمائوں کا ایک بڑا امتحان بھی ہے، جس کا حتمی نتیجہ چار اکتوبر کو نکلے گا آیا کون کون سے پارٹی رہنما لانگ مارچ میں شرکت کرتے ہیں، یا پھر راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔ لانگ مارچ کے آغاز میں کسی قسم کا کوئی خدشہ نہیں ہوگا، البتہ اٹک پل سے گزرتے وقت لانگ مارچ کے شرکاء کو مشکلات کا سامنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ وفاقی حکومت نے لانگ مارچ کے شرکاء کو وفاقی دارالحکومت تو بعد کی بات ہے پنجاب میں داخل ہونے سے روکنے کا حتمی فیصلہ کر رکھا ہے۔ ہماری سیاسی جماعتوں کی جلسے جلوسوں او ر مارچ کی تاریخ کوئی حوصلہ افزائی تو نہیں ہے۔ جیسا کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ کا پختہ ارادہ کر چکی ہے، اگر مارچ کے شرکاء خالی ہاتھ اور محض نعروں پر اکتفا کریں تو حکومت کو بھی چاہیے ان کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کرے۔ اگر ہم ماضی کی طرف جائیں تو پی ٹی آئی کا ٹریک ریکارڈ تسلی بخش تو نہیں ہے۔ سانحہ نو مئی جیسا کہ کہا جاتا ہے پی ٹی آئی نے کیا ہے، جس کے بعد سانحہ ڈی چوک پر جو کچھ ہوا وہ بھی ہماری سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ اگر ہماری سیاسی جماعتیں پر امن احتجاج پر یقین رکھیں تو کوئی وجہ نہیں کوئی حکومت سیاسی جماعتوں کو احتجاج سے روکے۔ جہاں تک موجودہ حکومت کی بات ہے وہ پی ٹی آئی سے خائف ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں اگر وہ اسلام آباد پرامن طور پر پہنچ بھی جائیں تو کیا حکومت گر جائے گی؟۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے ملکی تاریخ کا طویل ترین دھرنا ڈی چوک پر دے کر دیکھ لیا کیا نواز شریف کی حکومت دھرنے سے گر گئی تھی ؟۔ اس ناچیز کے خیال میں ملک میں یہ وقت نہ تو دھرنوں اور نہ ہی لانگ مارچ کا ہے۔ ہمارا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، بلوچستان کے حالات سے سبھی واقف ہیں، کے پی کے جو دہشت گردی ہو رہی ہے، ایسے موقع پر سیاسی جماعتوں کو دھرنوں اور لانگ مارچ سے گریز ہی کرنا چاہیے۔ گو پی ٹی آئی کا مارچ کسی عوامی مسئلے کے حل کے لئے نہیں ہے ان کے مارچ کا مطمع نظر بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے۔ ہمیں نہیں یاد پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی سیاسی رہنما کو لانگ مارچ یا پھر دھرنوں سے قید و بند سے آزادی ملی ہو۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو عوام کا کتنا پسندیدہ لیڈر تھا، جب برا وقت آیا تو پیپلز پارٹی کے جیالے بلوں میں گھس گئے، ورنہ جس طرح بھٹو کو عوامی حمایت حاصل تھی عوام سڑکوں پر نکل کر گولی کھانے کو تیار ہو جاتے تو شائد چیئرمین بھٹو تختہ دار پر چڑھنے سے بچ جاتے۔ ہم پھر کہیں گے عمران خان کی مقبولیت اپنی جگہ مگر پاکستان کے عوام سیاست دانوں کے لئے جان کی قربانی دینے کو کبھی تیار نہیں ہوتے، لہذا سیاسی رہنمائوں کو تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے، نہ کہ جذبات کی رو میں دھرنوں لانگ مارچ کی طرف دھیان دینا چاہیے۔ ہم پہلے بھی کئی بار کہہ چکے ہیں بانی پی ٹی آئی کو عدالتوں سے رہائی ملنی ہے۔ قارئین کو اچھی طرح یاد ہوگا نواز شریف اور آصف علی زرداری کے خلاف بے شمار مقدمات قائم کئے گئے جو طاقت ور حلقوں کے ساتھ مفاہمت سے آخر ختم ہوئے۔ نواز شریف لندن سے روانہ ہوئے تو ان کے خلاف مقدمات ختم کرنے کے تمام تر انتظامات ہو چکے تھے، چنانچہ جیسے ہی وہ وطن لوٹے عدالتوں نے ان کے خلاف مقدمات ختم کر دیئے۔ ہم پہلے بھی یہ بات کئی بار کہہ چکے ہیں بانی پی ٹی آئی اپوزیشن میں بیٹھ جاتے تو شائد قید و بند میں نہ ہوتے۔ یہ علیحدہ بات ہے وہ جیل جانے کے بعد عوام میں پہلے سے زیادہ مقبول بن چکے ہیں، پاکستان کے عوام کی ہمدردیاں بانی کے ساتھ ہیں، مگر عوام انہیں رہائی دلانے سے قاصر ہیں، یہی ہماری سیاسی تاریخ کا المیہ ہے۔

جواب دیں

Back to top button