Column

بجلی بحران: معیشت، صنعت، عوام پر گہرے اثرات اور فوری حل کی ضرورت

بجلی بحران: معیشت، صنعت، عوام پر گہرے اثرات اور فوری حل کی ضرورت
تحریر : تنویر احمد شیخ
پاکستان اس وقت ایک بار پھر شدید توانائی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں بارہ بارہ گھنٹے تک غیر علانیہ لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال نے نہ صرف گھریلو صارفین کو پریشان کر رکھا ہے بلکہ امپورٹرز، ایکسپورٹرز، تاجر برادری اور صنعتی شعبہ بھی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ بجلی کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ جب یہی بنیادی سہولت غیر مستحکم ہو جائے تو اس کے اثرات ہر شعبے پر مرتب ہوتے ہیں۔ موجودہ حالات میں یہی دیکھنے میں آرہا ہے کہ غیر علانیہ لوڈشیڈنگ نے کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے سبب ملکی معیشت کے لیے نئے چیلنجز جنم لے رہے ہیں۔
غیر علانیہ لوڈشیڈنگ سے نہ صرف عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ کاروباری طبقہ بھی شدید بے یقینی کا شکار ہو جاتا ہے۔ جب صنعتکاروں کو یہ معلوم نہ ہو کہ بجلی کب آئے گی اور کب جائے گی تو وہ اپنی پیداوار کی منصوبہ بندی نہیں کر سکتے۔ یہ صورتحال خاص طور پر صنعتی شعبے کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے جہاں مشینری مسلسل بجلی کی فراہمی کی متقاضی ہوتی ہے۔ بجلی کی اچانک بندش سے نہ صرف پیداوار رک جاتی ہے بلکہ مشینری کو نقصان پہنچنے کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔
پاکستان کا صنعتی شعبہ پہلے ہی متعدد مسائل کا شکار ہے جن میں مہنگی توانائی، بلند شرح سود، خام مال کی قیمتوں میں اضافہ اور پالیسیوں کا عدم تسلسل شامل ہیں۔ ایسے میں لوڈشیڈنگ نے ان مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے سبب پیداواری عمل متاثر ہو رہا ہے، آرڈرز کی بروقت تکمیل ممکن نہیں رہی اور ایکسپورٹ سیکٹر کی کارکردگی کمزور پڑ رہی ہے۔ جب صنعتیں اپنی پیداواری صلاحیت برقرار نہ رکھ سکیں تو اس کا براہ راست اثر برآمدات پر پڑتا ہے، جو کہ ملکی معیشت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
برآمدات پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اگر صنعتی پیداوار متاثر ہوگی تو برآمدات میں کمی ناگزیر ہے۔ برآمدات میں کمی کا مطلب ہے کہ ملک میں آنے والا فارن ایکسچینج کم ہو جائے گا، جس سے نہ صرف روپے پر دبا بڑھے گا بلکہ تجارتی خسارہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک کو زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی اشد ضرورت ہے، لوڈشیڈنگ جیسے اقدامات صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔
لوڈشیڈنگ کے دوران صنعتکاروں کو مجبورا جنریٹرز چلانے پڑتے ہیں، لیکن ڈیزل کی قیمتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ اس کا استعمال ایک بڑا مالی بوجھ بن گیا ہے۔ ڈیزل سے بجلی پیدا کرنا انتہائی مہنگا ہے۔ پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے اور مقامی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں غیر مسابقتی ہو رہی ہیں۔
موجودہ بحران کا ایک اور منفی پہلو یہ ہے کہ کچھ عناصر اس صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بیٹریز، یو پی ایس، سولر سسٹمز اور دیگر متبادل توانائی کے آلات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف صارفین کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے بلکہ کاروباری لاگت میں بھی اضافہ کر رہا ہے، جو کہ مجموعی طور پر معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو صنعتی سرگرمیاں مزید سست ہو جائیں گی جس کے نتیجے میں فیکٹریاں بند ہونے، مزدوروں کی چھانٹیاں اور بے روزگاری میں اضافے کا خدشہ ہے۔ یہ تمام عوامل معاشرتی مسائل کو جنم دے سکتے ہیں اور ملک میں اقتصادی عدم استحکام کو بڑھا سکتے ہیں۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر لوڈشیڈنگ جیسے اقدامات کی سفارش کون کر رہا ہے اور کیوں؟ ایسے فیصلے کرتے وقت معیشت، صنعت اور عوامی مفادات کو مدنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وزارت توانائی فوری طور پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے، کاروباری برادری سے مشاورت کرے اور شفاف حکمت عملی سامنے لائے۔
توانائی کے شعبے میں آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدے پہلے ہی بحث کا موضوع رہے ہیں۔ موجودہ بحران نے ایک بار پھر ان معاہدوں کی افادیت اور ساخت پر سوالات اٹھا دئیے ہیں۔ اگر یہ معاہدے مطلوبہ نتائج نہیں دے رہے تو ان کا ازسرنو جائزہ لینا ناگزیر ہے تاکہ توانائی کے شعبے کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔
موجودہ بجلی بحران صرف ایک عارضی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین معاشی چیلنج بن چکا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے اثرات طویل المدتی ہو سکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ فوری بند کی جائے، صنعتوں کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے، ڈیزل اور متبادل توانائی کے ذرائع پر ریلیف دیا جائے، توانائی پالیسی میں تسلسل اور شفافیت لائی جائے اور سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مستقل مشاورت کا نظام قائم کیا جائے۔
جب بھی پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہوتی ہے، کوئی نہ کوئی بحران اسے پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ اس بار بھی اگر بروقت اور دانشمندانہ فیصلے نہ کیے گئے تو نہ صرف صنعتی پہیہ رک جائے گا بلکہ ملک کو معاشی طور پر ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، ادارے اور کاروباری برادری مل کر اس بحران کا حل نکالیں تاکہ پاکستان کو ایک مستحکم اور ترقی یافتہ معیشت کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button