Column

امریکا غریب ملکوں پر حکمرانی کیوں چاہتا ہے؟

امریکا غریب ملکوں پر حکمرانی کیوں چاہتا ہے؟
غلام مصطفیٰ جمالی
دنیا کی سیاست میں یہ سوال ہمیشہ اہم رہا ہے کہ بڑی طاقتیں چھوٹے اور کمزور ممالک کے معاملات میں اتنی دلچسپی کیوں لیتی ہیں؟ خاص طور پر جب امریکا کسی ملک کے جوہری پروگرام، دفاعی پالیسی، معیشت یا خارجہ پالیسی کے بارے میں سخت موقف اختیار کرتا ہے تو یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ صرف عالمی امن کے لیے کیا جا رہا ہے یا اس کے پیچھے امریکا کے اپنے سیاسی، معاشی اور دفاعی مفادات بھی موجود ہیں؟
ایران کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تازہ بیان بھی اسی بحث کو دوبارہ سامنے لے آیا ہے۔ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امریکا کا موقف ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اس کی بنیادی ترجیح ہے، جبکہ ایران مسلسل یہ موقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معاملہ صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں بلکہ اس میں علاقائی طاقت، تیل، معاشی پابندیاں، سلامتی اور عالمی اثر و رسوخ کے کئی پہلو شامل ہیں۔
امریکا دنیا کے طاقتور ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا نے اپنی فوجی، معاشی اور سفارتی طاقت کو مسلسل بڑھایا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ایک طویل عرصے تک امریکا کو دنیا کی واحد سپر پاور سمجھا جاتا رہا۔ اس طاقت نے واشنگٹن کو یہ صلاحیت دی کہ وہ صرف اپنے ملک کے اندر ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اثر و رسوخ استعمال کرے۔
لیکن یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ امریکا ہر غریب ملک پر براہِ راست حکمرانی نہیں کرنا چاہتا۔ جدید دنیا میں حکمرانی کا مطلب ہمیشہ فوج بھیج کر کسی ملک پر قبضہ کرنا نہیں ہوتا۔ معاشی پابندیاں، سفارتی دبا، عالمی مالیاتی نظام، تجارتی تعلقات، فوجی اتحاد، سیاسی اثر و رسوخ اور اقتصادی طاقت بھی کسی ملک کے فیصلوں کو متاثر کرنے کے اہم ذرائع بن چکے ہیں۔
ایران اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ ایران جغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہم ملک ہے۔ اس کے پاس توانائی کے بڑے ذخائر ہیں اور وہ خلیج کے ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں سے دنیا کی توانائی کی تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت صرف ایران یا خلیجی ممالک تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر اس راستے سے تیل کی ترسیل متاثر ہو تو اس کے اثرات دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔
اسی لیے امریکا ایران کو صرف ایک عام علاقائی ملک کے طور پر نہیں دیکھتا۔ ایران ایک ایسی علاقائی طاقت ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں اور امریکی اتحادیوں کے لیے کئی دہائیوں سے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ ایران کے پاس اپنی فوجی صلاحیت، میزائل پروگرام، توانائی کے وسائل اور خطے میں سیاسی اثر و رسوخ موجود ہے۔ واشنگٹن کی خواہش ہے کہ ایران اتنی طاقت حاصل نہ کر سکے جس سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف تبدیل ہوجائے۔
جوہری پروگرام اسی بڑے تنازعے کا ایک اہم حصہ ہے۔ امریکا کا خدشہ ہے کہ اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے تو خطے کے دوسرے ممالک بھی اپنی سلامتی کے لیے اسی راستے پر چل سکتے ہیں۔ اس طرح مشرقِ وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ امریکا اسے عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔
لیکن دوسری طرف ایران کا سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ اسے پرامن جوہری ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔ ایران یہ بھی سمجھتا ہے کہ اگر بعض ممالک کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں تو صرف ایران کے لیے ایسی صلاحیت پر پابندی کا مطالبہ دوہرے معیار کے مترادف ہے۔ یہی بنیادی اختلاف دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کو بار بار مشکل بناتا رہا ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست میں کوئی بھی بڑی طاقت صرف اصولوں پر نہیں چلتی، بلکہ اپنے قومی مفادات کو بھی سامنے رکھتی ہے۔ امریکا ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کے ساتھ ساتھ اس کے میزائل پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور معاشی طاقت کو محدود کرنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف ایران بھی اپنی خودمختاری اور علاقائی حیثیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
امریکا کی طاقت کا سب سے بڑا ذریعہ صرف اس کی فوج نہیں بلکہ اس کی معیشت بھی ہے۔ امریکی پابندیاں دنیا کے کسی بھی کمزور معاشی ملک کے لیے شدید مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ جب امریکا کسی ملک پر پابندیاں عائد کرتا ہے تو بین الاقوامی بینک، کمپنیاں اور سرمایہ کار بھی اکثر اس ملک کے ساتھ کاروبار کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ نتیجتاً متعلقہ ملک کی تجارت متاثر ہوتی ہے، سرمایہ کاری کم ہوتی ہے، کرنسی دبا میں آتی ہے اور عوام کو مہنگائی اور بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں غریب ممالک خود کو سب سے زیادہ کمزور محسوس کرتے ہیں۔ ایک طاقتور ملک کئی سال تک معاشی پابندیاں برداشت کر سکتا ہے، لیکن ایک کمزور معیشت کے لیے طویل پابندیاں بہت بڑا مسئلہ بن جاتی ہیں۔ حکومتیں پھر عالمی دبا کم کرنے کے لیے اپنے بعض فیصلوں میں تبدیلی پر مجبور ہوجاتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر امریکی اقدام کو صرف غلبے کی خواہش قرار دے دیا جائے۔ جوہری ہتھیاروں کا پھیلائو واقعی پوری دنیا کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔ اگر زیادہ سے زیادہ ممالک جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہوجائیں تو عالمی امن مزید غیر محفوظ ہوسکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جوہری پھیلائو روکنے کا طریقہ کیا ہونا چاہیے؟ کیا دھمکی اور پابندی اس مسئلے کا مستقل حل ہیں یا مذاکرات اور باہمی اعتماد زیادہ موثر راستہ ہوسکتے ہیں؟
دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کے ذریعے وقتی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے، لیکن دیرپا امن صرف مذاکرات اور سیاسی حل سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر امریکا واقعی ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا چاہتا ہے تو اسے ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ کرنا ہوگا جس میں دونوں طرف کے تحفظات کو جگہ ملے۔ ایران کو بھی عالمی خدشات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور اپنی جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے شفافیت بڑھانا ہوگی۔
اصل مسئلہ امریکا اور ایران سے کہیں بڑا ہے۔ یہ سوال عالمی نظام کے بارے میں ہے کہ کیا دنیا میں طاقتور اور کمزور ممالک کے لیے ایک جیسے اصول ہوں گے یا طاقتور ملک اپنے مفادات کے مطابق عالمی سیاست کے اصول طے کرتے رہیں گے؟
ترقی پذیر ممالک کے لیے اس صورتحال میں سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ صرف سیاسی نعروں سے خودمختاری محفوظ نہیں ہوتی۔ مضبوط معیشت، تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، توانائی میں خودکفالت، مستحکم ادارے اور متوازن خارجہ پالیسی ہی کی ملک کو عالمی دبائو کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔
پاکستان سمیت تمام ترقی پذیر ممالک کو بھی اسی حقیقت کو سمجھنا ہوگا۔ اگر معیشت کمزور ہو، اندرونی سیاسی اختلافات شدید ہوں اور ملک دوسروں کے قرضوں اور امداد پر زیادہ انحصار کرے تو عالمی طاقتوں کا دبا بڑھ جاتا ہے۔ اس کے برعکس معاشی طور پر مضبوط اور سیاسی طور پر مستحکم ملک اپنی خارجہ پالیسی میں زیادہ آزادی کے ساتھ فیصلے کر سکتا ہے۔
اس لیے امریکا کے بارے میں یہ کہنا شاید درست نہیں کہ وہ صرف غریب ممالک پر حکمرانی کرنا چاہتا ہے۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ امریکا دنیا کے اہم خطوں میں اپنے مفادات اور اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ ایران جیسے ممالک اس کے لیے اس لیے اہم ہیں کیونکہ وہاں توانائی، جغرافیہ، سلامتی اور علاقائی طاقت کے کئی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
آخرکار اصل سوال یہ نہیں کہ امریکا کتنا طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ عالمی طاقت کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر طاقت کمزور ممالک کو دبانے کے لیے استعمال ہوگی تو دنیا میں بے چینی بڑھتی رہے گی، لیکن اگر یہی طاقت مذاکرات، امن اور عالمی قانون کی بالادستی کے لیے استعمال ہو تو ایک زیادہ متوازن عالمی نظام تشکیل دیا جاسکتا ہے۔
دنیا کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جہاں کسی غریب یا کمزور ملک کی قسمت صرف طاقتور ممالک کے فیصلوں سے طے نہ ہو۔ ہر ملک کو اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ امریکا سمیت تمام بڑی طاقتوں کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اپنی طاقت کو دنیا پر غلبے کے بجائے عالمی امن اور انصاف کے لیے کس حد تک استعمال کرتی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button