مکہ معاہدہ یا سفارتی حل

مکہ معاہدہ یا سفارتی حل
تحریر : محمد مبشر انوار(ریاض)
امریکی نیوز ویب سائٹ AXIOSکی خبر کے مطابق سعودی ولی شہزادہ عہد محمد بن سلمان نے علاقائی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے، اور سعودی جنوبی سرحدی علاقوں پر یمنی حوثیوں ؍ انصار اللہ کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پیش نظر ، دو مرتبہ امریکی صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے اور حوثیوں کے خلاف براہ راست کارروائی کرنے کے لئے زور دیا ہے لیکن امریکی صدر کی جانب سے حوثیوں کے خلاف براہ راست کارروائی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ پس پردہ کھیل کی پرتیں کھلنا شروع ہو چکی ہیں اور یمن میں جو کھیل کھیلا جارہا تھا اس کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں گو کہ کھیل کے نتائج، کھلاڑیوں کی منصوبہ بندی کے مطابق سامنے نہیں آرہے لیکن پھر بھی جو مطلوب تھا، کسی اور انداز میں روپذیر ہو رہا ہے۔ جو کھیل یمن میں کھیلا جارہا تھا، اس میں ایک طرف سدرن ٹرانزیشنل کونسل ( ایس ٹس سی) تھی، جسے بیک وقت متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی حمایت حاصل رہی ہے تو دوسری طرف حوثیوں کی تنظیم انصار اللہ تھی، جسے ایران کی بھرپور حمایت حاصل ہے گو کہ یمن میں سعودی عرب اور امارات ایک ہی تنظیم کی حمایت کر رہے تھے مگر دونوں ریاستوں کے مفادات مختلف تھے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ سعودی عرب کسی بھی صورت یہ نہیں چاہتا کہ اس کے جنوبی حصے میں کوئی تنظیم مضبوط بنیادوں پر استوار ہو ،جس سے سعودی عرب کی سلامتی و تجارت کو خطرہ لاحق ہو مگر اس کھیل میں ایس ٹی سی خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام ہی نہیں رہی بلکہ اندرونی طور پر یہ خبریں بھی زیر گردش ہیں کہ یہ تنظیم بہرحال سعودی عرب کی سلامتی کے خلاف حوثیوں کے ساتھ مل گئی اور اس کا جھکائو بہرطور امارات کی جانب ہو گیا۔ اس طرح سعودی عرب کو بیک وقت ایک طرف حوثیوں کا خطرہ تو تھا ہی مگر وہ تنظیم جسے حوثیوں کے خلاف مضبوط کیا گیا تھا، وہ بھی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا کردار ادا کرتی نظر آئی۔ ایس ٹی سی کے اس روئیے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے، اس حوالے سے اتنا کہنا کافی ہے کہ امارات کے سفارتی تعلقات بہرحال اسرائیل سے استوار ہو چکے ہیں اور اس وقت مشرق وسطی میں اسرائیل نے امریکہ کو اکسا کر ایران کے خلاف جنگ کی دلدل میں دھکیلا ہوا ہے لہذا ایس ٹی سی کا سعودی عرب کو دھوکا دینا سمجھ میں آتا ہے۔ دوسری طرف امارات کے مفادات پر نظر دوڑائیں تو یہ حقیقت واضح نظر آتی ہے کہ امارات کو بہرحال اس وقت وسعت کے خواب دکھا کر ،مشرق وسطیٰ میں اپنی دیرینہ اور قابل اعتماد ساتھیوں سے الگ کیا جا چکا ہے تو کئی دیگر ممالک میں امارات اپنا کھیل بھی جاری رکھے ہوئے ہے، ان میں سوڈان ہو یا صومالیہ یا لیبیا یا کوئی بھی دوسرا ملک، امارات اپنا کھیل کھیل رہا ہے۔ یوں اس کھیل میں ایک طرف صرف سعودی عرب کے اثر و رسوخ کو ہی کم نہیں کر رہا بلکہ خطے کے مسلم ممالک کے ساتھ بھی کھلواڑ کرتا نظر آ رہا ہے، اس کے پس پردہ بہرحال اسرائیل اور ایپسٹین فائلز کا تذکرہ انتہائی تواتر سے ملتا ہے، لہذا اس وقت یہ توقع کرنا کہ امارات اپنی ترجیحات کو خطے اور مسلم ممالک کے حق میں لائے، بعید ازقیاس دکھائی دیتا ہے کہ اسرائیل نے اپنے پنجے پوری طرح امارات میں گاڑھ لئے ہیں۔
دوسری طرف امریکہ اور ایران کی جنگ کا جائزہ لیں تو اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ ایران پر حملے میں پہل اسرائیل کی جانب سے کی گئی تھی جبکہ امریکہ اسرائیل کی جنگ میں کودنے پر مجبور ہوا تھا کہ اسرائیل کو کسی بھی صورت تنہا نہیں چھوڑ سکتا البتہ امریکہ سے ایران کی عسکری و دفاعی صلاحیت کا اندازہ لگانے میں بہت بڑی غلطی ہوئی کہ امریکہ سمجھتا تھا کہ ایران دہائیوں سے پابندیوں کے زیر اثر ہے اس لئے امریکہ بآسانی ایران کو زیر کر لے گا مگر ایران گو کہ پابندیوں کے زیر اثر رہا ہے لیکن اپنے دفاع سے غافل نہیں رہا ۔ انقلاب ایران سے ہی یہ حقیقت واضح تھی کہ امریکہ کسی بھی صورت ایرانی رجیم کو پسند نہیں کرتا اور نہ ہی اس رجیم کو لہذا شروع دن سے ہی اس رجیم کے خلاف پابندیاں اور مشکلات کھڑی کئے رکھی، لیکن ایران ایک طرف ایٹمی طاقت کی دوڑ میں شامل نہیں ہوا کہ رہبر کا فتویٰ سامنے تھا تو دوسری طرف اپنے دفاع کو بھی مضبوط بناتا رہا، جس کا نتیجہ آج ساری دنیا کے سامنے ہے کہ امریکہ اس وقت مشرق وسطی میں ایرانی دفاع کے ہاتھوں بری طرح پٹ رہا ہے۔ تاہم یہاں یہ امر برمحل ہے کہ اگر ایران جوہری طاقت ہوتا تو کیا امریکہ ایران پر اس طرح جارحیت کا ارتکاب کرتا؟ اس سوال کا جواب بھی خود ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے دیدیا ہے، ٹرمپ کے بقول اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو امریکہ کا رویہ بالکل مختلف ہوتا اور امریکہ ایران سے سفارتی طریقے سے گفتگو کرتا گو کہ ٹرمپ نے اپنی اس گفتگو میں ایک مرتبہ پھر اس امر کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کی جوہری صلاحیت تباہ کردی ہے، جو کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہے کہ اگر ایران کے پاس جوہری طاقت ہے ہی نہیں تو امریکہ نے کس چیز کو تباہ کیا ہے اور کس اثاثے کو جوہری طاقت کا نام دے رکھا ہے؟، گمان ہے کہ ایران کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہو گیا ہوگا اور عین ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں ، رہبر کے دئیے گئے فتویٰ سے رجوع ممکن ہو اور ایران جوہری طاقت بننے کی کوشش کرے لیکن اس سے قبل ایران کے لئے ضروری ہے کہ امریکہ کو واضح طور پر شکست سے دوچار کرے اور اپنی فتح کو ثابت کرے۔ ابھی تک کی صورتحال ایسی ہے کہ معاملات صرف اور صرف فضائی حملوں تک محدود ہیں اور امریکہ اپنی پوری کوشش کے باوجود نہ تو ایران کے سمندروں میں داخل ہو پایا ہے اور نہ ہی زمینی راستے امریکہ کے لئے محفوظ دکھائی دیتے ہیں، دوسری طرف ایران کے لئے بھی یہ ممکن نہیں کہ امریکی سرزمین پر داخل ہو سکے اور امریکہ کو مکمل طور پر شکست سے دوچار کر سکے لہذا یہ سمجھنا کہ فریقین واضح طور پر شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے، قرین قیاس دکھائی نہیں دیتا البتہ یہ ضرور ہے کہ کسی مرحلے پر فریقین فیس سیونگ پر اکتفا کرکے جنگ ختم کر دیں، جس کا فوری امکان نظر نہیں آتا۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات سمجھیں یا انہیں اسرائیلی خواہشات کا نام دیں، ایک حقیقت واضح ہے کہ اسرائیل بہرحال اپنے توسیع پسندانہ عزائم پر کاربند ہے اور ہر صورت اسرائیل کی توسیع چاہتا ہے اس ضمن میں اسرائیل، امریکہ کو بھی اس جنگ میں اتار چکا ہے گو کہ نتائج تاحال اس کی خواہش کے مطابق برآمد نہیں ہوئے لیکن اسرائیل کی کاوشیں مسلسل جاری ہیں۔ ایران کے خلاف جنگ میں سعودی عرب نے ابتداء میں ہی امریکہ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے منع کر دیا تھا تو بعد ازاں سعودی عرب میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی سعودی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کرنے سے منع کر دیا تھا،اس کے باوجود بھی ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈوں پر کارروائی کی تھی۔ بعد ازاں سعودی عرب کی حکومت نے ان فوجی اڈوں کو بھی یہاں سے منتقل کروادیا تھا اور جنگ سے دور رہنے کو ترجیح دی تھی گو کہ اس دوران کئی ایک فالس فلیگ آپریشن سعودی سرزمین پر ہوئے مگر سعودی حکومت نے انتہائی برداشت، تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، جوش میں ہوش کا دامن نہیں چھوڑا اور امریکی و اسرائیلی خواہشات یا جھوٹی اطلاعات پر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کا فوری ردعمل نہیں دیا لیکن اس وقت صورتحال یہ ہے ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی سرزمین اور خودمختاری کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں، جس پر نہ صرف ایران خاموش ہے اور یہ خاموشی ایران کی پوزیشن کو کمزور کر رہی ہے۔ اصولا ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس طرح کے معاملات سعودی عرب اور ایران کے ہو چکے ہیں اس کے بعد ایران کو حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت ہی نہیں بلکہ ان کو روکنا چاہئے تھا لیکن ابھی تک ایسی کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی البتہ اتنا ضرور ہوا ہے کہ دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے اور خطے میں امن و استحکام و سلامتی قائم رکھنے پر اتفاق اور زور دیا گیا ہے۔ دوسری طرف سعودی دفاع، مکہ معاہدہ سے بھی منسلک ہے، اور اس معاہدہ کے تین ممالک آپس میں متفق ہیں کہ کسی ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ ہو گا، اس پس منظر میں کیا ایران یا حوثی یا مکہ معاہدے کے فریق یہ گوارا کر لیں گے کہ جو کام دشمن نہیں کر پایا، وہ حوثیوں کے ہاتھوں ہو جائے؟، اور کیا یہ واقعی حقیقت ہے یا خدشات کہ حوثیوں میں دشمنوں کے لوگ شامل ہو کر، سعودی عرب کے جنوبی حصے سے حوثیوں کے نام سے فالس فلیگ آپریشن کرکے، سعودی عرب کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں؟۔ بہرحال معاملہ انتہائی تشویشناک ہے اور سعودی عرب و ایران و یمن کو بالخصوص اس پر سوچنا چاہئے اور کسی بھی طرح مکہ معاہدے کو روبہ عمل آنے سے گریز کرتے ہوئے، معاملے کا فوری سفارتی حل تلاش کرنا چاہئے، اسی میں خطے اور مسلم ممالک کی بھلائی ہے۔







