ColumnQadir Khan

امریکی جمہوریت کا طلسمِ ہوش ربا نظام

امریکی جمہوریت کا طلسمِ ہوش ربا نظام
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
دور سے دیکھیے تو واشنگٹن ڈی سی کی سیاست ایک سڈول، شفاف اور انتہائی منظم مشینری کی طرح کام کرتی محسوس ہوتی ہے۔ ترقی پذیر دنیا کے باسیوں کو ایسا لگتا ہے جیسے دنیا کی سب سے طاقتور ریاست کے فیصلے محض عوام کی انگلیوں کے اشارے پر کٹھ پتلیوں کی طرح ناچتے ہیں، جہاں شفافیت کا دور دورہ ہے اور ہر ووٹر کا ماتھا چوما جاتا ہے۔ لیکن جب آپ اس سراب کے قریب جاتے ہیں اور اس سیاسی ساخت کو خوردبین لگا کر دیکھتے ہیں، تو ریاست ہائے متحدہ کا جمہوری بندوبست ایک ایسا پیچیدہ گورکھ دھندا دکھائی دیتا ہے جس کی گتھیاں سلجھانا کسی عام فہم انسان کے بس کی بات نہیں۔ یہ کوئی ہموار شاہراہ نہیں، بلکہ ایک ایسی بھول بھلیاں ہے جہاں وفاقی طاقت، ریاستی خود مختاری، بے تحاشا سرمایہ اور عدالتی فیصلوں کا ایک عجیب و غریب ملغوبہ ابھر کر سامنے آتا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کا راستہ اتنا سیدھا نہیں جتنا اخبارات کے سرورق پر چھپتا ہے، بلکہ یہ ایک کٹھن اور تھکا دینے والی مسافت ہے جس میں ہر قدم پر نئے ضابطے اور نئی رکاوٹیں کھڑی ہوتی ہیں۔
اسی پس منظر میں، جب ہم مڈٹرم الیکشنز کی طرف دیکھتے ہیں، تو یہ محض اقتدار کی روایتی میوزیکل چیئر کا حصہ محسوس نہیں ہوتے۔ میری دانست میں، یہ معرکہ اس بوسیدہ مگر پراسرار حد تک لچکدار نظام کا ایک کڑا امتحان ہے۔ یہ صرف کانگریس کی کرسیوں کی بند بانٹ کا موقع نہیں، بلکہ موجودہ صدارتی دورِ حکومت کے عین وسط میں عوام کی نبض چیک کرنے کا وہ بے رحم پیمانہ ہے جو پل بھر میں واشنگٹن کے اقتدار کا توازن الٹ کر رکھ سکتا ہے۔ وسط مدتی انتخابات دراصل ایک ایسا سیاسی بیرومیٹر ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ عوام کے دلوں میں حکمرانوں کے لیے جو جذبات ابل رہے ہیں، وہ کس حد تک قانون سازی کے ایوانوں میں طوفان برپا کر سکتے ہیں۔
اس پورے نظام کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کی بنیادوں پر نظر دوڑانی ہوگی، جہاں آئین سازوں نے جان بوجھ کر اختیارات کو اس طرح بانٹا ہے کہ کوئی ایک ادارہ پورے ملک کو ہانک نہ سکے۔ قانون سازی کا سب سے بڑا گڑھ، کانگریس، دو مختلف دنیائوں میں منقسم ہے۔ ایک طرف ایوانِ نمائندگان ہے، جس کے ارکان ہر دو سال بعد اپنی بقا کی جنگ لڑتے ہیں۔ آپ ذرا تصور کریں، ایک سیاست دان منتخب ہو کر ایوان میں پہنچتا ہے اور حلف اٹھاتے ہی اسے اگلے الیکشن کی فکر ستانے لگتی ہے۔ وہ قانون کیا بنائے گا، جب اس کی آدھی توانائی چندہ اکٹھا کرنے اور اپنے حلقے کے ناراض ووٹروں کے ترلے منتیں کرنے میں صرف ہو جائے گی؟ یہ دو سالہ دورانیہ انہیں عوام کے ہر بدلتے موڈ کا غلام بنا دیتا ہے۔ دوسری جانب سینیٹ کا حال دیکھیے، جو قدرے شاہانہ طرزِ عمل کا حامل ادارہ ہے۔ وہاں بیٹھے افراد چھ سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں اور ہر دو سال بعد صرف ایک تہائی ارکان انتخابی بھٹی سے گزرتے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ دلچسپ اور حیران کن پہلو صدارتی کرسی تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ دنیا بھر میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ جمہوریت کا مطلب اکثریت کی حکمرانی ہے، مگر امریکہ میں صدارتی امیدوار کا فیصلہ براہِ راست عوام کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ یہاں ’’ الیکٹورل کالج‘‘ نامی ایک ایسا ادارہ موجود ہے جو بعض اوقات جمہوریت کے بنیادی اصول، یعنی ہر فرد کا ایک ووٹ، کے پرخچے اڑا دیتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کئی بار وہ امیدوار وائٹ ہاس کے مسند پر براجمان ہوا جسی ملکی سطح پر کم عوام نے ووٹ دیے تھے، محض اس لیے کہ اس نے مخصوص اور فیصلہ کن ریاستوں میں مطلوبہ الیکٹورل ہندسہ پار کر لیا تھا۔ یہ کیسی منطق ہے کہ ایک شخص کے لاکھوں ووٹ ردی کی ٹوکری میں چلے جائیں اور کوئی دوسرا محض انتخابی ریاضی کے بل بوتے پر تختِ نشین ہو جائے؟ سنہ 2022ء میں ہونے والی قانون سازی کے ذریعے اس نظام کی خامیوں کو پیوند لگانے کی کوشش تو کی گئی تاکہ تصدیق کے عمل میں ابہام دور ہو، مگر یہ محض چہرے کی جھریاں چھپانے والی بات ہے، اصل ڈھانچہ آج بھی وہی پرانا ہے۔
بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی۔ امیدواروں کو میدان میں لانے کا طریقہ کار بذاتِ خود ایک طویل اور تھکا دینے والا سلسلہ ہے۔ پرائمری اور کاکس کے نام پر سیاسی جماعتیں مہینوں تک اپنے ہی گھر میں جوتم پیزار کا منظر پیش کرتی ہیں۔ تین نومبر 2026ء کے حتمی معرکے سے بہت پہلے، مختلف ریاستوں میں امیدواروں کے درمیان اندرونی لڑائیاں لڑی جائیں گی۔ مثال کے طور پر، حلقہ بندیوں کے تنازعات کی وجہ سے بعض ریاستوں ( جیسے کہ جنوبی ریاستوں میں) عدالتی احکامات کی روشنی میں پرائمری انتخابات کے شیڈول اور نقشوں تک میں تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں۔ یہ اندرونی انتخابات اس قدر نظریاتی اور تلخ ہو چکے ہیں کہ اکثر اوقات اعتدال پسند اور مفاہمت کی بات کرنے والے امیدوار کو اس کی اپنی پارٹی کے کٹر حامی باہر کا راستہ دکھا دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام انتخابات تک پہنچنے والے اکثر چہرے سیاسی انتہا پسندی کے نمائندے بن چکے ہوتے ہیں۔ اور جب عام انتخابات کا دن آتا ہے تو ووٹر کے سامنے صرف صدر یا کانگریس کے ارکان کی فہرست نہیں ہوتی، بلکہ گورنرز، مقامی عہدیداروں اور بیسیوں پالیسی سوالات کا ایک پلندہ تھما دیا جاتا ہے۔ مقامی سطح پر یہ نظام اس قدر بکھرا ہوا ہے کہ اس کا کوئی ایک والی وارث نہیں۔ ہر ریاست بلکہ ہر کائونٹی کے اپنے ضابطے ہیں۔ کہیں قبل از وقت ووٹ ڈالنا آسان ہے تو کہیں ووٹر کی شناخت کے نام پر اتنی کڑی شرائط عائد کر دی جاتی ہیں کہ عام اور غریب شہری کا حقِ رائے دہی عملاً سلب ہو جاتا ہے۔ مزید ستم یہ کہ کارپوریٹ سرمائے اور پوشیدہ فنڈز ( ڈارک منی) نے انتخابی عمل کو ایک ایسی منڈی میں تبدیل کر دیا ہے جہاں غریب کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز بن کر رہ گئی ہے۔ جب اربوں ڈالر چند مخصوص حلقوں پر بہا دئیے جائیں، تو کیا ہم واقعی اسے عوام کی آزادانہ رائے کہہ سکتے ہیں؟
یہاں یہ دلیل دی جا سکتی ہے، اور بعض سیاسی مفکرین دیتے بھی ہیں، کہ یہ بکھرا ہوا اور سست رفتار نظام دراصل امریکی جمہوریت کا نقص نہیں بلکہ اس کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر نظام بہت تیز اور سادہ ہوتا، تو کوئی بھی مقبول اور کرشماتی لیڈر عوام کے عارضی جذبات سے کھیل کر چند روز میں پورے ریاستی ڈھانچے پر قابض ہو سکتا تھا۔ ان کے نزدیک الیکٹورل کالج چھوٹی اور کم آبادی والی ریاستوں کو بڑی ریاستوں کی غنڈہ گردی سے بچاتا ہے، اور کانگریس کا پیچیدہ نظام اس بات کی ضمانت ہے کہ کوئی بھی قانون بغیر سخت چھان پھٹک اور بحث کے منظور نہ ہو۔ ایک حد تک یہ موقف وزن رکھتا ہے۔ یقیناً ریاست ہائے متحدہ کے بانیوں نے کسی مطلق العنان بادشاہ یا اکثریت کی آمریت سے بچنے کے لیے ہی یہ دیواریں کھڑی کی تھیں۔ یہ نظام مقامی مسائل کو قومی سطح پر ابھرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button