تازہ ترینخبریںپاکستان سے

حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ‌ پنجاب منتخب

مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز نئے وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے۔

پنجاب اسمبلی میں ق لیگ اور پی ٹی آئی کی جانب سے واک آؤٹ کرنے کے بعد مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز پنجاب کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوگئے۔

حمزہ شہباز نے 197 ووٹ حاصل کیے اور وہ پنجاب کے 21ویں وزیراعلیٰ منتخب ہوئے، پی ٹی آئی اور ق لیگ کے بائیکاٹ کے باعث ووٹ کا عمل یکطرفہ تھا۔

اجلاس تاخیر سے شروع ہوا

پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی زیر صدارت آج ساڑھے 11 بجے شروع ہونا تھا تاہم پہلے حکومتی اراکین کے اسمبلی ہال نہ پہنچنے کے باعث اجلاس تاخیر کا شکار ہو ا۔

اسمبلی اراکین کو ایوان میں بلانے کے لیے گھنٹیاں بجائی جاتی رہی ہیں لیکن سخت سکیورٹی انتظامات کے دعووں کے باوجود حکومتی خواتین اراکین اسمبلی میں اپنے ساتھ لوٹے بھی لے آئیں اور انہوں نے لوٹے لوٹے کے نعرے لگانا شروع کر دیے جس کے باعث ایوان میں شور شرابہ شروع ہوگیا۔

پرویز الٰہی تشدد سے زخمی

مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری پرویز الٰہی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز کے کہنے پرسب دوڑے آئے اورمجھ پرحملہ کیا۔

پرویز الٰہی نے کہا کہ اسپیکر کے ساتھ یہ ہوا ہے یہ شریفوں کی جمہوریت ہے، حمزہ شہباز اور نواز شریف کے کہنے پر میرے ساتھ یہ سب کیا گیا۔

دوست محمد مزاری پر تشدد

بعد ازاں جب ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کے لیے ہال میں پہنچے تو حکومتی اراکین کی جانب سے ان کی جانب لوٹے اچھالےگئے اور ان کی ڈائس کا گھیراؤ کیا گیا، حکومتی اراکین کی جانب سے دوست محمد مزاری کو تھپڑ مارے گئے اور ان کے بال بھی نوچے گئے، سکیورٹی اسٹاف اور اپوزیشن اراکین نے ڈپٹی اسپیکر کو حکومتی اراکین سے بچایا جس کے بعد وہ واپس اپنے دفتر میں چلے گئے۔

اینٹی رائیٹ فورس کے اہلکار پنجاب اسمبلی میں داخل

اینٹی رائیٹ فورس کے اہلکار پنجاب اسمبلی میں داخل ہوگئے اور اسپیکر ڈائس کا کنٹرول سنبھال لیا، مزاحمت کرنے والے 3 حکومتی ایم پی ایز کو حراست میں بھی لے لیا گیا۔

پولیس اہلکارپرانی بلڈنگ کے راستے پنجاب اسمبلی میں داخل ہوئے،پولیس نے ایوان کے اندر آپریشن کرتے ہوئے مردو خواتین ایم پی ایزکو اسپیکرڈائس سے ہٹایا اور اسپیکر ڈائس کا کنٹرول سنبھال لیا۔

پولیس اہلکاروں نے بلٹ پروف جیکٹس پہن رکھی ہیں ،حکومتی ارکان اور پولیس میں جھگڑا بھی ہوا ، اس دوران 3 حکومتی ایم پی ایز کو حراست میں بھی لے لیا گیا، ان ارکان نے ڈپٹی اسپیکر پرتشدد بھی کیا تھا۔

اس دوران اسمبلی کے سکیورٹی اسٹاف کی جانب سے ارکان اسمبلی کو ہی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

بڑی تعداد میں لیڈی پولیس اہلکاروں کو بھی اسمبلی کے اندر پہنچا دیا گیا ہے اور ایوان کی کارروائی آگے بڑھانے کے لیے ارکان کو بلانےکے لیے گھنٹیاں بھی بجائی گئیں تاہم ہنگامہ آرائی کے باعث اجلاس شروع نہ ہوسکا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button