بارش نے انتظامی نااہلی اور ناقص منصوبہ بندی کو بے نقاب کر دیا

بارش نے انتظامی نااہلی اور ناقص منصوبہ بندی کو بے نقاب کر دیا
غلام مصطفیٰ جمالی
پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کی زد میں ہے۔ کبھی شدید گرمی، کبھی غیر معمولی بارشیں، کبھی سیلاب اور کبھی خشک سالی جیسے حالات ملک کے مختلف حصوں میں معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں ریاستی اداروں اور مقامی حکومتوں کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ موسم کی شدت اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر بروقت منصوبہ بندی کریں۔ بدقسمتی سے ہر سال مون سون کی آمد کے ساتھ ایک ہی منظر بار بار دہرایا جاتا ہے۔ چند گھنٹوں کی بارش پورے نظام کی کمزوری، ناقص منصوبہ بندی اور انتظامی غفلت کو بے نقاب کر دیتی ہے۔
حالیہ بارشوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ترقی، جدید شہری منصوبہ بندی اور بہتر انفراسٹرکچر کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے قصبوں تک سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں، بازار بند ہو گئے، گھروں میں پانی داخل ہو گیا، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا اور شہری گھنٹوں مشکلات کا شکار رہے۔ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوئی، نشیبی علاقوں کے مکین نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔
یہ صورتحال صرف قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں سے جاری ناقص منصوبہ بندی، غیر معیاری تعمیرات، نکاسی آب کے ناکارہ نظام اور ادارہ جاتی غفلت کا واضح ثبوت ہے۔ ہر سال مون سون سے پہلے اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں، ہنگامی منصوبوں کا اعلان کیا جاتا ہے، نالوں کی صفائی کے دعوے کیے جاتے ہیں اور عوام کو یقین دلایا جاتا ہے کہ اس بار بہتر انتظامات ہوں گے۔ لیکن جیسے ہی پہلی تیز بارش ہوتی ہے، تمام دعوے پانی میں بہہ جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بیشتر شہروں کا نکاسی آب کا نظام کئی دہائیاں پرانا ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافہ، بے ہنگم شہری پھیلائو، تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات نے قدرتی آبی راستوں کو بند کر دیا ہے۔ بارش کا پانی نکلنے کے بجائے سڑکوں، گلیوں اور رہائشی علاقوں میں جمع ہو جاتا ہے، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب متعلقہ ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر اپنی ناکامیوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ متاثرہ شہری بے بسی سے حالات کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔ سندھ کے بیشتر اضلاع، خصوصاً کراچی، حیدرآباد، بدین، ٹھٹھہ، سجاول، تھرپارکر اور دیگر علاقوں میں ہر مون سون کے دوران ایک جیسی صورتحال دیکھنے میں آتی ہے۔ معمول سے کچھ زیادہ بارش ہوتے ہی سڑکیں دریا کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں، نشیبی علاقے زیرِ آب آ جاتے ہیں اور شہری زندگی مفلوج ہو جاتی ہے۔ دیہی علاقوں میں فصلیں تباہ ہوتی ہیں، مویشی ہلاک ہوتے ہیں، رابطہ سڑکیں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔
ضلع بدین، جو ساحلی پٹی کے قریب واقع ہے، بارشوں کے دوران خصوصی توجہ کا متقاضی ہوتا ہے۔ یہاں کئی علاقوں میں نکاسی آب کا مناسب نظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے بارش کا پانی کئی کئی دن تک کھڑا رہتا ہے۔ اس کا نقصان صرف گھروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ کھڑی فصلیں، باغات اور زرعی زمینیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ کسان، جو پہلے ہی مہنگائی، کھاد، بیج اور زرعی اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، مزید مالی مشکلات میں گھر جاتے ہیں۔
دوسری جانب موسمیاتی تبدیلی نے بارشوں کے انداز کو بھی بدل دیا ہے۔ پہلے جو بارش کئی دنوں میں ہوتی تھی، اب وہ چند گھنٹوں میں برس جاتی ہے۔ ایسے حالات میں پرانے نکاسی آب کے نظام سے بہتر نتائج کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ شہروں اور دیہی علاقوں کی منصوبہ بندی نئے موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے، تاکہ عوام کو ہر سال ایک جیسے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر ترقیاتی منصوبوں میں نکاسی آب کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کا وہ حق دار ہے۔ نئی سڑکیں تو تعمیر ہو جاتی ہیں، مگر پانی کی نکاسی کا موثر بندوبست نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً پہلی ہی بارش میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں اور عوام کا سرمایہ ضائع ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے بلکہ عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔
اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو وقتی اقدامات کے بجائے مستقل اصلاحات کی طرف بڑھنا ہوگا۔ نکاسی آب کے جدید نظام، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبے، نالوں سے تجاوزات کا خاتمہ، شفاف ترقیاتی منصوبہ بندی اور متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ ہی اس مسئلے کا دیرپا حل ہے۔ بصورت دیگر ہر مون سون کے بعد وہی بیانات، وہی وعدے اور وہی مشکلات عوام کا مقدر بنی رہیں گی۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں حکومتوں، بلدیاتی اداروں، متعلقہ محکموں اور عوام سب کو اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی۔ صرف بارش کے بعد امدادی سرگرمیاں شروع کرنا یا متاثرہ علاقوں کے دورے کرنا کافی نہیں، بلکہ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب بارش سے پہلے ایسے انتظامات کیے جائیں کہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہی نہ کرنا پڑے۔
جدید دنیا میں بارش کے پانی کو ضائع نہیں ہونے دیا جاتا بلکہ اسے ذخیرہ کرکے زرعی اور شہری ضروریات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی اگر بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، مصنوعی آبی ذخائر بنانے اور نکاسی آب کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر سنجیدگی سے کام کیا جائے تو نہ صرف شہری سیلاب کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں بلکہ پانی کی قلت جیسے مسائل پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ بلدیاتی نظام کو مضبوط اور بااختیار بنانا بھی ناگزیر ہے۔ جب تک مقامی اداروں کو وسائل، اختیارات اور جوابدہی کے موثر نظام کے ساتھ فعال نہیں بنایا جائے گا، اس وقت تک ہر مون سون میں یہی مسائل سر اٹھاتی رہیں گے۔ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور طویل المدتی منصوبہ بندی کو اولین ترجیح دینا ہوگی تاکہ قومی وسائل ضائع نہ ہوں اور عوام کو حقیقی سہولیات میسر آ سکیں۔
عوام کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ نالوں اور ڈرینوں میں کچرا پھینکنے، تجاوزات قائم کرنے اور صفائی کے اصولوں کو نظرانداز کرنے سے نکاسی آب کا نظام مزید متاثر ہوتا ہے۔ اگر شہری بھی اپنے فرائض ادا کریں اور متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داری پوری دیانت داری سے نبھائیں تو بہت سے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر بارش کے بعد روایتی بیانات اور وقتی اقدامات کے بجائے مستقل اصلاحات کی جائیں۔ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ ہے، اس لیے ترقیاتی منصوبوں، شہری انفراسٹرکچر اور آفات سے نمٹنے کی حکمت عملی کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ اگر ہم نے آج سنجیدہ فیصلے نہ کیے تو آنے والی برسوں میں بارشیں مزید شدید ہوں گی، نقصانات بڑھیں گے اور عوامی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگا۔
بارش اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، لیکن جب ناقص منصوبہ بندی، بدانتظامی اور غفلت اس رحمت کو زحمت میں بدل دیں تو سوال بارش پر نہیں بلکہ نظام پر اٹھتا ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ دعووں اور اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کریں، کیونکہ عوام کو تقریروں سے نہیں بلکہ محفوظ سڑکوں، موثر نکاسی آب، مضبوط انفراسٹرکچر اور بروقت ریلیف کی ضرورت ہے۔ جب تک منصوبہ بندی حقیقت پسندانہ، شفاف اور عوامی ضرورتوں کے مطابق نہیں ہوگی، ہر مون سون ایک بار پھر یہی پیغام دے گا کہ بارش نے انتظامی نااہلی اور ناقص منصوبہ بندی کو بے نقاب کر دیا ہے۔





