Column

مقروض پاکستان، مہنگائی کا طوفان، بے حس حکمران اور ڈٹا ہوا کپتان

مقروض پاکستان، مہنگائی کا طوفان، بے حس حکمران اور ڈٹا ہوا کپتان
تحریر : راجہ شاہد رشید
من پسند ترامیم کر کر کے ہم نے 1973ء کے پہلے متفقہ آئین کا حلیہ ہی بگاڑ لیا ہے اور مزید بھی بگاڑنے کے درپے ہیں ، پہلے چھبیسویں ترمیم کر کے نظام عدل کو مجبور اور بے بس بنایا گیا ، پھر اس کے بعد ستائسویں ترمیم لے آئے اور اب یہ لوگ اٹھائسویں ترمیم کے تانے بانے بُن رہے ہیں ، جو تھوڑا بہت فرق رہ گیا ہے وہ اس میں نکال لیں گے۔ ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی، غریب عوام کے مفاد کے لیے سوچنا اور انہیں ریلیف دینا شاید ان سب سیاسی جماعتوں کی ترجیحات ڈائریکٹری میں ہی نہیں ہے۔ یہ مڈل کلاس کو ہی ختم کر دیں گے، خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے والے مجبور پاکستانیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور آہستہ آہستہ متوسط طبقہ بھی خط غربت سے نیچے جا رہا ہے۔ سرکاری اداروں کو بیچا جا رہا ہے پرائیویٹ کیا جا رہا ہے۔ بے چارے غم کے مارے سرکاری ملازمین روتے ہیں دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں، پرائیویٹ سیکٹر میں پہلی بات تو یہ ہے کہ نوکریاں ہی نہیں ہیں اور اگر کہیں کچھ نوکریاں ہیں بھی تو تنخواہیں نہیں ہیں یعنی بہت ہی کم ہیں ، بیس پچیس ہزار میں کوئی اورنگزیب یا ڈار مجھے ایک مختصر فیملی کا ماہانہ بجٹ تو بنا کر تو دکھائے، دس پندرہ ہزار تا بجلی کا بل آ جائے گا، باقی 10ہزار میں کوئی لگائے کیا اور کھائے کیا۔؟ الغرض گزارا نہیں ہے اور کوئی چارہ نہیں ہے، غریب عوام کدھر جائیں اور کیا کریں۔ غربت، مہنگائی، بیروزگاری اور مایوسی کے مارے نوجوان معمولی نوکریوں، محنت مزدوری کے لیے بیرونی ممالک میں بالخصوص عرب ملکوں کو بھاگ رہے ہیں، اداسی و مایوسی دیس کی دہلیز پہ بال کھولے سو رہی ہے۔ ان ظالم حکمرانوں نے ٹیکسوں میں بے انتہا اور اندھا دھند اضافے کر دئیے ہیں، پس انہوں نے ہم سے ٹیکس ہی تو لینے ہوتے ہیں ، نہیں تو یہ ہمیں ملک بدر کرنے سے بھی باز آنے والے نہیں ہیں۔ میرے پاکستان میں پٹرول کی قیمت سب سے زیادہ ہے، 412روپے فی لٹر ہے، جبکہ خطے کے کسی اور ملک میں اتنی زیادہ قیمتیں نہیں ہیں، ملک کے سینئر صحافی و کالم نگار، برادرم و محترم انصار عباسی جی کا کہنا ہے کہ یہ حکومت پٹرول پر 145روپے فی لٹر ٹیکس لے رہی ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران و امریکہ کی کشیدگی کی وجہ سے سارے عالم میں اس جنگی ماحول کے باوجود بھی پاکستان میں پٹرول کی قیمت زیادہ سے زیادہ دو سو روپے فی لٹر ہونی چاہیے ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بالکل بے جا ہے بلکہ ناجائز ہے ۔ سوائے بلند و بانگ دعوئوں اور نعروں کے اس حکومت و اپوزیشن دونوں کے پلے ’’ ککھ‘‘ بھی نہیں ہے ۔ مدتوں سے پنجاب میں شریفوں کی اور کے پی کے میں PTIکی حکومت ہے ، ان ظالموں نے پاکستان کو مسائلستان بنا دیا ہے۔ مرکز میں بھی عمران خان کا چار سالہ دور حکومت مثالی نہیں رہا ۔ جب بھی شفاف اور منصفانہ الیکشن ہوئے تو ن لیگ 40سیٹیں بھی نہیں لے پائے گی ، البتہ بانی PTIکے پاس ایک چیز ضرور ہے اور وہ اس کی مقبولیت ہے، جس میں اضافہ ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔ عمران خان کے چاہنے والوں کے پاس ایک جواز ضرور موجود ہے جو وہ فخراً بتلاتے پھرتے ہیں۔ کل سوشل میڈیا پہ تحریک انصاف کے ایک صاحب نے کمنٹ کیا آپ بھی ملاحظہ فریائیے: ’’ ہم پر یہ الزام ہے کہ ہم ملک سے نہیں بلکہ عمران سے مخلص ہیں۔ یہاں کچھ چیزوں کی وضاحت ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ انصافین عمران سے کیوں مخلص ہیں؟۔ اس کی وجہ صرف پاکستان ہے۔ ہم نے برسوں سے پاکستان کو لٹتے دیکھا، بیرون ملک جائیدادیں بنتے دیکھا، کرپٹ لوگوں کی اولادوں کو عیاشی کرتے دیکھا تو سیاستدانوں بلکہ سیاست سے ہی مایوس تھے، اس لیے عمران کو مسیحا سمجھ بیٹھے، ہم تسلیم کرتے ہیں عمران سے غلطیاں ہوئیں، جنرل باجوہ اور جنرل فیض کے ساتھ ’’ ایک پیج‘‘ سراب بلنڈر تھا، لیکن 2022ء سے عمران کے ساتھ جو ہو رہا ہے اس سے بانی کی مقبولیت اور اس سے والہانہ محبت آسمان کی بلندیوں تک پہنچ چکی ہے، اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ عمران خان بھی نواز شریف کی طرح ڈیل کر کے فرار ہو جائے گا، لیکن وہ ڈٹ گیا، اس پر پریشر ڈالنے کے لئے اس کی بیوی کو بھی قید کر رکھا ہے۔ عمران خان کے چاہنے والے یہ سب دیکھ رہے ہیں۔ وہ دل سے سمجھتے ہیں کہ عمران خان یہ ساری تکلیف پاکستان کے لئے اٹھا رہا ہے، ورنہ اسے بار بار ڈیلز کی آفر ہورہی ہیں، عوام عمران کو ڈٹا ہوا دیکھ رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ عمران خان کے سوا پاکستانیوں کے لیے صرف اندھیرا ہے، اس لیے عمران ہی امیدوں کا مرکز ہے۔ اگر آپ اس بات کو غلط سمجھتے ہیں تو اس لیڈر کا نام بتا دیجیے جو اس نظام کے خلاف اس جارحانہ انداز سے لڑ رہا ہو؟۔ کوئی ایک نام بتلا دیں، کسی ایک لیڈر کا نام لیجئے جس سے یہ نظام اتنا ہی خوفزدہ ہو جتنا عمران خان سے ہے، پلیز کوئی ایک نام جو اس استقامت و بہادری سے جیل جھیل رہا ہو۔ باقی پاکستان میں کون ہے جس کی ہم بات کریں، پلیز کوئی ایک نام تو ضرور بتلائیے؟ ۔ لہذا انصافیوں کے نزدیک عمران خان کے سوا کوئی آپشن نہیں رہا، اگر کل عمران ڈیل کر لے، ملک میں آپریشنز کا حامی ہو جائے، امریکی جنگوں کو ویلکم کہے، شریفوں و اشرافیہ کے ساتھ مفاہمت کے نام پر جپھی ڈال لے، لندن دبئی میں جائیدادیں بنائے اور اپنے سارے خاندان و اولادوں کو عہدوں پر براجمان کر دے تو یقین کیجئے انصافیوں کی اکثریت عمران پر لعنت بھیج کر اس سے دور ہو جائے گی۔ در حقیقت عمران پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے زیر عتاب ہے اور ہماری اصل محبت اور امید پاکستان ہے۔ ملکی تاریخ میں قرضے لینے میں نواز اور شہباز کا ثانی کوئی نہیں ہے، انہوں نے سب سے زیادہ بھاری سودی قرضے لیے اور تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں، کمر توڑ مہنگائی سے غریب کی زندگی ہی اجیرن ہو گئی ہے، انہوں نے ملک و قوم کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ عمران کی رہائی سے، آمریت کی ہار سے اور جمہوریت کی جیت سے ہی سیاسی استحکام آئے گا اور پھر معاشی استحکام آئے گا، ہر سو ہریالی ہوگی، خوشحالی ہوگی، ان شاء اللہ ، ان شاء اللہ‘‘۔

جواب دیں

Back to top button