Column

مہنگائی کا تازیانہ اور غریب کا ’’ روٹی کا چکر ‘‘ 

  1. مہنگائی کا تازیانہ اور غریب کا ’’ روٹی کا چکر ‘‘

 

مرزا رضوان

 

ہمارے عوام دوست اور نہایت ہی محب وطن حکمرانوں کی تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل دنیا کی عظیم ترین ’’ معاشی ٹیم ‘‘ نے عوام سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں صبح دوپہر اور شام کے اوقات من چاہی قیمت وصول کرنے کے غریب عوام کے منہ سے روٹی کا مزید ایک اور نوالہ چھیننے کی تیاری کر لی ہے، یعنی غریب آدمی کی نا سیدھی ہونیوالی خم دار کمر پر مزید بوجھ ڈالنے کا فیصلہ زیر غور ہے، ہر بار کی طرح پھر وہی بھیانک خبر، وہی سن کر دم گھٹنے والا احساس اور وہی خاموش خوف جو پاکستان کے کروڑوں غریب، متوسط اور سفید پوش گھرانوں کے صحنوں میں پھیل اور عوام کی رگ رگ میں سیرایت کر چکا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ( نیپرا) کے ایوانوں سے صدا آئی ہے کہ اگست کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (FCA)کی مد میں بجلی کی قیمت میں ایک روپیہ 73پیسے فی یونٹ اضافے کا قوی امکان ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی ( سی پی پی اے) نے باقاعدہ طور پر ایک روپے 72.67پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست جمع کروا دی ہے، جس پر نیپرا میں سماعت کی کارروائی جاری ہے۔ حکمرانوں اور پالیسی سازوں کے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے لیے ’’ ایک روپیہ تہتر پیسے‘‘ محض اعداد و شمار کا معمولی سا کھیل ہوگا، لیکن اس ملک کے عام شہری، دیہاڑی دار اور محدود آمدن والے تنخواہ دار سے پوچھیے، اس کے لیے یہ اضافہ اس کی پہلے سے ٹوٹتی ہوئی کمر پر ایک نیا تازیانہ ہے۔

ہمارے معاشرے کا سب سے دردناک اور گہرا المیہ یہ بن چکا ہے کہ عام آدمی کو ایک محتاط اور منظم نظام کے تحت’’ روٹی کے چکر‘‘ سے باہر نکلنے ہی نہیں دیا جاتا۔ جب بھی کوئی محنت کش اپنی سخت محنت اور خون پسینے کے بل بوتے پر اپنے بچوں کے لیے بہتر تعلیم، معقول علاج یا زندگی میں دو پل کے سکون کا خواب دیکھنے کی ہمت کرتا ہے، تو حکومت کی جانب سے ٹیکس، لیوی، ڈیوٹی یا فیول ایڈجسٹمنٹ کا نیا بم گرا کر اسے واپس اسی بنیادی وجودی جنگ میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ بجلی کا بل اب محض کسی بنیادی سہولت کا عام چالان نہیں رہا، بلکہ یہ غریب کے اعصاب پر لٹکتی ہوئی وہ زنگ آلود تلوار بن چکا ہے جو ہر مہینے کی آخری تاریخوں میں اس کا چین، نیند اور ذہنی سکون چھین لیتی ہے۔ ایک عام انسان صبح سے شام تک مشقت کی بھٹی میں صرف اس لیے جلتا ہے کہ رات کو اپنے بچوں کے سامنے دو وقت کی روٹی رکھ سکے، لیکن بجلی اور ایندھن کے نرخوں میں مسلسل اضافہ اس کے بچوں کے منہ سے وہ نوالہ بھی چھین لیتا ہے۔

اس تمام تر معاشی تباہ کاری اور عوام پر ڈالی جانے والی مصیبت کا سب سے گھنائونا اور شرمناک پہلو ہمارے حکمران طبقات، سیاست دانوں اور بیوروکریسی کی شاہانہ عیاشیاں اور بے باک شاہ خرچیاں ہیں۔ ایک طرف ٹیلی ویعن کے پردوں اور پریس کانفرنسوں کے ذریعے عوام کو سادگی، صبر، قربانی اور ’’ قومی مفاد‘‘ کے لمبے لمبے اور دلکش وعظ سنائے جاتے ہیں، تو دوسری طرف سرکاری ایوانوں کے جاہ و جلال، شاہانہ پروٹوکولز، بلٹ پروف گاڑیوں کے قافلوں اور اشرافیہ کی مفت مراعات کے کروفر میں ایک روپے کی بھی کمی دیکھنے کو نہیں ملتی۔ وزرائ، بیوروکریٹس اور بااثر شخصیات کو دی جانے والی مفت بجلی، مفت پیٹرول، لامحدود الائونسز اور اربوں روپے کے نجی دورے آج بھی اسی شاہانہ انداز میں جاری و ساریں ہیں، جبکہ اس تمام تر عیاشی کا حساب اور خرچ اس مفلوک الحال شہری کی جیب سے سمیٹا جاتا ہے جس کے اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے ایندھن باقی نہیں بچا۔

عوام کو ہر بار یہ من گھڑت منطق سنا کر خاموش کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں یا بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ لیکن کوئی ایوانِ اقتدار میں بیٹھا شخص یہ جواب دینے کی ہمت نہیں کرتا کہ آئی پی پیز (IPPs)کے ساتھ کیے گئے ظالمانہ اور یکطرفہ معاہدوں اور اربوں روپے کی ’’ کیپیسٹی پیمنٹس‘‘ کا تاوان عام شہری کیوں بھرے؟ بجلی چوری، انتظامی ناہلی، ناقص انفراسٹرکچر اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے لائن لاسز کا خمیازہ وہ ایماندار غریب صارف کیوں بھگتے جو اپنی حلال کی کمائی سے بجلی کے ایک ایک یونٹ کا بل ادا کرتا ہے؟ غلط معاہدے حکومتیں کریں، کرپشن اور چوری کے سکینڈل انتظامیہ کے سر ہوں، مگر سزا ہمیشہ اس عوام کو دی جائے جو پہلے ہی مہنگائی کے سنگین دبائو میں سسک رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ریاست میں معاشی اصلاحات کا آغاز ہمیشہ اقتدار کے ایوانوں اور حکمرانوں کی اپنی جیبوں اور مراعات سے ہونا چاہیے۔ جب تک شاہانہ محلوں کے اخراجات میں کٹوتی نہیں کی جاتی، غیر ضروری دوروں پر پابندی نہیں لگائی جاتی، اور بیوروکریسی و وزراء کی مفت مراعات کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا، تب تک عوام پر ایک روپے کا بھی نیا بوجھ ڈالنا معاشی تدبیر نہیں بلکہ کھلا ظلم اور ناانصافی ہے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی ضروریات فراہم کرنے میں ناکام ہے تو اسے ان کے منہ سے آخری نوالہ چھیننے کا بھی کوئی اخلاقی یا قانونی حق حاصل نہیں ہونا چاہیے۔

اگر یہی رویہ برقرار رہا اور پاکستان کے محنت کش طبقے کو یونہی محض سانس لینے اور صرف پیٹ بھرنے کی مسلسل جدوجہد میں الجھائے رکھا گیا، تو قوم کی ترقی اور معاشی استحکام کے تمام تر دعوے محض کاغذی اور بے معنی ثابت ہوں گے۔ عوام کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو رہا ہے، اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے پالیسی سازوں کو یہ تلخ سچائی اب سمجھ لینی چاہیے کہ جب روٹی اور تن ڈھانپنے کی بنیادی جنگ انسان کو مایوسی کے آخری کنارے پر پہنچا دے، تو پھر خاموش سسکیاں ایک دن ایسا احتجاج اور طوفان بن جاتی ہیں، جسے سنبھالنا کسی بھی جابرانہ نظام کے بس میں نہیں رہتا۔

جواب دیں

Back to top button