Column

سندھ اسمبلی کا دوٹوک مطالبہ، پٹرولیم لیوی ختم کرو اور عوام کو ریلیف دو

سندھ اسمبلی کا دوٹوک مطالبہ، پٹرولیم لیوی ختم کرو اور عوام کو ریلیف دو
غلام مصطفیٰ جمالی
پاکستان میں مہنگائی کا مسئلہ اب محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ عام آدمی کی روزمرہ زندگی کا سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے۔ گھر سے نکلنے والا مزدور ہو، موٹر سائیکل پر دفتر جانے والا ملازم ہو، رکشہ چلانے والا ہو، چھوٹا دکاندار ہو یا محدود آمدنی میں بچوں کا گھر چلانے والا شخص، پٹرول کی قیمت میں معمولی سا اضافہ بھی اس کے پورے ماہانہ بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ اسمبلی کی جانب سے وفاقی حکومت سے پٹرولیم لیوی سمیت غیر ضروری وصولیاں فوری ختم کرنے کا مطالبہ ایک اہم سیاسی اور عوامی آواز بن کر سامنے آیا ہے۔
سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور ہوئی، جس کے بعد سندھ اسمبلی کے سیکرٹری نے وفاقی وزارتِ پٹرولیم کو باقاعدہ مراسلہ بھی ارسال کیا۔ قرارداد میں موقف اختیار کیا گیا کہ پٹرول کی اصل قیمت کے مقابلے میں عوام سے مختلف مدات کے نام پر بھاری رقم وصول کی جا رہی ہے۔ قرارداد کے مطابق پٹرول کی قیمت میں پٹرولیم لیوی کے علاوہ ماحولیاتی لیوی اور مختلف مارجنز بھی شامل ہیں، جس سے عوام پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔
یہاں اصل سوال یہ ہے کہ جب عوام پہلے ہی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں، گیس کے اخراجات، اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتوں اور روزگار کے محدود مواقع سے پریشان ہیں تو پھر پٹرول پر مسلسل اضافی بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہی؟ حکومت کے لیے محصولات حاصل کرنا یقیناً ضروری ہے، ریاستی معاملات وسائل کے بغیر نہیں چل سکتے، لیکن ٹیکس اور لیوی کا ایسا نظام جو عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دے، اس پر نظرثانی کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
پٹرول صرف گاڑیوں کے ٹینک میں نہیں جاتا، پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کا اثر پورے معاشی نظام پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھتے ہیں، سبزی، پھل، آٹا، دودھ اور دیگر اشیائے ضروریہ کی ترسیل مہنگی ہوتی ہے، دکاندار اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے قیمتیں بڑھاتے ہیں اور بالآخر سارا بوجھ صارف کے کندھوں پر آ جاتا ہے۔ ایک مزدور جو پہلے ہی محدود اجرت پر اپنے گھر کا چولہا جلا رہا ہوتا ہے، اسے سفر کے لیے زیادہ رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ یوں پٹرول کی قیمت میں اضافہ براہ راست اور بالواسطہ دونوں طریقوں سے عوام کی جیب خالی کرتا ہے۔
سندھ اسمبلی کا مطالبہ اس لیے بھی اہم ہے کہ مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر کم اور متوسط آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے۔ بڑے کاروباری ادارے بعض اوقات اضافی اخراجات کو اپنی قیمتوں میں منتقل کر دیتے ہیں، لیکن دیہاڑی دار مزدور کے پاس اپنی آمدنی بڑھانے کا کوئی فوری ذریعہ نہیں ہوتا۔ ایک طرف بچوں کی تعلیم، گھر کا کرایہ، بجلی اور گیس کے بل، علاج اور خوراک کے اخراجات ہیں اور دوسری طرف سفر اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں۔ ایسے حالات میں حکومت کی طرف سے ریلیف محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ حقیقی ضرورت بن جاتا ہے۔
سندھ کے شہری علاقوں سے لے کر دیہی علاقوں تک پٹرول کی قیمت ہر شخص کو متاثر کرتی ہے۔ کراچی میں روزانہ ہزاروں لوگ بسوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور دیگر ذرائع سے سفر کرتے ہیں، جبکہ اندرونِ سندھ میں کسان، چھوٹے کاروباری افراد اور دیہی آبادی اپنی نقل و حرکت اور معاشی سرگرمیوں کے لیے ایندھن پر انحصار کرتی ہے۔ ٹریکٹر، زرعی مشینری، پانی کے پمپ اور سامان کی ترسیل تک پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے ایندھن مہنگا ہونا صرف شہری مسئلہ نہیں بلکہ زراعت اور دیہی معیشت کا مسئلہ بھی ہے۔
خاص طور پر سندھ کے کسان کے لیے ڈیزل کی قیمت انتہائی اہم ہے۔ کھیت تیار کرنے سے لے کر پانی لگانے، فصل کی کٹائی اور منڈی تک پیداوار پہنچانے تک کئی مراحل میں ایندھن استعمال ہوتا ہے۔ جب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو کسان کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے اور اس کا اثر آخرکار صارف تک پہنچتا ہے۔ اگر حکومت واقعی مہنگائی کم کرنا چاہتی ہے تو اسے صرف بازار میں قیمتیں چیک کرنے کے بجائے ان بنیادی عوامل پر بھی توجہ دینا ہوگی جو قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کو مالی مشکلات کا سامنا ہے اور حکومت کو ملکی اخراجات پورے کرنے کے لیے مختلف ذرائع سے آمدنی حاصل کرنا پڑتی ہے۔ لیکن عوام یہ سوال ضرور پوچھ سکتے ہیں کہ محصولات کا سب سے بڑا بوجھ ہمیشہ عام صارف ہی کیوں برداشت کرے؟ کیا ٹیکس وصولی کا ایسا متوازن نظام نہیں بنایا جا سکتا جس میں کم آمدنی والے طبقے کو کم سے کم نقصان ہو؟ کیا غیر ضروری اخراجات کم نہیں کیے جا سکتے؟ کیا سرکاری اداروں میں بچت اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے عوام پر بوجھ کم نہیں کیا جا سکتا؟۔
سندھ اسمبلی کی قرارداد کو صرف ایک سیاسی قرارداد سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ اس عوامی بے چینی کی ترجمانی کرتی ہے جو مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پیدا ہو رہی ہے۔ حکومت اور وفاقی وزارتِ پٹرولیم کو اس مطالبے کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے اور عوام کو واضح کرنا چاہیے کہ پٹرول کی قیمت میں کون کون سے ٹیکس، لیوی، مارجنز اور دیگر اخراجات شامل ہیں۔ شفافیت سے عوام کا اعتماد بڑھتا ہے اور غلط فہمیوں کی گنجائش کم ہوتی ہے۔
عوام یہ نہیں کہتے کہ ریاست کو کوئی ٹیکس نہیں لینا چاہیے۔ عوام کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ ان پر اتنا بوجھ نہ ڈالا جائے، جسے برداشت کرنا ان کے لیے ممکن ہی نہ رہے۔ ٹیکس کا نظام ایسا ہونا چاہیے جو معیشت کو مضبوط کرے، نہ کہ عام آدمی کی قوتِ خرید ختم کر دے۔ اگر ایک خاندان اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک، بجلی، گیس، سفر اور دیگر بنیادی ضروریات پر خرچ کر دے تو اس کے پاس تعلیم، صحت، بچت اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے کیا باقی بچے گا؟۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاقی حکومت سندھ اسمبلی کے مطالبے کو سنجیدگی سے لے اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد تمام مدات کا دوبارہ جائزہ لے۔ جہاں غیر ضروری وصولیاں ہیں، انہیں ختم کیا جائے، جہاں شرح کم کی جا سکتی ہے وہاں کمی کی جائے اور عوام کو حقیقی ریلیف دیا جائے۔ حکومت اگر مشکل معاشی حالات میں عوام سے قربانی مانگتی ہے تو اسے خود بھی سادگی، کفایت شعاری اور اخراجات میں کمی کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا۔
پاکستان کی معیشت اس وقت استحکام کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن معاشی استحکام کا اصل فائدہ اس وقت ہوگا جب اس کا اثر عام شہری کی زندگی میں بھی نظر آئے۔ صرف مالیاتی اعداد و شمار بہتر ہونا کافی نہیں، اگر بازار میں مہنگائی برقرار رہی اور شہری کی جیب خالی ہوتی جائے تو معاشی ترقی کا احساس عوام تک نہیں پہنچ سکتا۔
سندھ اسمبلی کا دوٹوک مطالبہ دراصل ایک بنیادی سوال اٹھاتا ہے: ریاست کی آمدنی بڑھانے کا بوجھ آخر کب تک عام آدمی اٹھاتا رہے گا؟ پٹرولیم لیوی اور دیگر وصولیوں کا فیصلہ کرتے وقت حکومت کو صرف خزانے کی آمدنی نہیں بلکہ عوام کی برداشت کی حد بھی دیکھنا ہوگی۔ کیونکہ ایک ایسا نظام جس میں عوام مسلسل مہنگائی کے نیچے دبتے جائیں، طویل مدت میں نہ معیشت کے لیے بہتر ہے اور نہ حکومت کے لیے۔
اب وقت ہے کہ پٹرول کو صرف محصولات کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی زندگی کی بنیادی ضرورت سمجھا جائے۔ سندھ اسمبلی کی آواز کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے وفاقی حکومت اگر پٹرولیم لیوی اور غیر ضروری وصولیوں میں کمی یا خاتمے کی طرف عملی قدم اٹھاتی ہے تو یہ صرف سندھ کے عوام نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عام شہری کے لیے ریلیف کا باعث بن سکتا ہے۔ عوام کو وعدوں سے زیادہ عملی ریلیف چاہیے، اور آج اس ریلیف کا ایک اہم راستہ پٹرولیم مصنوعات پر غیر ضروری بوجھ کم کرنے سے ہو کر گزرتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button