Column

پاک فوج کا افغان طالبان کو منہ توڑ جواب

پاک فوج کا افغان طالبان کو منہ توڑ جواب

راجہ شاہد رشید
پاک سرزمین کی حفاظت کے لیے لڑنے والے، ملک کو قوم کی خاطر اپنی جان تک قربان کرنے والے ہر فوجی کو سلام اور ساتھ سلیوٹ بھی، پاک فوج زندہ باد۔ پاک فوج کو سلام۔ افغان طالبان رجیم کے سرحدی علاقوں میں حملوں کو پسپا کرنے پر ہر پاکستانی بلکہ ہر مسلم افواج پاکستان کی تعریف کر رہا ہے اور بھرپور جوابی کارروائیاں کرنے پر سارے عالم میں افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بے حد سراہا جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی یہ بات بجا ہے کہ پوری قوم ارض وطن کی حفاظت کے لیے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، جبکہ دوسری جانب پاک افغان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں صدر مملکت پاکستان سردار آصف علی زرداری نے سخت رد عمل دیتے ہوئے یہ صد فیصد درست کہا ہے کہ ’’ ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا، ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، پاکستان کی بہادر مسلح افواج وطن کی سرحدوں کے دفاع کے لیے ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہیں اور کسی کو یہ غلط فہمی بھی نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستان کسی قسم کا کوئی دبائو قبول کر لے گا یا کسی کی دھمکی سے مرعوب ہو گا‘‘۔ تازہ ترین سرکاری اطلاعات اور حکومتی تفصیلات کی مطابق اب تک افغان طالبان کی 89چیک پوسٹیں تباہ ، 18چیک پوسٹوں پر قبضہ، 135ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ کی جا چکی ہیں، 29مقامات کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا ، افغان طالبان کے 331اہلکار ہلاک، 500زخمی ہیں ۔ اس سے قبل گزشتہ روز راولپنڈی میں ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی ISPRلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھی بتلایا تھا کہ آپریشن غضب للحق میں 274افغان رجیم کے اہلکار و خوارج مارے گئے اور 400زخمی ہیں جبکہ ہمارے 12جوان شہید ،27زخمی ہیں‘‘۔ ان افغانیوں نے ظلم کی انتہا کر دی ، بھلا کوئی مسلمان ہو کر بھی مساجد پر حملہ کرتا ہے کیا۔؟ پاکستان نے ہمیشہ انھیں اپنا مسلمان بھائی سمجھا ، انہیں سہارا دیا اور ان کا بوجھ برداشت کرتا رہا لیکن صد افسوس و ماتم کی یہ انڈیا کے الہ کار بن گئے، انہوں نے ساری دنیا کے سامنے یہ ثابت کر ڈالا ہے کہ ہم ایک احسان فراموش اور بے وفا مخلوق ہیں ۔ اب قطر سے رابطے کر کے کہا جا رہا ہے کہ خدارا ہمیں پاکستان سے بچائیں، طالبان حکومت نے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے آئیں ہم سے مذاکرات کریں اور پرامن سفارتی حل نکالیں ۔ ایک عالمی ادارے نے طالبان کی طاقت کا سارا پول کھول دیا ہے ، لندن میں قائم ادارے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق عسکری طاقت کے اعتبار سے پاکستان کو افغانستان پر واضح برتری حاصل ہے، مجموعی جائزہ کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج بھرتی کے مضبوط نظام کے باعث افرادی قوت برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، پاکستان کو اپنے بڑے دفاعی شراکت دار چین سے جدید عسکری ساز و سامان بھی حاصل ہے ، اسلام آباد ایٹمی پروگرام میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے اور بحریہ و فضائیہ کو بھی جدید بنایا جا رہا ہے ، جبکہ دوسری جانب افغان طالبان کی عسکری صلاحیت میں کمی دیکھی گئی ہے، خاص طور پر 2021ء میں اقتدار میں واپسی کے بعد قبضے میں لیے گئے غیر ملکی ساز و سامان کے موثر استعمال میں مشکلات سامنے آئی ہیں، طالبان حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم نہ کیے جانے کے باعث عصری جدید کاری بھی متاثر ہوئی ہے۔ عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ’’ پاکستان کی مسلح افواج میں 6لاکھ 60ہزار فعال اہلکار شامل ہیں ، جن میں 5لاکھ 60ہزار بری فوج، 70ہزار فضائیہ اور 30ہزار بحریہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ افغان طالبان کے پاس ایک لاکھ 72 ہزار فعال فوج ہے، پاکستان کے پاس 60ہزار سے زائد بکتر بند گاڑیاں ہیں اور 4ہزار 600سے زیادہ توپ خانے موجود ہیں، افغان فورسز کے پاس بھی بکتر بند گاڑیاں اور سوویت دور کے ٹینک موجود ہیں تاہم ان کی درست تعداد واضح نہیں، پاکستان کے پاس 465جنگی طیاروں اور 260سے زائد ہیلی کاپٹروں پر مشتمل بیڑا موجود ہی جبکہ افغانستان کے پاس کوئی فعال لڑاکا طیارہ نہیں اور فضائیہ نہ ہونے کے برابر ہے، پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کے پاس 170جوہری وار ہیڈ موجود ہیں جبکہ افغانستان کے پاس کوئی ایٹمی ہتھیار ہی نہیں ہے‘‘۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ’’ پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھا کر رہا ہے، مداخلت نہیں کروں گا، میں پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی عزت کرتا ہوں‘‘۔ ٹرمپ نے ایسا کہا تو ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ اپنی اس بات پر قائم بھی رہے گا، لہٰذا ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے اہداف کو جلد از جلد مکمل کر لیں کیونکہ پاک افغان کشیدگی کے ضمن میں چین نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر دیا ہے اور ایران و روس نے مذاکرات میں سہولت کاری کی پیشکش کر دی ہے ، اس کے علاوہ سیکرٹری جنرل UNنے بھی گہری تشویش کا اظہار فرمایا ہے ، مگر یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب ایران کو دھمکیاں دینے والے امریکہ کو کیوں کچھ نہیں کہتے۔؟ کیا اس پہ انہیں کوئی تشویش نہیں ہے۔۔۔؟

جواب دیں

Back to top button