Column

جو کہا، وہ کر دکھایا

جو کہا، وہ کر دکھایا
تحریر: محمد محسن اقبال
آج کا پاکستان ایک ایسے عالم میں جہاں اضطراب اور کشمکش کی دھند چھائی رہتی ہے، امن کے ایک روشن مینار کی صورت ابھرا ہے۔ اسے وہ عزت و توقیر نصیب ہو رہی ہے جو اس کی جدید تاریخ میں پہلے کبھی دیکھنے میں نہ آئی۔ مسلسل سفارتی جدوجہد، غیر متزلزل عزم اور ہم آہنگی کے گہرے احساس کے ساتھ، اس نے خود کو ایک ناگزیر ثالث کے طور پر منوایا ہے۔ وہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ایسے ایسے مراحل سے گزرا ہے جو بسا اوقات ناقابلِ تصور تھے۔ یہ مقدس کاوش نہ صرف وقتی کشیدگی کو کم کرنے کا باعث بنی بلکہ پاکستان کے لیے ایک نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہوئی، ایسا دور جس میں ترقی کی رفتار تیز، قومی اطمینان گہرا، اور عالمی وقار بلند تر ہوتا دکھائی دیتا ہے، جو ہر محبِ وطن دل کو فخر سے بھر دیتا ہے۔ آنے والے دنوں میں دنیا پاکستان کو علاقائی امور، خصوصاً عالمِ اسلام کے وسیع منظرنامے میں، رہنمائی کی مسند سنبھالتے دیکھے گی، جہاں وہ دانائی اور وقار کے ساتھ اتحاد اور استحکام کی راہیں ہموار کرے گا۔
اسلام آباد میں منعقدہ حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے پاکستان کی ساکھ کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ پیچیدہ زمینی حقائق اور دبا کو مدنظر رکھتے ہوئے، ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے اپنے نائب صدر کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد بھیج کر اعتماد کا اظہار کیا۔ اسی طرح اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی پاکستان کی منفرد حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے نمائندے دارالحکومت روانہ کیے۔ اگرچہ یہ مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر منتج نہ ہو سکے، مگر پاکستان کی مدبرانہ سفارت کاری نے پہلے ہی دیرینہ دشمنیوں کی برف پگھلانا شروع کر دی تھی اور امید کی ایک مدھم مگر روشن کرن پیدا ہو چکی تھی۔
جلد ہی واضح ہو گیا کہ مکمل کامیابی کی راہ میں کئی سخت رکاوٹیں حائل ہیں؛ اسرائیل کا جارحانہ رویہ، امریکی حلقوں کے بعض عناصر کی ہٹ دھرمی، اور دیگر پیچیدہ عوامل جو اسلام آباد کے اختیار سے باہر تھے۔ اس کے باوجود، کسی حتمی پیش رفت کے بغیر بھی پاکستان عالمی رائے عامہ کی عدالت میں سرخرو ٹھہرا اور ایک مخلص اور باوقار امن ساز کے طور پر اس کی شہرت مزید نکھر گئی۔
ان کاوشوں کے آغاز ہی سے پاکستان کے مخالفین، جو ہر موقع پر کمین گاہ میں بیٹھے رہتے ہیں، اس عمل کو سبوتاژ کرنے میں مصروف رہے۔ انہوں نے ہر حربہ آزمایا تاکہ فریقین کو اسلام آباد پر اعتماد کرنے سے روکا جا سکے، افواہوں اور سازشوں کے جال بچھائے گئے۔ مگر قدرتِ الٰہی کی نصرت پاکستان کے لیے ایک غیر مرئی حصار بن گئی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر سازش ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور دشمنوں کے منصوبے صبح کی دھند کی مانند تحلیل ہو گئے۔ اس غیبی مدد نے نہ صرف ثالثی کے عمل کو محفوظ رکھا بلکہ ایک ایسی کامیابی کی بنیاد بھی رکھ دی جس کی گونج دنیا بھر میں سنائی دی۔
میدانِ جنگ میں ایک فیصلہ کن مرحلے پر پاکستان نے اپنے ازلی حریف بھارت کو بھرپور شکست دی۔ یہ کامیابی محض عسکری برتری نہ تھی بلکہ قومی وقار اور خودمختاری کی ایک توانا علامت بن کر ابھری، جس نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو ایک ممکنہ تباہی سے محفوظ رکھا۔
پاکستان کے جراتمندانہ اقدامات نے اس نام نہاد’’ گریٹر اسرائیل‘‘ منصوبے کو بھی کاری ضرب لگائی، جو کبھی مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کو اپنی مرضی سے بدلنے کے خواب دیکھتا تھا۔ عرب دنیا، جو طویل عرصے سے فاصلے کو تحفظ کا ضامن سمجھتی رہی، اب اس حقیقت سے آگاہ ہو رہی ہے کہ اصل سلامتی محض جغرافیائی دوری یا عارضی اتحادوں سے ممکن نہیں۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں مسلم ممالک کے درمیان مضبوط اتحاد ناگزیر ہو چکا ہے۔
یہیں پاکستان کی اصل قوت جلوہ گر ہوتی ہے۔ ایک باصلاحیت، جری اور پیشہ ورانہ قیادت کے زیر سایہ مضبوط افواج اور ایک معتبر ایٹمی صلاحیت کے ساتھ، پاکستان اس قابل ہے کہ وہ اجتماعی سلامتی کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھے۔ اگر اس عسکری طاقت کو اسلامی ممالک کے قدرتی اور معاشی وسائل کے ساتھ یکجا کر دیا جائے تو ایک ایسا مضبوط اتحاد وجود میں آ سکتا ہے جو یورپی یونین کی طرز پر ہر رکن کی سلامتی کا ضامن ہو۔
ایسا اتحاد ہر جارحانہ ارادے کو ابتدا ہی میں ناکام بنا دے گا۔ اس خواب کی تعبیر کی ابتدائی جھلک اس وقت نظر آئی جب پاکستانی جنگی طیارے اور افواج کا دستہ سعودی عرب کی سرزمین پر اترا، جو حرمین شریفین کے دفاع کے عزم کی ایک عملی تصویر تھا۔ یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اپنے برادر ممالک کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ، پاکستان کے ہمسایہ مسلم ممالک، خصوصاً خلیجی ریاستیں، اسے ایک مضبوط سہارے اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھیں گی۔
اس تصور کو قرآنِ حکیم کے اس ابدی پیغام میں نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے: ’’ اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو‘‘۔
اتحاد ہی دراصل امت کی اصل قوت ہے، جو کمزوری کو طاقت میں بدل دیتی ہے۔
ان تمام سفارتی، عسکری اور روحانی کاوشوں کے ذریعے پاکستان نے نہ صرف اپنا وقار بلند کیا بلکہ خطے کے امن اور اسلامی یکجہتی کے لیے ایک دیرپا خدمت انجام دی ہے۔ اگرچہ چیلنجز ابھی باقی ہیں، مگر ان تاریخی لمحات میں رکھی گئی بنیادیں ایک ایسے مستقبل کی نوید دے رہی ہیں جو عزت، سلامتی اور مشترکہ خوشحالی سے معمور ہوگا۔
اپنی ذمہ داریوں کو حوصلے، دانشمندی اور اللہ پر کامل بھروسے کے ساتھ نبھاتے ہوئے، پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ حقیقی قیادت طاقت کے مظاہرے میں نہیں بلکہ امن کے قیام اور انصاف کے تحفظ میں مضمر ہوتی ہے۔ آج جب وہ علاقائی اور اسلامی دنیا میں اپنی جائز حیثیت سنبھال رہا ہے، تو اس کے ساتھ کروڑوں دلوں کی دعائیں اور امیدیں وابستہ ہیں، ایک ایسی صبح کی امید جو پوری امت کے لیے امن، اتحاد اور خوشحالی کا پیغام لے کر آئے گی۔

جواب دیں

Back to top button