Editorial

عید الفطر کی حقیقی خوشیاں

ملک بھر میں عیدالفطر ۳۴۴۱ھ آج روایتی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جارہی ہے ، کہ عید الفطرمسلمانوں کے لیے خدا کی فرمانبرداری اور رسولِ اللہ ﷺ کی اطاعت کرتے ہوئے اظہار تشکرکا دن ہے ۔مسلمانوں نے ماہ ِ صیام میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کی مکمل تعمیل کی اور سرکار دو عالم محمد ﷺ کی سنت مبارکہ اور احکامات کی روشنی میں روزے رکھے ۔ ہم سب نے ہر ممکن حد تک دنیاوی خواہشوں اور آلائشوں سے خود کو پاک رکھنے کی کوشش کی تاکہ اُن لوگوں میں شمار ہوسکیں جو اللہ تعالیٰ اور محبوبِ خدا ﷺ کو پسند ہیں۔ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ رخصت ہوا اور ہمیں عیدالفطر کی صورت میں انعام دے گیا بلاشبہ آئندہ ماہ ِ صیام سے وہی خوش نصیب مستفید ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ موقع دے گا وگرنہ کتنے ہی ایسے بدنصیب ہوں گے جو اُس وقت اپنے ہاتھوں پر زندگی بھر کی جمع پونجی یعنی نامۂ اعمال کے ساتھ اِس فانی دنیا سے رخصت ہوچکے ہوں گے اور یقیناً اُن کے لیے اب مزید نیکی یا گناہ کے مواقعے باقی نہیں رہے مگر وہ خوش قسمت ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ ایک بار پھر اِس ماہ ِ مقدس میں قیام الیل، تلاوت قرآن وعبادات کے مواقعے میسر آئیں گے۔
ماہِ صیام کی عبادت و ریاضت کے نتیجے میں ہماری زندگی میں تبدیلی آنی چاہیے ہمیں قرآن و سنت کو قانون کا ماخذ سمجھ کر اس کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اصل طرزِ زندگی یہی ہے اور اِسی سے معاشرے اور دنیا میں ہماری عزت و توقیر میں اضافہ ہو گاآج سے ہم تہیہ کرلیں کہ ہمہ وقت اپنا محاسبہ اور احتساب کریں گے اور اُس حقیقی زندگی کی طرف لوٹیں گے جو اللہ اور رسول خداﷺ نے ہمیں گذارنے کا حکم دیا ہے، جب ہم اُس طرز زندگی کو اپنالیں گے جو ہمیں اپنانے کا حکم دیاگیا ہے تو ہمارا معاشرہ اُن تمام برائیوں سے پاک ہوجائے گا جو معاشرے کو پاکیزہ نہیں رہنے دیتیں اور بدقسمتی سے جنہیں بُرا نہیں سمجھا جاتا۔ جس طرح ہم نے ماہ ِ صیام میں دن بھر بھوک و پیاس برداشت کی اور اپنی نفسانی خواہشات کو قابو میں رکھا اسی طرح ہمیں باقی کی زندگی بھی گذارنی ہے ، بطور مسلمان ہمارا ایمان مضبوط ہونا چاہیے کہ جو زندگی ہمیں اللہ اور رسول خدا ﷺ نے گذارنے کا حکم دیا ہے حقیقت میں وہی زندگی ہے باقی سب دنیاوی آلائشیں ہیں۔ آج ہمارا معاشرہ اِن آلائشوں سے بھرا پڑا ہے کیوں کہ ہم نے اپنی سمت ہی بدل لی ہے، بطور مسلمان اجتماعات مفادات کی بجائے ہم انفرادی مفادات کے لیے اُسی سمت چل پڑے ہیں جس کی منزل آخرت میں رسوائی کے سوا کچھ بھی نہیں۔
ہر سال ہم عید کے موقعے پر دنیاوی اور سیاسی بات چھیڑنے کی بجائے اتحاد اُمت کی بات کرتے ہیں ہم آج بھی وہی باتیں دھرائیں گے کہ کشمیر میں مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے مظلوموں کا خون بہہ رہا ہے لیکن کوئی اُن کی فریاد سننے والا نہیں اور ہمارے سمیت جو بھی اُن مظلوموں کے حق میں صدا بلند کرتا ہے وہ عالمی برادری کی بے حسی کے سناٹے میں دب جاتی ہے۔ ہم مظلوم فلسطینیوں کی بھی بات
کرتے ہیں کہ امسال بھی وہ اسرائیل چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں لیکن اُن کی فریاد سننے والا کوئی نہیں کیوں کہ فریاد کرنے والے مسلمان ہیںاور جنہوں نے اُن مظلوموں پر ظلم کے پہاڑ توڑے ہوئے ہیں وہ عالمی طاقتوں کا مفاد ہیں، رمضان المبارک کے آخری ہفتے کو ہم یوم القدس کے طور پر منالیا، اگلے سال پھر یوم القدس منائیں گے کیوں کہ اِس کے علاوہ مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں کے لیے ہم کچھ کرہی نہیں سکتے۔ مسلمان ریاستیں باہمی مسائل میں اُلجھی ہوئی ہیں ،
ہماری طاقت منتشر ہوچکی ہے اِس لیے ہم  نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغرتک حرم کی پاسبانی کے لیے کس طرح ایک ہیں ، ہم بھی جانتے ہیں اور کفار بھی۔ جہاں تک ہمارے اپنے معاملات ہیں تو آج ہم دیگر کئی مسلم ریاستوں کی طرح عالمی سطح پر سبھی کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، اگرچہ ہمیں بطور قوم ہمیشہ سے تربیت کے فقدان کا سامنا رہا ہے لیکن حالیہ چند دہائیوں سے ہم ایسے ایسے مناظر پوری دنیا کو دکھارہے ہیں جن کو سوچنا بھی ہمارے لیے باعث شرمندگی ہونا چاہیے۔ بابائے قومؒ اور علامہ اقبالؒ اور اُن کے ساتھ دیگر اکابرین ہی تھے جنہوں نے برصغیر پاک و ہند کے منتشر اور بے کس مسلمانوں کو یکجان کرکے ایک قوم بنایا اور جب یہ قوم باہر نکلی تو آزادی ہماری منتظر تھی لیکن بدقسمتی سے قائد اعظم محمد علی جناحؒ ، علامہ محمد اقبالؒ اور ہمارے اکابرین انتہائی مختصر عرصے میں ہمیں چھوڑ گئے اور ہم ایک ایسی قوم بن گئے جو قرآن و سنت کو تو اپنی سمت بنانے سے رہی اُس نے ادب اور قومیت کے تقاضے بھی یکسر نظر کردیئے کیوں کہ بتانے والا کوئی تھا ہی نہیں کہ ہم منزل کی بجائے غلط سمت کی طرف بڑھ رہے ہیں آج کے ملکی حالات اِسی غلط سمت کا نتیجہ ہیں ، عجیب صورت حال ہے کہ ہر فریق یا ہر فرد سمجھتا ہے کہ وہی ٹھیک ہے اور اُس کا ہونا ملک و قوم کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔
آزادی سے پہلے برصغیر پاک و ہند لسانیت کا شکار تھا ہم مسلمان بھی ذات برادریوں میں تقسیم تھے مگر ہماری قیادت نے اِس تاثر کو ختم کرکے ہمیں ایک ناقابل تسخیر قوم بنایا یوں لسانیت، ذات برادری اور مسلک سب پیچھے رہ گیا اور ہم ایک قوم بن گئے مگر آج ہم ایک بار پھر لسانیت، ذات برادری اور مسالک کی تقسیم کا شکار ہوچکے ہیں، ہمارے ناموں کے ساتھ ہمارے ذات برادری یا مسلک جڑا ہوا ہے ، پھر سیاسی قیادت نے ہمیں نظریات کی بنیاد پر تقسیم کرکے رہی سہی کسر پوری کردی ہے یعنی ہمارے قائدین اور آبائو اجداد نے جن خرابیوں اور تقسیم کو ختم کرکے مسلمانوں کو ایک قوم بنایا تھا وہی قوم آج پھر تقسیم در تقسیم کا شکار کردی گئی ہے۔ قوم سمجھنے سے قاصر ہے کہ سیاست ، سیاست اور صرف سیاست میں قوم ، ملک ، سلطنت کہاں ہیں ؟ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہر پاکستانی کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
نفرت اور دشمنی کے الزامات عام ہیں اب تو سیاست میں مذہبی معاملات کو لایا جارہا ہے ۔ سیاسی صورت حال بہتری کی بجائے تنزلی کا شکار ہے، سرمایہ دار پریشان ہیں، قوم کو حالات کی سمجھ نہیں آرہی ، کوئی نہیں جانتا اگلے دن کیا چاند چڑھ جائے، پے در پے حیران کن اور افسوس ناک واقعات کے صدمے سے قوم باہر نہیں نکلی تھی کہ سیاست میں مذہب کا عنصر بھی شامل کردیاگیا، ہم اقتدار کے لیے کس نہج تک جاسکتے ہیں شاید ابھی یہ دعویٰ نہ کرپائیں کیوں کہ روزانہ ایک نئے تلخ تجربے اور افسوسناک حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہر ادارے کی تکریم دائو پر لگی ہوئی ہے بلکہ ملک، قوم اور سلطنت سبھی کچھ دائو پر لگاہوا ہے، جو اِن کے ضامن ہیں وہ ہماری زد میں آئے ہوئے ہیں ۔ تلخ حقائق اور واقعات پر لب کشائی کیونکر کی جائے کہ اب ہمارے پاس اِن پر بحث کے سوا کچھ رہ ہی نہیں گیا۔ کاش ہم اُمت مسلمہ کے لیے اعلیٰ مثال بنتے مگر قیادت کا فقدان اور انفرادی مفادات ہمیں آج اِس مقام پر لے آئے ہیں کہ ہم خود دار قوم بھی ہیں مگر مسلم بھائیوں سے مدد کے خواستگار بھی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button