Column

درست فیصلے کیجیے

درست فیصلے کیجیے
تحریر: رفیع صحرائی
قدرت نے پاکستان کو جن نعمتوں سے نوازا ہے، ان کی فہرست بنائی جائے تو شاید صفحات کم پڑ جائیں۔ بلاشبہ وطنِ عزیز اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے مالا مال ہے۔ زرخیز میدان، بلند پہاڑ، دریا، سمندر، چار موسم، معدنی ذخائر، وسیع زرعی رقبہ، اہم جغرافیائی محلِ وقوع اور سب سے بڑھ کر اس کی کل آبادی کا ساٹھ فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ وہ سرمایہ ہے جس کے بل پر کوئی بھی قوم ترقی کی بلند منزلیں طے کر سکتی ہے۔ مگر ہمارے سامنے ایک تلخ سوال آج بھی کھڑا ہے: اتنے وسائل کے باوجود ہم مشکلات سے کیوں نہیں نکل پا رہے؟
حقیقت میں یہ سوال وسائل کا نہیں ہے بلکہ یہ فیصلوں کا سوال ہے۔ پاکستان غریب ملک نہیں، درج بالا وسائل کے ہوتے ہوئے کوئی ملک غریب کیسے ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو دراصل بدانتظامی، پالیسیوں کے عدم تسلسل، کمزور اداروں، غیر ضروری اخراجات، کرپشن، ٹیکس چوری اور قومی ترجیحات کے فقدان نے مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ہمارے پاس وسائل موجود ہیں مگر ہم انہیں قومی دولت میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی اور مستقل مزاجی سے محروم رہے ہیں۔
دنیا کے کئی ممالک اس بات کی مثال ہیں کہ ترقی کے لیے قدرتی وسائل سے زیادہ انسانی وسائل کی اہمیت ہوتی ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا اور سنگاپور کے پاس پاکستان جیسی وسیع زرعی زمینیں یا معدنی دولت نہیں تھی، لیکن انہوں نے تعلیم، تحقیق، نظم و ضبط، صنعتی ترقی، برآمدات اور مضبوط اداروں کو اپنی ترجیح بنایا۔ نتیجہ دنیا کے سامنے ہے۔ پاکستان بھی ترقی کر سکتا ہے، لیکن اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں قومی ترجیحات طے کرنا ہوں گی۔
ہر نئی حکومت کے ساتھ پالیسیوں کا بدل جانا کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ حکومتیں بدلنا جمہوریت کا حصہ ہے، مگر ریاستی پالیسیاں ہر چند سال بعد تبدیل ہونا قومی مفاد کے منافی ہے۔ تعلیم، توانائی، زراعت، صنعت، برآمدات، ٹیکس اصلاحات اور انفراسٹرکچر کے لیے طویل المدتی پالیسی بننی چاہیے جسے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر جاری رکھا جائے۔ ہمارے ہاں بدقسمتی یہ ہے کہ سابقہ حکومت کی ہر اچھی اور فائدہ مند پالیسی کو سب سے پہلے تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ سابقہ حکومت کے ہر اچھے نقوش مٹا کر اسے عوام کے ذہنوں سے محو کیا جا سکے۔ عوام اور ملک کا مفاد کسی کو عزیز نہیں ہوتا۔
سرمایہ کار کو صرف سرمایہ نہیں بلکہ اعتماد درکار ہوتا ہے۔ اگر اسے یہ خوف ہو کہ آج بنایا گیا قانون کل تبدیل ہوجائے گا، آج دی گئی مراعات واپس لے لی جائیں گی یا کسی انتظامی فیصلے سے اس کی صنعت بند ہوسکتی ہے تو وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے بجائے اپنا سرمایہ کسی دوسرے ملک میں لے جائے گا۔ ہمارے ساتھ یہی کچھ ہوا ہے۔ آئے روز کی بدلتی پالیسیوں نے ملک سے سرمایہ دار کو بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگر ہمیں معاشی ترقی کرنی ہے تو ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، فیصلہ میرٹ پر ہو اور سرمایہ کاری محفوظ ہو۔
معیشت کی مضبوطی کے لیے قرضوں پر انحصار کم کرنا ہوگا۔ قرض اگر پیداوار بڑھانے کے لیے لیا جائے تو ایک سرمایہ کاری ہوسکتا ہے، لیکن اگر وہ صرف پرانے قرضے اتارنے اور حکومتی اخراجات پورے کرنے میں خرچ ہوتا رہے تو یہ آنے والی نسلوں کے مستقبل پر بوجھ بن جاتا ہے۔ پاکستان کو قرضوں کے دائرے سے نکلنے کے لیے برآمدات بڑھانا ہوں گی، مقامی پیداوار میں اضافہ کرنا ہوگا اور درآمدی انحصار کم کرنا ہوگا۔
اس مقصد کے لیے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاح ناگزیر ہے۔ ملک میں ایک محدود اور مخصوص طبقہ مسلسل ٹیکس ادا کر رہا ہے جبکہ بہت سی بڑی معاشی سرگرمیاں دستاویزی نظام سے باہر ہیں، یہ صورتِ حال نہ معیشت کے لیے پائیدار ہے اور نہ ٹیکس دہندگان کے لیے منصفانہ ہے۔ ٹیکس چوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے، لیکن ساتھ ہی ٹیکس دہندگان کو سہولت، عزت اور آسان نظام بھی فراہم کیا جائے۔ ریاست کو شہری سے صرف ٹیکس نہیں مانگنا چاہیے، اسے اعتماد بھی دینا چاہیے۔
پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کے نوجوان ہیں۔ اگر ہم نے انہیں تعلیم، ہنر اور روزگار فراہم کر دیا تو یہ آبادی ہمارا سب سے بڑا معاشی سرمایہ بن جائے گی، لیکن اگر یہی نوجوان بے روزگاری اور مایوسی کا شکار ہوگئے تو یہ قومی صلاحیت ضائع ہونے کے مترادف ہوگا۔ دنیا مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، بگ ڈیٹا، سائبر سکیورٹی، ای کامرس اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہمیں بھی روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، زبانوں، فنی مہارتوں اور کاروباری صلاحیتوں سے آراستہ کرنا ہوگا۔ ہر ضلع میں جدید فنی تربیتی مراکز قائم کیے جائیں، یونیورسٹیوں کو صنعت سے جوڑا جائے اور نوجوانوں کو محض ملازمت تلاش کرنے والا نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والا بنایا جائے۔
زراعت میں بھی بنیادی تبدیلی وقت کی ضرورت ہے۔ پانی کے ضیاع کو روکنا، جدید بیج اور زرعی ٹیکنالوجی متعارف کرانا، کسان کو مناسب قیمت دلانا، کولڈ اسٹوریج اور فوڈ پروسیسنگ کو فروغ دینا اور زرعی پیداوار کو عالمی منڈیوں تک پہنچانا بہت ضروری ہے۔ ہمارا کسان صرف ضرورت کے لیے خوراک پیدا کرنے والا نہیں بلکہ وہ پاکستان کی برآمدی معیشت کا اہم ستون بن سکتا ہے۔
معدنیات، سیاحت، آئی ٹی، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، انجینئرنگ اور چھوٹی و درمیانی صنعتیں بھی پاکستان کی معاشی تقدیر بدل سکتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے خام مال بیچنے کے بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کرنا ہوں گی۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ زمین سے نکلنے والی دولت صرف چند ہاتھوں میں نہ جائے بلکہ اس سے قومی خزانہ، روزگار اور مقامی صنعت مضبوط ہو۔
یہاں ایک اور بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا قومی ترقی صرف حکومت کی ذمہ داری ہے؟
نہیں! ایسا ہرگز نہیں ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ریاست اپنا کردار ادا کرے، مگر شہری بھی اپنے فرائض سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ قانون کی پابندی، ٹیکس کی ادائیگی، ملاوٹ سے انکار، رشوت نہ دینا، سرکاری املاک کی حفاظت، میرٹ کی حمایت اور کام کو عبادت سمجھ کر دیانت داری سے انجام دینا ایسے چھوٹے چھوٹے اعمال ہیں جو ایک بڑے قومی کردار کو جنم دیتے ہیں۔
ہمیں قومی سطح پر ایک طویل المدتی معاشی و تعلیمی معاہدے کی ضرورت ہے۔ حکومتیں بدلیں مگر قومی سمت نہ بدلے۔ بجٹ تبدیل ہوں مگر تعلیم، صحت، روزگار، برآمدات اور انسانی ترقی کی ترجیحات برقرار رہیں۔ سرکاری اخراجات میں کفایت ہو، غیر ضروری مراعات ختم ہوں، خسارے میں چلنے والے اداروں میں اصلاحات ہوں اور قومی وسائل کا رخ عوامی فلاح کی طرف موڑا جائے۔
اس تمام بحث کا سب سے اہم پہلو قومی سوچ کی تبدیلی ہے۔ ہم کب تک یہ توقع کرتے رہیں گے کہ حکومتیں ہمارے تمام مسائل حل کر دیں؟ کب تک ہم اپنے فرائض سے زیادہ حقوق کی بات کرتے رہیں گے؟ کب تک ہم قانون توڑ کر قانون کی حکمرانی کا مطالبہ کرتے رہیں گے؟ قومیں صرف نعروں سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں۔ پاکستان کو کسی معجزے کی ضرورت نہیں۔ اسے صرف درست سمت، درست ترجیحات اور درست فیصلوں کی ضرورت ہے۔
ہمیں آج یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیا چھوڑ کر جائیں گے؟ قرضوں کا بوجھ، کمزور ادارے، بے روزگاری، آلودہ ماحول اور تقسیم شدہ معاشرہ۔۔۔ یا علم، ہنر، روزگار، مضبوط معیشت، انصاف اور خود انحصاری پر مبنی ایک باوقار پاکستان؟ یہ فیصلہ حکومتوں سے زیادہ ہمیں بحیثیت قوم کرنا ہے۔
یاد رکھیے! قوموں کی تقدیر آسمان سے نہیں اترتی۔ اسے قلم، کتاب، کارخانے، کھیت، لیبارٹری، عدالت، دفتر اور میدانِ عمل میں لکھا جاتا ہے۔ تاریخ ان قوموں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے جو بحران کے وقت شکایت نہیں کرتیں بلکہ سمت درست کرتی ہیں۔
آج کا ایک درست فیصلہ کل کی ایک پوری نسل کا مقدر بدل سکتا ہے۔ اس لیے اب وقت محض تقریروں، وعدوں اور نعروں کا نہیں، فیصلوں کا وقت ہے۔ اگر ہم نے آج بھی فیصلے ملتوی کیے تو آنے والی نسلیں ہم سے صرف ایک سوال کریں گی کہ آپ کے پاس وسائل بھی تھے، مواقع بھی تھے، صلاحیت بھی تھی۔۔۔ پھر آپ نے درست فیصلے کیوں نہیں کیے؟

جواب دیں

Back to top button