Editorial

اسرائیلی حملوں میں 22ہزار سے زائد فلسطینی شہید

اسرائیل کے ہولناک حملوں سے غزہ اب رہنے قابل نہیں رہا۔ وہاں کا انفرا اسٹرکچر مکمل تباہ ہوچکا ہے۔ عمارتوں کے ملبوں کے ڈھیر کے ڈھیر ہیں۔ ان ملبوں تلے نہ جانے کتنے مظلوم مسلمان سانس لے رہے اور کتنے اجل کو لبیک کہہ چکے ہیں، کوئی شمار نہیں۔ 22ہزار سے زائد فلسطینیوں کو 91روز کے دوران شہید کیا جاچکا ہے۔ 60ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ پوری دُنیا اسرائیل سے جنگ بندی کے مطالبات کررہی ہے، لیکن ڈھیٹ اور ناجائز ریاست اسرائیل پر ان مطالبات پر کان ہی نہیں دھر رہی بلکہ پہلے سے اور زیادہ شدّت سے حملہ آور ہے، فلسطین میں بدترین انسانی المیہ جنم لے چکا ہے، غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوچکے ہیں، بے سروسامانی کے عالم میں، اُن کے آس پاس آتش و بارود برس رہے ہیں، بڑا انسانی المیہ جنم لے چکا ہے، اسرائیل نے جنگی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دہشت گرد کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اس عالمی دہشت گرد کو کوئی لگام ڈالنے والا نہیں کہ اسے دُنیا کے چند بڑے اور مہذب کہلائے جانے والے ممالک کی بھرپور سرپرستی اور حمایت حاصل ہے، جن کی شہہ پر یہ آپے سے باہر ہوجاتا ہے۔ یہ مہذب ممالک اسے درست اور راہ راست پر گردانتے جبکہ بے گناہ فلسطینی مسلمانوں میں اُنہیں کیڑے نظر آتے ہیں۔ اسی لیے اُن کی نظر میں اسرائیل مظلوم ہے جب کہ فلسطین ( جس کے 22ہزار سے زائد مسلمان شہید ہوچکے) ظالم ہے، پھر تو وہ 10ہزار کے قریب بچے بھی ظالم ہوئے جو ’’ معصوم’’ اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں شہید ہوچکے ہیں۔ تاریخ ظالم کے ہاتھ مضبوط کرنے والوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی، ان کا شمار بھی ظالموں، سفّاکوں، درندوں میں ہوگا۔ نصف صدی سے زائد عرصے سے مظلوم فلسطینی اسرائیلی ظلم و ستم کو برداشت کر رہے ہیں۔ کیا کیا مظالم ان پر نہیں ڈھائے گئے۔ ان کے کتنے ہی پیاروں کو شہید کیا گیا، گرفتار کیا گیا، لاپتا کیا گیا، فلسطین میں آبادی کا تناسب تبدیل کرتے ہوئے یہودیوں کو لابسایا گیا اور فلسطینیوں کو چُن چُن کر مارا جاتا رہا۔ اسی پر بس نہیں کیا گیا بلکہ مسلمانوں کے قبلہ اوّل کے تقدس کی بارہا اسرائیلی فوج کی جانب سے پامالی کی گئی۔ معصوم بچوں تک کو نہ بخشا گیا۔ اُن کا کیا قصور تھا۔ اُن کو کیوں زیست سے محروم کرنے کی روش اختیار کی گئی۔ آخر کب تک برداشت کیا جاتا ظلم و ستم، ظلم کی انتہائیں کردی گئیں۔ اس پر آواز تو اُٹھنا تھی۔ اس کے خلاف عَلَم بغاوت کا بُلند ہونا لازمی تھا۔ ظلم جب حد پار کرجاتا ہے تو اُس کے خلاف حق سینہ سُپر ہوجاتا ہے اور اُس کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کی یہ بنیاد ہوتی ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں حماس نے اسرائیل پر 5ہزار راکٹ فائر کرکے اسرائیل کا شیرازہ بکھیرنے کی جانب پہلا قدم بڑھایا۔ ناجائز صہیونی ریاست تلملاگئی۔ اُس نے چند روز بعد پلٹ کر بھرپور وار کیے۔ جنگی اصولوں کی دھجیاں اُڑادیں۔ معصوم بچوں کو بخشا نہ خواتین کو، 22ہزار شہداء میں ان کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اسپتالوں پر حملے کیے گئے اور اسکولوں کو نشانہ بنایا گیا، امدادی مراکز تک پر حملے ہوئے، اقوام متحدہ
سمیت تمام تنظیمیں جنگ بندی کے مطالبات کرتی نہیں تھک رہیں، اکثر ممالک جنگ بندی پر اصرار کررہے ہیں، مجال ہے دہشت گرد ریاست اسرائیل کے کانوں پر جوں بھی رینگی ہو۔ اسرائیل کے اندر کا شیطان بُری طرح بیدار اور بڑی تباہیاں مچارہا ہی۔ اپنی اصلیت دِکھا رہا ہے اور دُنیا کے بیشتر ممالک اُس کو اس سے باز رہنے کی تلقین کررہے ہیں، لیکن وہ اس وقت بہرہ بنا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ بھی کھل کر بول رہی ہے۔ اس کے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ مارٹن گرفتھس نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کی مسلسل بمباری سے غزہ رہائش کے قابل نہیں رہا۔ مارٹن گرفتھس کا کہنا ہے کہ 7اکتوبر کے ہولناک حملوں کے بعد غزہ موت اور مایوسی کی جگہ بن چکا ہے، غزہ کے شہری اپنے وجود کیلئے روزانہ خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ سربراہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کا کہنا ہے کہ امدادی اداروں کیلئے غزہ کے 20لاکھ افراد کی مدد ناممکن ہوگئی ہے۔ ادھر اسرائیل کی غزہ پر جارحیت جاری ہے جہاں تازہ حملے میں 18فلسطینی شہید ہوگئے۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں ایک گھر پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 18فلسطینی شہید ہو گئے ۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے علاقوں میں بھی چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس کے علاوہ جنوبی غزہ میں اسرائیلی فوج کے ایک اور حملے میں فلسطینی شہری کی اہلیہ اور 2بچے شہید ہوگئے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی علاقے میں فائرنگ کی جس میں 2فلسطینی زخمی ہوگئے جبکہ فورسز نے متعدد فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا۔ ادھر امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ کے حکام کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غزہ جنگ کی وجہ سے طول پکڑتے تنازع کو پھیلنے سے روکنے کی کوششوں کے باوجود جنگ بندی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان سیموئل واربرگ نے کہا کہ ان کا ملک جنگ کے خاتمے اور انسانی امداد کی فراہمی کیلئے ثالث کے طور پر ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے (یونیسیف) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ، غذائی قلت اور بیماریوں کی شدت ایک مہلک وبا پیدا کررہی ہے، جس سے 10لاکھ سے زائد بچوں کو خطرہ ہے۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ غزہ میں صرف ایک ہفتے کے دوران بچوں میں اسہال کے کیسز میں 50فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ دو سال سے کم عمر کے 90فیصد بچے اب شدید غذائی قلت اور غربت کا شکار ہیں۔ یونیسیف نے اپنی رپورٹ میں 155000سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائوں کے ساتھ ساتھ دو سال سے کم عمر کے 135000سے زائد بچوں کی غذائی ضروریات اور کمزوریوں کے پیش نظر خصوصی تشویش کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ ایک تباہ کن انسانی بحران کا شکار ہے۔ خوراک، پانی، ایندھن اور ادویات کی شدید قلت ہے اور شہریوں کو زندگی بچانے کیلئے بنیادی خوراک نہیں مل رہی ہے۔ آہ کیا کیا ظلم نہیں ڈھائے گئے، سب کچھ ریکارڈ پر ہے، دُنیا کی اکثریت ظالم کو پہچان چکی اور مظلوم کے ساتھ ہے اور اُس کے لیے آواز بھی بلند کررہی ہے۔ مفاد کے پجاریوں کی جانب سے زبان بندی اُن کے کردار کا تعین کرنے کے لیے کافی ہے۔ ظلم حد سے بڑھ چکا اور اب اپنے اختتام کی طرف گامزن ہے۔ ظالم اسرائیل کا انجام بد زیادہ دُور نہیں، ان شاء اللہ وہ وقت دُنیا کو جلد دیکھنے کو ملے گا۔ ان شاء اللہ فلسطین آزاد اور خودمختار ریاست بنے گی۔ شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ننھے شہداء پر کیے گئے ظلم کا ایک ایک حساب ظالم اسرائیل سے لیا جائے گا۔ اسرائیل اپنے اختتام کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ دُنیا جلد اُسے تباہ ہوتے دیکھے گی۔
پولیو کے 14نمونوں
کے مثبت ٹیسٹ ، لمحہ فکر!
پولیو وائرس اطفال کو اپاہج بناکر زندگی بھر کی معذوری کا شکار کر دیتا ہے۔ پوری دُنیا اس سے خوف زدہ تھی۔ انتھک کوششوں اور سالہا سال کی محنتوں کے بعد دُنیا بھر سے اس کا خاتمہ ہوگیا، بھارت، بنگلہ دیش وغیرہ تک میں یہ مکمل ختم ہوگیا مگر بدقسمتی سے وطن عزیز اور افغانستان میں یہ اب تک موجود ہے۔ ہمارے کتنے ہی بچے عمر بھر کی معذوری کا شکار ہوچکے ہیں۔ پاکستان پر سفری پابندیاں بھی اس کی وجہ سے عائد ہوئیں۔ یہ امر دُنیا بھر میں وطن عزیز کی جگ ہنسائی کا باعث بنا۔ یہاں پولیو کا مکمل خاتمہ نہ ہونے کی کئی وجوہ ہیں۔ بعض والدین کا اپنے بچوں کو پولیو سے بچائو کی ویکسین پلانے سے گریز کرنے کا طرز عمل بھی اس کی اہم وجہ ہے۔ متواتر پولیو مہمات شروع کی جاتی ہیں۔ پولیو ورکرز گھر گھر جاکر پولیو سے بچائو کے قطرے بچوں کو پلاتے ہیں، لیکن بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں پولیو سے بچائو کی ویکسین سے متعلق مفروضے گھڑے گئے ہیں، بے بنیاد اور جھوٹے پروپیگنڈے پھیلائے جاتے ہیں، بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے نہ پلانے کی ترغیب دی جاتی ہے اور ان علاقوں میں پولیو مہمات کو جاری رکھنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ ماضی میں پولیو ٹیموں پر ناصرف حملے کیے گئے بلکہ دہشت گردی کی کئی کارروائیوں میں ان سے حقِ زیست چھین لیا گیا۔ یہی کچھ اسباب ہیں، جن کی وجہ سے باوجود کوششوں کے پولیو وائرس مکمل ختم نہیں ہوسکا ہے۔ یہاں ہر کچھ عرصے بعد پولیو مہمات شروع کی جاتی ہیں۔ حکومت اس ضمن میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے، اس کے باوجود پولیو کو شکست دینے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا ہے۔ اب پولیو کے حوالے سے ایک بڑا انکشاف ہوا ہے۔ وفاقی وزارت صحت نے خبردار کیا ہے کہ ملک بھر میں پولیو وائرس کے 14ماحولیاتی نمونوں کے ٹیسٹ مثبت آگئے ہیں۔ سرکاری خبر ایجنسی اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ سیوریج کے تین نمونوں میں وائرس موجود تھا اور یہ نمونے 4سے 13دسمبر کے درمیان پشاور سے حاصل کیے گئے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حیدر آباد سے دو، کراچی شرقی سے دو اور ایک،ایک نمونہ کراچی وسطی، کیماڑی، کراچی غربی، سکھر، کوئٹہ، کوہاٹ اور اسلام آباد سے جمع کیے گئے تھے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پولیو وائرس سے بچوں کو صرف مستقل ویکسین کے ذریعے ہی محفوظ رکھا جاسکتا ہے، انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ ہر ویکسینیشن مہم کے دوران بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے ضرور پلائیں۔ یہ صورت حال تشویش ناک ہونے کے ساتھ لمحہ فکریہ ہے۔ ملک میں پولیو کو شکست دینے کے لیے والدین کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تمام والدین اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے لازمی پلوائیں۔ اس حوالے سے پیدا کیے جانے والے پروپیگنڈوں اور من گھڑت افواہوں کا موثر تدارک کیا جائے۔ علماء کرام اور اہم شخصیات اس حوالے سے آگہی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button