Column

اقوام متحدہ میں کشمیریوں کا مقدمہ اور بھارت کا دوہرا معیار

اقوام متحدہ میں کشمیریوں کا مقدمہ اور بھارت کا دوہرا معیار
حروف بے زباں
مرزا رضوان
سفارت کاری اور عالمی سیاست کی تاریخ میں بسا اوقات ایک خاموش نقشہ وہ عظیم کام انجام دے جاتا ہے، جو سالہا سال کی طویل تقاریر، جارحانہ بیانیے اور اربوں ڈالر کا ریاستی پروپیگنڈا مل کر بھی انجام نہیں دے پاتے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں حال ہی میں منظور ہونے والی ایک اہم قرارداد نے عالمی منظر نامے پر ایسی ہی ایک سفارتی تھرتھلی مچا دی ہے۔ اقوام متحدہ نے روایتی مرکیٹر (Mercator)نقشے کی جگہ دنیا کے جغرافیائی تناسب کو درست طور پر پیش کرنے والے ’’ ایکول ارتھ‘‘ (Equal Earth)معیاری نقشے کو باضابطہ طور پر اپنانے کی منظوری دے دی ہے۔ اس قرارداد کی حمایت میں بھارت سمیت 164ممالک نے ووٹ دیا۔ لیکن اس تکنیکی اور سائنسی تبدیلی کے پیچھے ایک ایسا سفارتی بم چھپا ہوا تھا جس نے نئی دہلی کے دہائیوں پر محیط تمام سیاسی دعووں کے محل کو ریت کی دیوار ثابت کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے پیش کیے گئے اس نئے عالمی معیاری نقشے میں کشمیر کو واضح طور پر ایک ’’ متنازع علاقہ‘‘(Disputed Territory) قرار دیا گیا ہے، جبکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان قائم لائن آف کنٹرول (LoC)کو ایک نکتہ دار (Dotted)لکیر سے نمایاں کیا گیا ہے۔ بھارتی حکمران کئی دہائیوں سے دنیا بھر کے سامنے یہ راگ الاپتے چلے آ رہے ہیں کہ کشمیر ان کا ’’ اٹوٹ انگ‘‘ ہے اور یہ کہ وادی کا معاملہ بھارت کا ایک بالکل ’’ اندرونی معاملہ‘‘ ہے۔ لیکن جب اقوام متحدہ میں کشمیر کو متنازع دکھانے والے نقشے پر رائے شماری ہوئی، تو بھارت نے خود اس کے حق میں ووٹ دے کر اپنے ہی خود ساختہ اور نعرے بازی پر مبنی بیانیے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔ یہ ایک ایسا تاریخی اور سفارتی دھچکا ہے جس سے نئی دہلی کی عالمی فورمز پر پیش کی جانے والی نام نہاد خودسری اور دعوئوں کا کھوکھلا پن کھلے عام سامنے آ گیا ہے۔
یہاں بھارت کا دوہرا معیار اور منافقت کھل کر سامنے آتی ہے۔ اپنے ملک کے اندر نئی دہلی نے نقشہ جات سے متعلق انتہائی جابرانہ قوانین نافذ کر رکھے ہیں۔ کسی عالمی ادارے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم، ٹیکنالوجی کمپنی یا بین الاقوامی نشریاتی ادارے نے اگر کشمیر کو بھارت کے نقشے سے الگ یا متنازع دکھانے کی کوشش کی، تو بھارتی حکومت ان پر سخت اقتصادی اور قانونی پابندیاں عائد کرتی ہے اور ان کے دفاتر بند کرنے کی دھمکیاں دیتی ہے۔ لیکن اسی بھارت نے اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین ایوان میں جا کر خاموشی سے اس نقشے کے حق میں ووٹ دے دیا جو کشمیر کی متنازع حیثیت کی عالمی سطح پر توثیق کرتا ہے۔
جب اس پیش رفت کی خبر بھارت کے اندر عام ہوئی تو وہاں کے اپوزیشن رہنمائوں، میڈیا اور عام عوام کی جانب سے مودی حکومت پر سخت تنقید کا طوفان امڈ آیا۔ عوام نے سوال اٹھایا کہ اگر بھارت کشمیر کو اپنا لازمی حصہ مانتا ہے، تو اس نے عالمی نقشے میں اسے متنازع دکھانے پر اعتراض کیوں نہیں اٹھایا؟ اس شدید اندرونی اور بیرونی دبا کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کو مجبورا ایک انتہائی مبہم اور لچر وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا۔ بھارتی وزیر خارجہ نے یہ عذر تراشا کہ بھارت نے ووٹ صرف نقشے کے ’’ جغرافیائی تناسب‘‘ (Geographical Proportions)کی حمایت میں دیا تھا، اس میں دکھائی گئی سرحدوں کی حمایت نہیں کی۔ لیکن یہ مضحکہ خیز وضاحت بھارتی حکومت کے تضاد کو چھپانے میں ناکام رہی۔ دنیا نے سوال اٹھایا کہ اگر سرحدوں کی نشاندہی پر اعتراض تھا، تو ووٹنگ کے وقت باضابطہ تحفظات (Reservations)درج کیوں نہ کرائے گئے؟
کشمیر محض نقشے پر کھینچی گئی لکیروں یا جغرافیائی تناسب کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ کروڑوں کشمیری مسلمانوں کی زندگی، آزادی اور ان کی انسانی کرامت کا معاملہ ہے۔ بھارت کا یہ سفارتی تضاد اس حقیقت پر سے پردہ اٹھاتا ہے کہ وہ جس سرزمین کو زبردستی اپنا ’’ اٹوٹ انگ‘‘ قرار دیتا ہے، وہاں کے رہنے والے مسلمانوں پر اس نے کتنا بھیانک اور روح فرسا ظلم و ستم ڈھا رکھا ہے۔ اگست 2019ء میں آرٹیکل 370 اور 35۔ اے کو یکطرفہ طور پر منسوخ کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے، وادی کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
مقبوضہ وادی میں روزانہ کی بنیاد پر بے گناہ مسلمانوں کا ناحق خون بہایا جا رہا ہے۔ بھارتی ملٹری اور پیرا ملٹری فورسز کی جانب سے معصوم کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں (Fake Encounters)میں شہید کیا جاتا ہے، چادر و چار دیواری کا تقدس پامال ہوتا ہے، اور پیلٹ گنوں (Pellet Guns)کے وحشیانہ استعمال سے ہزاروں بچوں اور نوجوانوں کو ہمیشہ کے لیے بصارت سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ہزاروں حریت رہنما اور عام کشمیری مسلمان بلا جواز قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، بھارت ڈومیسائل قوانین میں غیر قانونی تبدیلیاں کر کے غیر کشمیریوں کو وادی میں بسانے اور مقبوضہ علاقائی آبادیاتی تناسب (Demographic Balance)کو تبدیل کر کے کشمیری مسلمانوں کو اپنے ہی وطن میں اقلیت میں بدلنے کی مذموم سازشوں میں مصروف ہے۔ یہ وہ بھیانک مظالم ہیں جنہیں بھارت دنیا کی نظروں سے چھپانے کے لیے نقشہ جات کی آڑ میں حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے، لیکن اقوام متحدہ کے اس اقدام نے دنیا کو ایک بار پھر یاد دلا دیا ہے کہ کشمیر کا مقدمہ ابھی زندہ ہے اور اس کا حل باقی ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھارتی وزارت خارجہ کی بودی وضاحت کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے ایک اصولی موقف اختیار کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کا منظور کردہ ’’ ایکول ارتھ‘‘ نقشہ ہی اب عالمی سطح پر واحد مستند اور قابل قبول نقشہ ہے، اور کشمیر کی متنازع حیثیت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں پہلے ہی تسلیم کر چکی ہیں۔ اقوام متحدہ کے اس معیاری نقشے اور اس پر بھارتی ووٹ نے کشمیر سے متعلق پاکستان کے اس موقف پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ کشمیریوں کا حقِ خودارادیت ایک عالمی حقیقت ہے جسے کوئی بھی ملک یکطرفہ اقدامات سے ختم نہیں کر سکتا۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ بھارت جتنا بھی زور لگا لے، فوجی طاقت، جبر اور سیاہ قوانین کے ذریعے کروڑوں مسلمانوں کو مستقل غلام بنانے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ اقوام متحدہ میں بھارت کا یہ سفارتی حادثہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے۔ نقشے پر نکتہ دار لکیر صرف ایک سرحد کی نشاندہی نہیں کرتی، بلکہ یہ ان لاکھوں شہدائے کشمیر کے خون اور ان کے اس عزم کی علامت ہے جو حق اور سچائی کی فتح کا منتظر ہے۔ عالمی برادری پر اب یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نقشے کی اس تصحیح کو محض ایک دفتری کاغذ کا ٹکڑا نہ سمجھے، بلکہ مقبوضہ وادی میں جاری بھارتی مظالم کا نوٹس لیتے ہوئے کشمیریوں کو ان کا جائز اور بنیادی حقِ خودارادیت دلانے کے لیے اپنا عملی کردار ادا کرے۔

جواب دیں

Back to top button