Column

گھر کی کوئی خبر نہیں

گھر کی کوئی خبر نہیں
سیدہ عنبرین
مکہ معاہدے کے بارے میں وہاں سوالات پوچھے جا رہے ہیں جہاں جمہوریت کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے، لیکن وہاں اس کے بارے میں کوئی نہیں پوچھ سکتا جہاں جمہوریت نہیں بادشاہت ہے۔ یہ سوالات بھی اس لیے پوچھے جا رہے ہیں تاکہ سمجھا جا سکے کہ یہ معاہدہ درحقیقت ہے کیا، اور کن کی باتوں، کن کن اصولوں پر کیا گیا ہے۔ یہ سوالات پاکستان کے علاوہ معاہدے کے فریق ترکیہ میں بھی پوچھے جا رہے ہیں، لیکن جس قسم کے جواب پاکستان دیئے جا رہے ہیں، ویسے ہی جواب ترکیہ میں دیئے جا رہے ہیں۔ فریق سوئم وہ ملک ہے جہاں دیگر دو فریقوں کی نسبت مختلف نظام حکومت ہے، یعنی بادشاہت ہے، وہاں نہ کوئی پوچھ رہا ہے، نہ آئندہ پوچھے گا، کیونکہ جنہیں اس معاہدے کی شقوں سے باخبر رہنا ضروری ہے وہ اسکی تمام جزئیات سے واقف ہیں، اس سے مراد شاہی خاندان کے اہم افراد اور اہم عہدوں پر متمکن شخصیات ہیں۔ پاکستان میں جو کچھ دایاں ہاتھ کر رہا ہوتا ہے بائیں ہاتھ کو اسکی خبر نہیں ہوتی، بعض اوقات دایاں ہاتھ جس قدر مناسب سمجھتا ہے اتنا بائیں ہاتھ کو بتا دیتا ہے، بائیں ہاتھ کو اتنی جرات نہیں ہوتی کہ دائیں ہاتھ سے پوچھے وہ کیا کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھیے دایاں ہاتھ جو کچھ کرتا ہے وہ ملک کے اور قوم کے اعلیٰ ترین مفاد میں کرتا ہے۔ مکہ معاہدے میں بادی النظر میں تو یوں ہی لگتا ہے جیسے دائیں اور بائیں ہاتھ نے ملکر ہی اس معاہدے میں کردار ادا کیا ہے، لیکن ذرائع خبر دیتے ہیں کہ دایاں ہاتھ اپنا کام کر رہا تھا اور بایاں ہاتھ صرف اسے دیکھ رہا تھا، جب معاہدے کے خدوخال سنوارے گئے تو بائیں ہاتھ کو شامل کر لیا گیا۔ پس معاہدے کی تقریب میں بائیں ہاتھ نے دستخط کرنے کا فریضہ انجام دیا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ یہ معاہدہ دیگر ممالک کیلئے اوپر ہے اس کا سلیس زبان میں مطلب یہ ہے کہ جو جو ملک خرچہ اٹھا سکتا ہے وہ آگے بڑھے ’’ چشم ما روشن دل ماشاد‘‘۔
ذرائع یہ خبر بھی دیتے ہیں کہ بھرپور کوششیں کی گئیں کہ اس معاہدے میں مزید ممالک شامل ہوجائیں، کیونکہ تسلیم کر لیا گیا تھا کہ اکٹھ جتنا بڑا ہوگا دھوم اتنی زیادہ ہو گی۔ لاکھ روپے کی کمیٹی تو گھر گھر ڈالی جاتی ہے، یہ کوئی خبر نہیں بنتی، لیکن اگر کروڑ روپے یا پانچ کروڑ روپے کی کمیٹی ڈالی جائیگی تو گھر گھر اس کی خبر پہنچے گی اور فریقین کے بارے میں ان کے خاندانوں کو یقین ہو جائیگا کہ ان کے بھائی یا باجی کو اب کروڑ پتی بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
اطلاعات ہیں کہ اس معاہدے میں شمولیت کیلئے بحرین کو دعوت دی گئی تو انہوں نے جواب دیا ہمیں خطے میں کسی ملک سے کوئی خطرہ نہیں، لہٰذا ہم اس معاہدے میں شریک ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ یہی دعوت شمولیت قطر کو دی گئی، لیکن انہوں نے سوچ بچار اور غور و فکر کے بعد فیصلہ کیا کہ وہ اپنی آزادانہ حیثیت برقرار رکھیں گے، انہیں بھی کسی ملک کی طرف سے کسی بھی قسم کے حملے کا کوئی خطر ہ نہیں۔ قطری حکومت کے پاس کوئی فوج نہیں، کوئی ایئر فورس نہیں، نہ ہی کوئی بحریہ ہے، لیکن اس کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی انہیں آنکھیں دکھائے گا تو وہ اس کی گیس بند کر کے اس کا جینا حرام کر سکتے ہیں۔ قطر کے پاس ایل این جی کے ذخائر ایک طرف تو اسے اربوں ڈالر کما کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف یہی ایل این جی کا ایک موثر ہتھیار بھی ہے۔ ماضی میں کبھی پٹرول بھی ہتھیار سمجھا جا تا تھا، لیکن دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے پاس بڑے ذخائر دریافت ہونے کے بعد ان کیلئے ان کی نظر میں تیل کے معاملے میں خود کفالت کی منزل حاصل کرنے کے بعد اب ان کی ترجیحات میں تبدیلی آ چکی ہے، یہ دو بڑی طاقتیں امریکہ اور روس ہیں، جبکہ چین نے تیل نہ ہونے کی کمی کو اپنی انڈسٹری اور دفاعی پیداوار بڑھا کر پورا کیا۔
مکہ معاہدے کے اتحادیوں کی بڑی خواہش ہے کسی طرح یو اے ای کو صراط مستقیم پر لے آئیں، لیکن یو اے ای سمجھتا ہے وہ خطے کے دیگر ممالک کی نسبت تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے، وہ اپنی ضرورت کا تیل بھی رکھتا ہے، اور ضرورت مندوں کو ایکسپورٹ بھی کرتا ہے، لہٰذا اسے کسی کا بغل بچہ بن کر رہنے کی ضرورت نہیں، بلکہ اسے لڑنے جھگڑنے والے بچوں کے فیصلے کرانے والے ملک کی حیثیت سے اپنی مستقبل کی پالیسیوں کی تربیت دینا ہے، اس مقصد کیلئے اس نے ایسے ملک سے تعلقات ٹھیک کر لئے، اسے تسلیم کر لیا اور اس کے وسائل سے فائدہ اٹھانا شروع کیا جو دنیا کے دیگر مسلمان ممالک کیلئے خطرہ تھا۔
یو اے ای کے بارے میں ایک تاثر یہ بھی ہے کہ دنیا بھر میں یہودیوں نے جب دیکھا کہ اسرائیل کے قیام میں ابھی کچھ وقت لگ سکتا ہے اور کم از کم نصف صدی تک تو اس کا قیام ممکن نہیں لہٰذا انہوں نے اسرائیل کے قیام تک یہودیوں کیلئے ایک متبادل خطہ ارض کے بارے میں سوچا، جہاں وہ اپنی مرضی کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں، اور وسیع پیمانے پر کاروبار بھی کر سکیں، اس خیال کے تحت انہوں نے یو اے ای کا انتخاب کیا، اور ایسے ملک کو جو ضروریات زندگی کی پیداوار میں خود کفیل نہیں ہے اسے اور اسکی معیشت کو کاروباری ماڈل بنایا۔ آج یو اے ای اپنی طرز کا واحد ماڈل ہے جو خود بہت کم بناتا ہے لیکن دنیا کے ہر کونے سے بہت زیادہ امپورٹ کرتا ہے، اور فقط بیس، پچیس برس میں دنیا کی ایک بڑی ’’ انویسٹمنٹ حب‘‘ بن چکا ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ خطے کی جنگ نے اسے اجاڑ دیا ہے تو یہ وقتی فیز ہیں۔ جب جنگ ختم ہو گی تو سب کچھ پرانی آب و تاب سے ایک مرتبہ پھر آپ کو نظر آئے گا۔ دنیا میں کرپشن بڑھ رہی ہے اور رشوت اور کک بیکس اب لازم و ملزوم ہیں، پس دنیا بھر کی دولت اب یو اے ای میں اپنا ٹھکانہ تلاش کر لیتی ہے، جسے کبھی یہ مقام لندن کو حاصل تھا، پہلے لندن، پھر یو اے ای اور اب اس پیسے کی نئی منزل سپین ہے۔ پاکستان کی بڑی خواہش ہے یہاں بھی اس قسم کی انویسٹمنٹ آئے، لیکن جرائم پیشہ سوسائٹی اور جرائم پیشہ بیوروکریسی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان سے ہر سال بیس سے چالیس ارب روپیہ سیف سیون میں منتقل ہو رہا ہے، مگر ہم معاہدوں میں مگن ہیں، گھر کی کوئی خبر نہیں، کرنسی کتنی ڈی ویلیو ہو چکی ہے، ڈالر کہاں جا پہنچا ہے۔

جواب دیں

Back to top button