تازہ ترینخبریںپاکستان سے

پی آئی اے میں جعلی ڈگری کے 840 کیسز ہیں، ڈی جی ایف آئی اے

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں ڈی جی ایف آئی اے نے انکشاف کیا ہے کہ پی آئی اے میں جعلی ڈگری کے 840 کیسز ہیں۔ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی صدارت میں ہوا، جس میں سول ایوی ایشن ڈویژن کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈی جی ایف آئی اے محسن بٹ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پی آئی اے پریمیئر سروس سے ہونے والے نقصان کی انکوائری دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔

ارکان کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے نے مزید بتایا کہ پی آئی اے کے لیے آئی پیڈز کرائے پر لینے سے بھی 9 کروڑ 90 لاکھ کا نقصان ہوا۔ ایف آئی آرز رجسٹرڈ کرکے چالان بھی جمع کرا دیا گیا ہے۔ 2 لوگ مفرور ہیں ان کی ضمانت منسوخی کی کوشش جاری ہے۔

پی اے سی نے ملزمان کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کی ہدایت کر دی۔ چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ اس سے ان کے بینک اکاؤنٹس بند ہوں گے، تب یہ خود ہی آجائیں گے۔ علاوہ ازیں ڈی جی ایف آئی اے نے پی آئی اے میں جعلی ڈگری کیس پر بھی بریفنگ دی، جس میں انہوں نے بتایا کہ 15 کیسز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، مزید انکوائریز جاری ہیں۔

ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق جعلی ڈگری کے کیسز کا تعلق، کراچی، سندھ، پنجاب، پختون خوا وغیرہ سے ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پی آئی اے میں جعلی ڈگری کے 840 کیسز ہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے جعلی ڈگری والوں کے معاونین اور سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی کی ہدایت کر دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button