ColumnImtiaz Ahmad Shad

باب المندب، آنسوئوں کا دروازہ 

باب المندب، آنسوئوں کا دروازہ

تحریر : امتیاز احمد شاد

باب المندب کا محاذ اب صرف یمن اور سعودی عرب کی جنگ کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ ایران، امریکہ، اسرائیل اور عالمی تجارت کے مستقبل سے جڑ چکا ہے۔ 11ستمبر 2026ء کو حوثیوں کے جزیرہ میون اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر قبضے کی اطلاعات نے خطے کی کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ جاری ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش نے دنیا کو توانائی کے بحران سے دوچار کر رکھا ہے۔ آبنائے باب المندب یمن کے مغربی ساحل اور افریقہ کے جبوتی و اریٹیریا کے درمیان واقع ہے۔ اس کا ایک سرا خلیج عدن اور بحرِ ہند سے ملتا ہے، جبکہ دوسرا بحیرہ احمر اور نہر سویز کی طرف کھلتا ہے۔ یہی جغرافیہ اسے ایشیا اور یورپ کے درمیان بحری تجارت کی اہم ترین گزرگاہوں میں شامل کرتا ہے۔

باب المندب کی اہمیت صرف اس کے جغرافیے تک محدود نہیں۔ اس آبنائے سے گزرنے والے جہازوں میں خلیجی ممالک کا تیل، یورپ جانے والی صنعتی مصنوعات، ایشیائی منڈیوں کے لیے خام مال اور دنیا بھر کی خوراک شامل ہے۔ 2023ء کے بعد حوثیوں کے حملوں نے بڑی تعداد میں بحری جہازوں کو افریقہ کے گرد متبادل راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا، جس سے وقت، ایندھن اور بیمہ کے اخراجات بڑھ گئے۔ اب آبنائے ہرمز کے بحران کے ساتھ باب المندب پر کنٹرول کی جنگ عالمی معیشت کے لیے مزید خطرناک بن چکی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران اور امریکہ کی جنگ نے پہلے ہی آبنائے ہرمز کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ایران نے خلیجِ فارس کے راستے تیل کی ترسیل پر دبائو بڑھایا، جبکہ امریکہ اپنی بحری طاقت اور اتحادیوں کے ذریعے اس خطے میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یاد رہے طویل عرصے سے اسرائیل کی پالیسی ایران کے میزاءل پروگرام، جوہری صلاحیت اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھنے پر مبنی رہی ہے۔ امریکہ کے لیے بھی ایران کا اثر و رسوخ محدود کرنا ایک اہم مقصد ہے، لیکن موجودہ جنگ میں واشنگٹن کو ایک مشکل انتخاب درپیش ہے، ایران کے خلاف دبا جاری رکھا جائے یا ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو جنگ کو مزید محاذوں تک پھیلا دیں۔ باب المندب میں حوثیوں کی پیش قدمی اسی پیچیدہ صورتحال کا حصہ ہے، کیونکہ یمن میں جنگ کا پھیلا امریکی بحری قوت اور سعودی عرب کی سلامتی دونوں کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے۔

یمن کے حوثی جنگجوئوں نے 11ستمبر کو جزیرہ میون، جسے جزیرہ پریم بھی کہا جاتا ہے، پر قبضہ کر لیا۔ یہ جزیرہ باب المندب کے تنگ ترین حصے کے وسط میں واقع ہے اور آبنائے کو دو بحری راستوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ حوثیوں نے ساحلی شہر المخا اور ذباب سمیت اہم علاقوں پر بھی قبضہ کیا ہے۔ یمن کی حکومت کے حامی فوجی دستوں کی پسپائی نے حوثیوں کو بحیرہ احمر کے جنوبی ساحل پر غیر معمولی برتری دے دی ہے۔ یہ پیش رفت حوثیوں کے لیے صرف ایک فوجی کامیابی نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹجک فائدہ ہے۔ جزیرہ میون پر موجود قوتیں آبنائے کے جہازوں کی نقل و حرکت، ساحلی علاقوں اور سمندری نگرانی پر دبا ڈال سکتی ہیں۔ حوثی قیادت نے عالمی جہاز رانی کو محفوظ قرار دیا ہے، تاہم سعودی جہازوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس اعلان نے واضح کر دیا ہے کہ باب المندب اب محض تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ ایران، سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان طاقت کے مقابلے کا ایک اہم میدان بن چکا ہے۔

7اگست 2026ء کو مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ ہوا، جس نے خطے میں نئی سکیورٹی صف بندی کی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد مشترکہ دفاع ہے، یعنی کسی فریق پر حملے کی صورت میں ایک دوسرے کی مدد اور دفاعی صلاحیتوں میں تعاون ہے۔ اب سعودی عرب کے لیے باب المندب کا بحران ایک براہِ راست سلامتی کا مسئلہ بن گیا ہے۔ پاکستان کیلئے یہ صورتحال غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور دفاعی تعلقات ہیں، دوسری طرف ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے۔ پاکستان اگر سعودی عرب کے دفاع میں کردار ادا کرتا ہے تو اسے ایران کیساتھ تعلقات اور خطے میں اپنے مفادات کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔ اس لیے پاکستان کی حکمتِ عملی صرف فوجی اتحاد تک محدود نہیں رہ سکتی، بلکہ سفارت کاری، علاقائی مذاکرات اور سمندری سلامتی کے ذریعے توازن قائم کرنا بھی ضروری ہوگا۔

پاکستان کے لیے سب سے بہتر راستہ یہ ہے کہ وہ سعودی عرب کی دفاعی سلامتی کے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی حمایت جاری رکھے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے خلیجِ فارس، بحیرہ احمر اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک اہم سفارتی رابطہ بناتی ہے۔ پاکستان کی قیادت اس موقع کو صرف فوجی اتحاد کے طور پر دیکھنے کے بجائے علاقائی امن کے لیے استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن نظر آرہی ہے، جو ایک خوش آئند بات ہے، تاکہ اپنے معاشی مفادات، توانائی کی ضروریات اور قومی سلامتی کو زیادہ موثر طریقے سے محفوظ کیا جا سکے۔

اسرائیل اور امریکہ کیلئے بھی باب المندب کا بحران ایک بڑا امتحان ہے۔ اگر حوثی بحری گزرگاہ پر مستقل دبا قائم کرتے ہیں تو امریکی بحری قوت کو ایران کیخلاف جنگ کے ساتھ ساتھ یمن کے محاذ پر بھی وسائل تقسیم کرنا پڑیں گے۔ اسرائیل کے لیے بحیرہ احمر کی سلامتی اس کی جنوبی بحری رسائی اور علاقائی تجارت سے جڑی ہوئی ہے۔ دوسری طرف حوثی اپنی کارروائیوں کو فلسطینی مسئلے اور ایران کے ساتھ اتحاد کے تناظر میں پیش کرتے ہیں، جس سے خطے کی سیاسی کشیدگی مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ باب المندب کا بحران واضح کرتا ہے کہ آج کی دنیا میں کسی ایک آبنائے یا جزیرے پر قبضہ صرف مقامی جنگ کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ یہ عالمی تجارت، توانائی کی قیمتوں، دفاعی اتحادوں اور سفارتی طاقت کے توازن کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ پاکستان کو اس بدلتی ہوئی صورتحال میں اپنی قومی سلامتی، معاشی مفادات اور علاقائی ذمہ داریوں کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کا معاہدہ اگر صرف فوجی ردعمل کے بجائے سفارتی استحکام کا ذریعہ بنے تو یہ خطے میں امن کیلئے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ یاد رکھیں، اگر باب المندب کو طاقت کے مقابلے کا مستقل میدان بنا دیا گیا تو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات دنیا کے ہر براعظم تک پہنچ سکتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button