امریکی عدم اعتماد کی عکاسی: ٹرمپ کا بیجنگ سے الوداع

امریکی عدم اعتماد کی عکاسی: ٹرمپ کا بیجنگ سے الوداع
تحریر : خواجہ عابد حسین
بیجنگ سے واپسی کا منظر بڑا دلچسپ تھا۔ 15مئی 2026ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وفد اور ان کے ساتھ موجود پریس کے ارکان نے چینی حکام کی طرف سے دئیے گئے ہر شے کو ہوا میں اڑا دیا۔ کریڈنشلز، بیجز، ڈیلی گیشن پن، ہاس آف وائٹ کے برنر فونز، تحائف اور یادیں، سب کچھ ایئر فورس ون کے نیچے رکھے بن میں پھینک دیا گیا۔ سیکرٹ سروس اور انتظامیہ کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی اور سائبر سیکیورٹی کے سخت پروٹوکولز ہیں، کچھ بھی جو چینی نیٹ ورکس سے ٹچ ہوا ہو، صدارتی طیارے میں نہیں جانا چاہیے۔
یہ ایک سادہ احتیاط نہیں، بلکہ گہری عدم اعتماد کا کھلا اظہار ہے۔ دو بڑی طاقتوں کے درمیان جو سمٹ ہوئی، جسے چینی صدر شی جن پنگ نے ’’ تاریخی اور سنگ میل‘‘ قرار دیا، اس کے بعد یہ عمل اس تعلقات کی حقیقت کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ بات چیت ہوئی، ٹیمپل آف ہیون کی سیر ہوئی، بینکوئٹ ہوا، ژونگ نان ہائی کے باغات میں چہل قدمی ہوئی، چائے پی گئی، مگر جب واپسی کا وقت آیا تو امریکیوں نے واضح پیغام دیا: ’’ تمہاری چیزوں پر بھروسہ نہیں‘‘۔
یہ رویہ صرف پروٹوکول نہیں، بلکہ ایک نفسیاتی دیوار ہے۔ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان جب ذاتی سفارتکاری اور ’’ اسٹریٹجک استحکام‘‘ کی بات ہو رہی ہو، تو پھر بھی برنر فونز اور پن تک کو مشکوک سمجھا جائے، یہ بتاتا ہے کہ اعتماد کی سطح کتنی نچلی ہے۔ امریکی میڈیا نے اسے معمول کی احتیاط قرار دیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سرد جنگ کی یاد دلانے والا عمل ہے۔ ایک ایسا عمل جو’’ win۔win‘‘ کی بات کرنے والوں کے دعوئوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے انداز میں fist pumpکیا، ہاتھ ہلایا اور طیارے میں داخل ہو گئے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی الوداع کہنے آئے، سکول کے بچوں نے امریکی اور چینی جھنڈے لہرائے، مگر سب کے پیچھے وہ بن تھا جس میں چینی مہمان نوازی کے نشانات دفن ہو رہے تھے۔ یہ منظر علامتی طور پر بہت کچھ کہتا ہے: سطح پر خوشگوار باتیں، مگر گہرائی میں گہرا شک۔
اس سمٹ سے جو کچھ نکلا اور جو نہیں نکلا، وہ ابھی واضح نہیں ہوا۔ شی جن پنگ نے ’’ باہمی افہام و تفہیم‘‘ کی بات کی، مگر امریکی عمل اس افہام کو خود ہی زیر سوال لے آیا۔ جب دو بڑی قومیں ایک دوسرے کی چھوٹی چھوٹی چیزوں پر بھی اتنا احتیاط برتیں تو عالمی استحکام کے دعوے کتنے پختہ ہیں؟
پاکستان سمیت دنیا بھر کے ناظرین اس منظر کو دیکھ رہے ہیں۔ یہ صرف امریکی سیکیورٹی کا معاملہ نہیں، بلکہ آئندہ کے عالمی تعلقات کی شکل کا اشارہ ہے، جہاں بات چیت تو ہوتی رہے گی، مگر بھروسہ شاید کبھی نہ ہو۔





