سالانہ بجٹ اور پنشنرز کی امیدیں

سالانہ بجٹ اور پنشنرز کی امیدیں
تحریر : رفیع صحرائی
جون کا مہینہ قریب آتے ہی ملک بھر کے لاکھوں سرکاری ملازمین اور خصوصاً پنشنرز کی نظریں آنے والے بجٹ پر جم جاتی ہیں۔ یہ انتظار صرف اعداد و شمار کے کسی سرکاری اعلان کا نہیں ہوتا بلکہ یہ امید، خوف، اضطراب اور بقا کی جنگ کا انتظار ہوتا ہے۔ ایک ریٹائرڈ ملازم کے لیے پنشن محض چند نوٹ نہیں بلکہ اس کی پوری زندگی کی کمائی، اس کی جوانی کی قیمت، اس کے خوابوں کی آخری قسط اور بڑھاپے کا واحد سہارا ہوتی ہے۔
پنشنرز وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال دفاتر، فائلوں، سکولوں، اسپتالوں، عدالتوں اور سرکاری اداروں کے نام کر دئیے۔ صبح کی اذان سے پہلے جاگنے والے یہ لوگ چالیس چالیس برس تک ریاستی مشینری کا پہیہ چلاتے رہے۔ انہوں نے اپنے بچوں کی خواہشات قربان کیں، اپنی صحت دائو پر لگائی، تبادلے برداشت کیے، افسران کی ڈانٹ اور سختیاں سہیں اور نظام کے بوجھ تلے اپنی زندگیاں گزار دیں۔ پھر ایک دن اچانک انہیں ایک کاغذ تھما دیا جاتا ہے جس پر لکھا ہوتا ہے کہ آپ ریٹائر ہو چکے ہیں۔ یوں جیسے ریاست اپنے وفادار سپاہیوں سے کہہ رہی ہو کہ اب آپ کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
ساٹھ برس کی عمر وہ عمر نہیں ہوتی جب انسان نئی جدوجہد شروع کرے۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب جسم جواب دینے لگتا ہے۔ آنکھوں کی روشنی مدھم پڑ جاتی ہے، گھٹنوں میں درد اتر آتا ہے، شوگر، بلڈ پریشر اور دل کے امراض مستقل ساتھی بن جاتے ہیں۔ یادداشت کمزور پڑ جاتی ہے اور زندگی کی شام آہستہ آہستہ اترنے لگتی ہے۔ ایسے عالم میں ایک پنشنر کے پاس اگر کچھ بچتا ہے تو وہ صرف اس کی پنشن ہوتی ہے مگر المیہ یہ ہے کہ مہنگائی کے اس بے رحم دور میں یہی پنشن اس کی بنیادی ضروریات کے لیے بھی ناکافی ہو چکی ہے۔ہمارے معاشرے میں ریٹائرڈ بزرگ صرف دو افراد یعنی میاں بیوی کا نام نہیں ہوتے بلکہ وہ پورے خاندان کا مرکز ہوتے ہیں۔ بیٹے، بہوئیں، بیٹیاں، داماد، پوتے، پوتیاں، نواسے اور نواسیاں سب اسی چھت تلے محبت، شفقت اور سہارا تلاش کرتے ہیں۔’’ پیکے گھر‘‘ کی روایت آج بھی ہمارے معاشرے کی خوبصورت حقیقت ہے۔ شادی شدہ بیٹی جب اپنے بچوں سمیت والدین کے گھر آتی ہے تو گھر میں خوشیوں کی بہار آ جاتی ہے مگر ان خوشیوں کے ساتھ اخراجات کا ایک نیا طوفان بھی آتا ہے۔ والدین اپنی بیٹی کی عزت اور مان برقرار رکھنے کے لیے اپنی حیثیت سے بڑھ کر خاطر مدارت کرتے ہیں تاکہ اسے سسرال میں یہ نہ سننا پڑے کہ اس کے والدین نے عزت نہیں دی۔
پھر عیدیں آتی ہیں، تہوار آتے ہیں، بچوں کی فرمائشیں ہوتی ہیں، خاندان کی تقریبات ہوتی ہیں، شادی بیاہ اور خوشی غمی کے تقاضے ہوتے ہیں۔ خاندان اور برادری کے بزرگ ہونے کے ناتے ان تمام ذمہ داریوں کا بوجھ انہی کمزور کندھوں پر آ پڑتا ہے۔ دوسری طرف ان کی آمدنی ایک محدود پنشن تک قید رہ جاتی ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ سکڑتی جا رہی ہے۔
سب سے دردناک پہلو علاج معالجے کا ہے۔ بڑھاپا ویسے ہی بیماریوں کا موسم ہوتا ہے، اوپر سے ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر کی فیس، ٹیسٹوں کے اخراجات اور مہنگی دوائیں ایک پنشنر کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں۔ حکومت جب بھی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دیتی ہے تو شاید اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ اس فیصلے کے پیچھے کتنے سفید پوش بزرگ خاموشی سے اپنی دوائیں چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کتنے بزرگ اپنی بیماری چھپا لیتے ہیں تاکہ گھر کے خرچے متاثر نہ ہوں، اور کتنے ماں باپ اپنی تکلیف برداشت کر لیتے ہیں مگر اولاد پر بوجھ نہیں بنتے۔
افسوس یہ ہے کہ ہمارے حکمران آج بھی پنشنرز کو صرف ایسے افراد سمجھتے ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی مل جائے تو شاید ان کی تمام ضروریات پوری ہو جاتی ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ پنشنرز کی ضروریات عام آدمی سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں۔ انہیں دواں کی ضرورت ہوتی ہے، عزتِ نفس کی ضرورت ہوتی ہے، سماجی تعلقات نبھانے ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر انہیں اس احساس کی ضرورت ہوتی ہے کہ ریاست نے ان کی عمر بھر کی خدمات کو فراموش نہیں کیا۔
ایک اور بڑی ناانصافی یہ ہے کہ بجٹ میں حاضر سروس ملازمین کی تنخواہوں میں جتنا اضافہ کیا جاتا ہے، پنشنرز کی پنشن میں اس کا آدھا اضافہ کر کے گویا یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی اہمیت بھی آدھی رہ گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مہنگائی پنشنرز کے لیے کم ہوتی ہے؟ کیا دوائیں انہیں آدھی قیمت پر ملتی ہیں؟ کیا بجلی، گیس، آٹا، چینی اور روزمرہ اشیاء ان کے لیے رعایتی نرخوں پر دستیاب ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر ان کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس طبقے کی حالت زار کو سنجیدگی سے سمجھے۔ پنشنرز کوئی بوجھ نہیں بلکہ ریاست کا سرمایہ ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگیاں اس ملک کے اداروں کے لیے وقف کیں۔ آج اگر وہ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں تو یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی المیہ بھی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ آئندہ بجٹ میں پنشنرز کی پنشن میں نمایاں اور حقیقی اضافہ کرے تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں۔ کم از کم اتنا ضرور ہونا چاہیے کہ ایک بزرگ اپنی دوائیں خریدتے وقت اپنے بچوں کی ضروریات کا حساب لگانے پر مجبور نہ ہو۔
اسی طرح سرکاری ملازمین کی انشورنس سکیم کا معاملہ بھی لمحہ فکریہ ہے۔ برسوں تک ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کی جاتی ہے مگر ریٹائرمنٹ کے وقت انہیں اپنی ہی جمع شدہ رقم واپس نہیں ملتی۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس رقم کے حصول کے لیے ملازم کو مرنا پڑتا ہے تاکہ اس کے لواحقین اس کے ’’ حق‘‘ کے وارث بن سکیں۔ یہ کیسا نظام ہے جہاں زندہ انسان اپنی جمع پونجی سے محروم رہتا ہے مگر موت کے بعد اسے ’’ اہلیت‘‘ ملتی ہے؟ حکومت کو چاہیے کہ ریٹائرمنٹ کے وقت ملازمین کو انشورنس کی مکمل رقم ادا کرے اور پہلے سے ریٹائرڈ ملازمین کو بھی منافع سمیت ان کا حق واپس دیا جائے۔
کسی بھی معاشرے کی مہذب ہونے کی اصل پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ اگر ایک شخص اپنی پوری زندگی ریاست کے نام کر دے اور بڑھاپے میں دواں، عزت اور بنیادی ضروریات کے لیے ترستا رہے تو یہ صرف اس فرد کی نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ بجٹ کو صرف اعداد و شمار کا کھیل بنانے کے بجائے انسانوں کی زندگیوں سے جوڑا جائے۔ ان سفید بالوں، جھریوں بھرے چہروں اور تھکے ہوئے ہاتھوں کا بھی حق ہے کہ انہیں بڑھاپے میں سکون، عزت اور تحفظ میسر آ سکے۔
رفیع صحرائی







