Abdul Hanan Raja.Column

طاقت کے مرکز کا انقسام

طاقت کے مرکز کا انقسام
تحریر : عبد الحنان راجہ
جرات و استقامت اگر حکمت کے ساتھ ہو تو نتیجہ خیز بھی ہوتی ہے اور ثمر آور بھی، اس کے بغیر یہ دونوں وصف بربادی لاتے ہیں۔ آیت اللہ علی خمینی کا مجلس تحریم سے خطاب کو اسی تناظر میں سمجھا جانا ضروری ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کا کہنا تھا ’’ امریکہ سے دوستی خیانت ہے۔ ہمارا ہاتھ کبھی بھی امریکہ کی طرف نہیں بڑھے گا البتہ امن مذاکرات اور اپنے مطالبات کے لیے بات چیت الگ بات‘‘۔
اس بات کو مد نظر رکھ کر اگر امریکہ، ایران تنازع کو سمجھا جائے تو ایران کی جرات و استقامت کی داد دینا بنتی ہے اور اسے عالمی برادری بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، بالخصوص مسلم ممالک جبکہ اسرائیل و امریکہ جارح کے روپ میں سامنے آئے۔ جنگ کا پہلا فیز جرات و استقامت کا، ایران نے جیت لیا، اب ان اوصاف کو مذاکرات کے ذریعے ثمر آور اور نتیجہ خیز بنانے کا کٹھن ترین مرحلہ، کہ جس میں جوش کی بجائے ہوش، غصہ کی بجائے تحمل اور اس سے ایران 47سال کی محرومیوں، پابندیوں اور تنہائیوں کو ختم کر کے اپنے دروازے دنیا کے لیے اور اقتصادی پابندیوں کے خاتمہ سے اپنے آپ مضبوط ملک بنا سکتا ہے، اور اس کا جواز پاکستان نے تاریخ کی مشکل ترین سفارت کاری کے ذریعے ایران کو 14نکات کی صورت میں فراہم بھی کر دیا۔ اب کوئی ہوش مند اور ذی شعور یہ بتا سکتا ہے کہ کیا ایران بذریعہ جنگ یا دھمکی آمیز رویہ سے اپنے مصائب کم یا پابندیاں ختم کرا سکتا ہے ؟، اور کیا انقلاب کے بعد جنم لینے والی سفارتی تنہائی اور عرب ممالک کے خدشات مذاکرات اور ذمہ دار ریاست کے کردار کے بغیر ختم ہونا ممکن ہیں ؟۔ یہ ایسے سوال کہ جنہیں سمجھا جانا ضروری کہ شجاعت کے مظاہرے بھی ہو چکے اور استقامت کے بھی۔ اب دنیا اگر آپ کے ساتھ کھڑی ہے اور آپ کے ذمہ دارانہ کردار سے تعاون کی راہیں کھل سکتی ہیں تو ایسے میں حکمت ہی کارگر ثابت ہوتی ہے نہ کہ انا اور ہٹ دھرمی۔ ہاں ٹھنڈے کمروں اور پرتعیش ماحول میں بیٹھ کر ایرانی عوام کو جرات، استقامت اور امریکہ کے سامنے ڈٹے رہنے کا درس آسان۔ مگر مہنگائی، بیروزگاری، بے سرو سامانی اور برستے آتش و آہن میں زندگی گزارنا مشکل۔
اس بات سے کون لاعلم ! کہ جنگ بندی، مذاکرات یا سیز فائر اسرائیل کی بحیثیت طاقتور جارح ملک موت، اور یہ بھی حقیقت کہ ایران براہ راست امریکہ پر حملہ کی پوزیشن میں ہے اور نہ امریکی سلامتی و امریکی عوام کو براہ راست اس سے خطرات لاحق۔ جبکہ بدلے میں ایران کا جانی، مالی، اقتصادی اور انفراسٹرکچر کا نقصان تو ہے ہی مگر ساتھ خلیجی ممالک براہ راست متاثر ہو رہے ہیں، اور ظاہر ہے اس کی پروا امریکہ کو ہے نہیں، اور اس ساری صورتحال سے اسرائیل کا لطف اندوز ہونا بھی بنتا ہے۔ جبکہ اصل مسلم ممالک کا آمنے سامنے آنے کا خطرناک، بڑا اور اسرائیل کا من پسند تیسرا بڑا خطرہ بھی پروان چڑھ رہا ہے اور یہ کشیدگی نیتن یاہو کے اقتدار کی ضامن۔ کہ اس کے خلاف کیسز اور اکتوبر میں ہونے والے انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں۔ اب مسئلہ صرف امریکی جارحیت کے جواب دینے کا نہیں دانش مندی امریکہ کو حملے کے جواز سے روکنا ،14نکات پر مرحلہ وار آگے بڑھنا اور اپنے مقاصد کی تکمیل کا ہے۔ مگر ایران نے اس بار ثالث قطر اور سعودی عرب کے ٹینکرز پر حملہ کر کے کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جو سراہا جائے۔ اسرائیل اگر بطور ریاست جنگ بندی کا دشمن تو کہیں ایران میں بھی کچھ طاقتور حلقے جرات، استقامت اور ڈٹے رہنے کے نام پر عوامی جذبات سے کھیل کر ایرانی عوام کی محرومیوں کو مزید گہرا اور ایران کو سفارت کاری پر یقین نہ رکھنے والا ملک قرار دلوانے کی بالواسطہ کوشش کر رہے ہیں۔ ؟ یہ خدشات غلط بھی ہو سکتے ہیں مگر بادی النظر میں لگتا ایسے ہی ہے۔
ادھر امریکی تھنک ٹینک کے ذمہ دار رکن جیسن بروڈسکی نے اپنے مضمون میں کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد علی خامنہ ای کی نسبت کمزور پوزیشن پر ہیں، اور انہیں طاقتور ہونے کے لیے پاسداران پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل علی خامنہ ای کو 1989ء میں سپریم لیڈر بننے کے بعد اپنی اتھارٹی کو مستحکم میں بہت وقت لگا تھا۔ جبکہ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو الیکس وتانکا کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نہ تو انقلاب ایران کے بانی آیت اللہ خمینی جیسا کرشمہ رکھتے ہیں اور نہ اپنے والد جیسا اختیار۔ وہ ریاستی اداروں کے ذریعے ہی اپنی حیثیت کو منوائیں گے اور چلائیں گے۔
جنگ کے دوران اسپیکر باقر قالیباف کی جانب سے اسمبلی کی معطلی نے بھی ایرانی سیاسی حلقوں کو مضطرب کر رکھا ہے۔ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اب ایران میں طاقت کا مرکز منقسم، جس سے فیصلہ سازی کی قوت کمزور ہو رہی ہے۔ نئے سپریم لیڈر ابھی تک عوامی اجتماع میں اپنی موجودگی ثابت نہیں کر پا رہے۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں اولا یہ کہ وہ شدید زخمی ہونے کی وجہ سے صحت سلامتی کے گھمبیر مسائل سے گزر رہے ہیں یا پھر پاسداران موجودہ حالات میں اپنا رسوخ قائم کرنا چاہتے ہیں، تاکہ مستقبل کے منظر نامہ میں منتخب حکومت اور سپریم لیڈر کی جگہ اہم فیصلہ جات میں انہیں برتری حاصل رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی ان تھک کوششوں کے باوجود پائیدار امن کے قیام کو بار بار دھچکا لگ رہا ہے اور ظاہر ہے یہ بات نہ صرف ثالث ملک بلکہ دیگر ممالک ترکیہ، مصر، سعودی عرب اور چین کے لیے بھی پریشان کن۔ حالیہ واقعہ نے ان ممالک بالخصوص قطر کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی کہ ایران نے قطر اور سعودی عرب جیسے ممالک کے ٹینکرز پر حملہ کر کے غیر سنجیدگی کا ثبوت اور اس خطہ میں امریکی قیام کو جواز فراہم کیا ہے۔ خلیجی ممالک کے اندر ایران سے تحفظ کا احساس تو ہے ہی مگر پاکستان کی کوششوں سے کچھ ممالک نے اپنی زمین ایرانی حملوں کے لیے استعمال نہ کرنے دی۔ مگر پھر بھی ایران کی طرف سے ان پر حملے ناقابل فہم ۔ اب جبکہ کئی خلیجی ممالک امریکی دفاعی حصار سے نکلنے میں سنجیدہ اور پاکستان ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے ساتھ ملکر اس خلا کو پر کرنے پر تیار، ایسے میں ایران کی جانب سے معاہدہ کے باوجود عدم تحمل اس ساری کوشش کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔ فیصلہ سازی کا مرکز کون۔ ؟ یہ سوال مذاکرات کاروں کو بھی پریشان کیے ہوئے ہے اور ثالثوں کو بھی، مگر جس عالی حوصلہ کا مظاہرہ پاکستان اور جس ظرف کا مظاہرہ سعودی عرب و قطر کر رہے ہیں اب ایران سے بھی اس کی توقع۔ کانٹوں بھرے مذاکراتی عمل میں ایرانی قیادت کا تدبر اور حکمت نہ صرف ایران بلکہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے مسلم ممالک کے لیے نئے دور کے آغاز کا نقیب ثابت ہو سکتا ہے کہ مشرق و مغرب میں نئے دور کا آغاز ہمارا منتظر۔

جواب دیں

Back to top button