Editorial

معیشت کی بحالی کیلئے وزیراعظم کا عزم

نگراں حکومت کے دور میں ملک کے طول و عرض میں ڈالر، سونا، گندم، چینی، کھاد اور دیگر اشیاء کی اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے راست اقدامات یقینی بنائے گئے۔ اسمگلنگ کے ذریعے ملک و قوم کو ہولناک حد تک نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کریک ڈائون کیے گئے، جن کے انتہائی حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے۔ اسی آپریشن کے طفیل پاکستانی روپیہ پھر سے روز بروز مستحکم ہورہا ہے، ذخیرہ اندوزوں اور اسمگلروں کے خلاف ہونے والے آپریشن سے قبل ڈالر کی قیمت 330 سے بھی تجاوز کرگئی تھی۔ یہ کریک ڈائون خاصے وقت تک جاری رہا اور اب بھی اس ضمن میں کارروائیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں نا صرف آٹا اور چینی سستے ہوئے بلکہ امریکی کرنسی کی قدر بھی گری جو پچھلے پانچ سال کے دوران بُری طرح پاکستانی روپے کو روندتا چلا آرہا تھا۔ پاکستانی معیشت اس وقت مشکل حالات سے گزر رہی ہے۔ گرانی انتہائوں پر پہنچی ہوئی ہے۔ غریب عوام کے لیے سفر زیست چنداں آسان نہیں۔ دہشت گردی جیسا چیلنج بھی درپیش ہے۔ سیاسی عدم استحکام اور دبائو معیشت کی بحالی میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ان کے علاوہ بھی اس کو لاحق مشکلات کی بہت سی وجوہ ہیں، ان سب کو تلاش کرکے ان کا سدباب یقینی بناتے ہوئے انقلابی انداز میں ملکی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے۔ نئی حکومت کو ملکی معیشت کو درپیش مشکلات کا ادراک ہے اور وزیراعظم شہباز شریف معیشت کی بحالی کے لیے سنجیدہ نظر آتے اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ انہی کی کاوشوں سے معیشت کی درست سمت کا تعین کرلیا گیا ہے اور اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اسمگلنگ بھی معیشت کو درپیش دشواریوں میں سے ایک ہے۔ اس کے مکمل تدارک کے لیے مزید سخت اقدامات ناگزیر معلوم ہوتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کو بہتر بنانے کی راہ میں سیاسی و انتظامی دبائو کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انسداد اسمگلنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنانا ہماری مشترکہ ذمے داری ہے۔ معیشت کی بہتری کے لیے سیاسی و انتظامی دبائو برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کو صوبوں میں سیکیورٹی کا جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے۔چیلنجز پر وہی قومیں قابو پاتی ہیں جو ہمت نہیں ہارتیں۔ یقین ہے پاکستانی قوم عزم و ہمت سے مسائل کو حل کرے گی۔ ملکی ترقی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرنا، معیشت کو بہتر اور مضبوط کرنے کے لیے سب نے مل کر کام کرنا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معیشت کی بہتری کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔ گزشتہ 24 روز میں معیشت کے حوالے سے مختلف اجلاس کئے۔ چیلنجز کو سمجھنا ہے تاکہ معیشت کو سنبھالا جاسکے۔ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے سیاسی افراتفری کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ وفاق، صوبے اور ادارے سب مل کر یکسو ہوجائیں۔ شہباز شریف نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پاکستان کو غیر قانونی تجارت اور اسمگلنگ نے بے پناہ نقصان پہنچایا۔ اتحادی حکومت نے 2022 میں ڈھائی لاکھ ٹن چینی کی درآمد کی اجازت دی تھی، جو چینی بیچ کر ہم ڈالر کما سکتے تھے وہ افغانستان اسمگل ہونے سے نقصان ہوا۔ بجلی چوری سے سالانہ 400 سے 500 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ شعبہ پٹرولیم میں بھی گیس چوری سے نقصان ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال محصولات کا 9 کھرب کا تخمینہ ہے۔ 2700 ارب روپے کے محصولات سے متعلق کیسز عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ نگراں حکومت میں شعبہ توانائی میں 58 ارب روپے کی چوری ریکور ہوئی۔ نگراں حکومت میں انسداد اسمگلنگ سے متعلق ٹھوس اقدامات کیے گئے۔ آرمی چیف اور صوبوں کے تعاون سے انسداد اسمگلنگ میں مدد ملی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر ارادہ ہو تو تمام رکاوٹیں ختم ہوجاتی ہیں۔ ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن پرکام شروع کر دیا ہے۔ ایف بی آر ٹریبونلز کے سربراہ میرٹ پر لیں گے۔ ٹریبونلز میں زیر سماعت مقدمات کے لیے ٹھوس لائحہ عمل اختیار کریں گے۔ ملکی ترقی کے لیے صنعت و زراعت کا فروغ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بشام واقعہ سے چین پاکستان تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنانا ہماری مشترکہ ذمے داری ہے۔وزیراعظم کا فرمانا بالکل بجا ہے۔ یقیناً وہی قومیں چیلنجز پر قابو پاتی ہیں جو ہمت نہیں ہارتیں۔ شہباز شریف کا ملکی ترقی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرنا، معیشت کو بہتر اور مضبوط کرنے کے لیے سب کے مل کر کام کرنے کا عزم قابل تعریف و توصیف ہے۔ شہباز شریف نے پنجاب کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کافی عرصے تک خدمات سرانجام دی ہیں۔ اُن کے دور میں صوبے اور اُس کے عوام کی ترقی، خوش حالی اور بہتری کے لیے مثالی اقدامات کیے گئے۔ وہ شبانہ روز محنت پر یقین رکھتے ہیں۔ پچھلے دور حکومت کے 16 ماہ بھی انہوں نے وزیراعظم کی حیثیت سے احسن انداز میں ذمے داری نبھائی۔ انہیں معیشت کو درپیش چیلنجز سے متعلق خاصی معلومات ہے۔ عام انتخابات کے بعد وزیراعظم کا منصب سنبھالتے ہی وہ مختلف شعبوں میں ترقی اور خوش حالی کے لیے کوشاں دکھائی دیئے ہیں۔ اُمید کی جاسکتی ہے کہ حکومت ایسے اقدامات یقینی بنائے گی کہ جس کے نتیجے میں معیشت جلد از جلد بحال ہوجائے گی۔ ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگا اور عوام خوش حالی کے ثمرات سے مستفید ہوں گے۔
کسانوں کو سبسڈی پر زرعی مشینری دینے کا فیصلہ
پاکستان زرعی ملک ہے اور اس کی کُل مجموعی قومی آمدن میں زراعت کا 20 فیصد سے زائد حصّہ ہوتا ہے۔ ملکی ترقی میں کسان اپنا بھرپور حصّہ ڈال رہے ہیں، لیکن وہ خود مشکلات کا شکار ہیں، وہ بہتر مستقبل کی آس میں مختلف فصلوں کو کاشت کرتے ہیں، مہنگے بیج، زرعی ادویہ وغیرہ خریدتے ہیں، فصلوں کی آبیاری باقاعدگی سے کرتے ہیں، اُمید کے
دیے روشن رکھتے ہوئے شب و روز محنت و ریاضت کرتے ہیں، لیکن جب فصل پک کر تیار ہوجاتی ہے تو اُن کے ارمانوں پر اوس اُس وقت پڑتی ہے جب فصل کی مناسب دام انہیں نہیں مل پاتے۔ اس کے باعث کسان سالہا سال سے پسماندگی اور کسمپرسی کا شکار دِکھائی دیتے ہیں۔ اُن کی زندگیاں وقت گزرنے کے ساتھ مزید مشکلات کی لپیٹ میں آتی چلی جارہی ہیں۔ اپنے مصائب سے تنگ کسان بعض اوقات سراپا احتجاج بھی ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں اطلاعات میڈیا کے ذریعے سامنے آتی رہتی ہیں۔ حکومتی سطح پر اُن کی ہر طرح سے داد رسی یقینی بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ کسان خوش حال ہوگا تو وہ ملکی ترقی میں مزید احسن انداز میں اپنا حصّہ ڈالے گا، لیکن جب وہی مشکل دور کا سامنا کر رہا ہوگا تو کیونکر ملک و قوم ترقی و خوش حالی سے ہمکنار ہوسکتے ہیں۔ اس تناظر میں کسانوں کی زندگیوں کو سہل بنانے کی ضرورت شدّت سے محسوس ہوتی ہے، اس کے علاوہ ملک میں کاشت کاری کے جدید طریقوں کو رواج دینا بھی ناگزیر ہے، تاکہ زرعی پیداوار میں مناسب اضافہ ہوسکے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حکومت نے کسانوں کے لیے انقلابی فیصلہ کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب حکومت نے کسانوں کو سبسڈی پر 56 اقسام کی زرعی مشینری دینے کا اصولی فیصلہ کرلیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا، جس میں کسانوں کے لیے انقلابی و تاریخی اقدامات لینے کا فیصلہ کیا گیا، وزیراعلیٰ پنجاب نے متعدد زرعی پروجیکٹس کی اصولی منظوری دی، سیکرٹری زراعت نے ایگریکلچر سے متعلق منصوبوں پر وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہائی ٹیک زرعی مشینری پر 30 سے 37 فیصد ٹیکس اور ڈیوٹی ہے، میکانائزیشن پلان کے تحت 3 ماہ میں دو ارب کی لاگت سے زرعی مشینری خریدی جائے گی، مشینری کاشت کاروں کو سبسڈی پر دی جائے گی۔ سیکرٹری زراعت نے بریفنگ میں بتایا کہ 2 سالہ میکانائزیشن پلان کے تحت 23 ہزار زرعی آلات اور 2 ہزار 280 لیزر لینڈ لیولنگ 4.13 ارب روپے کی لاگت سے سبسڈی پر کاشت کاروں کو دیے جائیں گے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ 25 ایکڑ تک زمین رکھنے والے کاشت کاروں کو 2 سال میں سولر سسٹم مہیا کیے جائیں گے۔ اجلاس کے دوران کاشت کاروں کو 60 فیصد سبسڈی پر 56 اقسام کی زرعی مشینری دینے کا بھی اصولی فیصلہ کیا گیا، کاشت کاروں کو ایک ہزار لیزر لیولر اگلے 6 ماہ میں دیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سولر ٹیوب ویل پروجیکٹ کی بھی اصولی منظوری دے دی۔ پنجاب حکومت کا یہ فیصلہ یقیناً لائق تحسین اور تقلید ہے۔ دوسرے صوبوں کی حکومتوں کو اس کی تقلید کرتے ہوئے اپنے ہاں بھی کسانوں کے لیے ایسی ہی آسانیاں بہم پہنچانی چاہئیں۔ پنجاب حکومت اس اقدام پر یقیناً مبارک باد کی مستحق ہے۔ ملک بھر میں زراعت کے شعبے پر حکومت کو خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ طریقوں کو آزماتے ہوئے فصلوں کی بھرپور پیداوار یقینی بنانے کے لیے حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے۔ کاشت کاروں کو لاحق مسائل کا سدباب کیا جائے۔ اُن کی فصلوں کے مناسب اور معقول دام نہ ملنے کا دیرینہ مسئلہ مستقل طور پر حل کیا جائے۔ اس میں شبہ نہیں کہ کسانوں کی زندگیاں سہل ہوگئیں اور وہ خوش حالی سے ہمکنار ہوگئے تو یہ امر ملکی ترقی اور خوش حالی کا باعث ثابت ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button