شہادت: وجود سے وجدان تک
شہادت: وجود سے وجدان تک
شہر خواب
صفدر علی حیدری۔۔۔
انسان اس دنیا میں خالی ہاتھ آتا ہے اور خالی ہاتھ ہی واپس چلا جاتا ہے ، مگر ان دونوں لمحوں کے درمیان وہ ایک ایسی زندگی گزارتا ہے جو اس کے حق یا اس کے خلاف گواہی بن جاتی ہے۔
قرآنِ کریم کے مطابق انسان صرف ایک زندہ مخلوق نہیں بلکہ ایک گواہ بھی ہے ۔
اس کا وجود، اس کا کردار، اس کے اعمال، حتیٰ کہ اس کے جسم کے اعضاء بھی قیامت کے دن اس کی زندگی کی شہادت دیں گے۔ یہی شہادت کا وہ وسیع تصور ہے جو قرآن و سنت میں بیان ہوا ہے۔
عام طور پر شہادت کا مطلب اللہ کی راہ میں جان قربان کرنا سمجھا جاتا ہے، جو یقیناً اس کا بلند ترین درجہ ہے، لیکن قرآن میں شہادت کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
عربی زبان میں ’’ شہادت‘‘ کا تعلق دیکھنے، جاننے، حاضر ہونے اور حق کی گواہی دینے سے ہے۔ جو شخص حقیقت کو پہچان کر اس کے حق میں کھڑا ہو جائے، وہ دراصل حق شہادت ادا کرتا ہے۔
قرآن کریم شہادت کا آغاز خود اللہ تعالیٰ کی گواہی سے کرتا ہے۔
اللہ نے خود گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور فرشتوں نے بھی، اور اہلِ علم نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف کو قائم رکھنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی سب پر غالب، بڑی حکمت والا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہلِ علم سب ایک ہی حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان محض تقلید نہیں بلکہ حقیقت کو پہچان کر اس کی گواہی دینا ہے۔
کائنات بھی اپنے وجود سے اللہ کی وحدانیت کی شہادت دیتی ہے۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، دریا، درخت اور انسان سب اپنے نظم اور تخلیق کے ذریعے خالق کی قدرت کا اعلان کرتے ہیں۔
قرآن فرماتا ہے: کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، اگرچہ انسان اس کی زبان نہیں سمجھتا۔ گویا پوری کائنات خاموش مگر مسلسل گواہی دے رہی ہے۔
انسان خود بھی اپنے رب کی قدرت کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ وہ نہ اپنی پیدائش کا فیصلہ کرتا ہے، نہ اپنے جسم کی بناوٹ کا، نہ اپنے دل کی دھڑکن اور نہ اپنی سانسوں کا۔
قرآن انسان کو اپنے اندر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے: ’’ اور خود تمہاری اپنی جانوں میں بھی ( اللہ کی نشانیاں موجود ہیں)، پھر کیا تم دیکھتے نہیں؟‘‘۔
جو شخص اپنے وجود پر غور کرتا ہے، وہ اپنے خالق کی معرفت کی طرف بڑھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو فطرتِ سلیمہ پر پیدا کیا ہے۔ یہی فطرت حق اور باطل میں فرق کرنے کی بنیادی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ قرآن فرماتا ہے: ’’ اللہ کی اس فطرت کو ( اختیار کرو) جس پر اس نے تمام انسانوں کو پیدا کیا ہے‘‘۔
رسول اللہ فرماتے ہیں: ’’ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں‘‘۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اندر حق کی ایک فطری گواہی موجود ہوتی ہے، جسے ماحول کبھی دبا تو سکتا ہے مگر ختم نہیں کر سکتا۔
مولا علیؓ نے نہج البلاغہ میں دنیا کو گزرگاہ اور آخرت کو اصل منزل قرار دیا ہے ۔ مولا علیؓ فرماتے ہیں: ’’ آج عمل کا دن ہے، حساب نہیں، اور کل حساب کا دن ہو گا، عمل نہیں‘‘۔
یہ مختصر مگر گہرا فرمان قرآن کے تصورِ شہادت کی بہترین تشریح کرتا ہے۔ دنیا وہ میدان ہے جہاں انسان اپنے ہر قول و فعل سے اپنی زندگی کی گواہی مرتب کرتا ہے۔
اصل گواہی انسان کے دعوے نہیں بلکہ اس کے اعمال ہوتے ہیں۔ کوئی شخص خود کو نیک کہہ سکتا ہے، لیکن اگر اس کے اعمال ظلم، جھوٹ اور خیانت پر مبنی ہوں تو یہی اعمال اس کے خلاف گواہ بن جائیں گے۔
قرآن فرماتا ہے:’’ اور کہہ دیجیے عمل کرتے رہو، عنقریب اللہ تمہارے عمل کو دیکھ لے گا، اور اس کا رسول بھی، اور اہلِ ایمان بھی‘‘۔
لہٰذا ہر عمل انسان کی شخصیت پر ثبت ہونے والی ایک دائمی شہادت ہے۔
قیامت کے دن انسان کے اپنے اعضاء اس کے خلاف یا اس کے حق میں گواہی دیں گے۔
قرآن کریم فرماتا ہے: ’’ جس دن ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے، جو وہ دنیا میں کرتے رہے تھے‘‘۔
’’ ان کے خلاف ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان اعمال کی گواہی دیں گی جو وہ کرتے رہے تھے‘‘۔
’’ اس روز نہ کوئی جھوٹ کام آئے گا اور نہ کوئی انکار، کیونکہ انسان کا اپنا وجود اس کی زندگی کا سب سے بڑا گواہ ہوگا‘‘۔
قرآن مسلمانوں کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ پوری امت کو انسانیت کے لیے گواہ بناتا ہے۔
’’ اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل ( بہترین اور متوازن) امت بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو، اور رسول تم پر گواہ ہوں‘‘۔
یعنی مسلمان کا فرض ہے کہ وہ عدل، سچائی، دیانت اور رحمت کا عملی نمونہ بن کر دنیا کے سامنے حق کی گواہی دے۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے: ’’ تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائوں‘‘۔
یہ محبت صرف دعویٰ نہیں بلکہ کردار میں ظاہر ہوتی ہے۔ سچا عاشقِ رسول اپنے اخلاق، معاملات اور انصاف سی گواہی دیتا ہے کہ اس نے رسولؐ اللہ کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا ہے۔
شہادت کا بلند ترین مقام وہ ہے جب انسان اللہ کے دین، حق اور عدل کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کر دیتا ہے۔ شہید اپنے خون سے اعلان کرتا ہے کہ حق ہر قیمت سے زیادہ قیمتی ہے۔ لیکن اس سے پہلے حق کے مطابق زندگی گزارنا بھی ایک مسلسل شہادت ہے۔
آخرکار ہر انسان تنہا اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو گا۔ اس دن نہ مال ساتھ ہوگا، نہ منصب، نہ شہرت اور نہ تعلقات۔ صرف اعمال اور ان کی گواہیاں انسان کے ساتھ ہوں گی۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں صرف جینے کے لیے نہیں آیا بلکہ حق کی گواہی دینے کے لیے آیا ہے۔ اس کی آنکھیں، زبان، ہاتھ، پائوں، دل، ضمیر اور کردار سب اس کی زندگی کا ریکارڈ محفوظ کر رہے ہیں۔ اگر اس نے حق کو پہچانا، اس پر عمل کیا اور عدل و صداقت کے ساتھ زندگی گزاری تو یہی اعمال اس کی نجات کا ذریعہ بنیں گے، ورنہ یہی اس کے خلاف شہادت بن جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو پہچاننے، اس پر ثابت قدم رہنے، عدل و انصاف کے ساتھ زندگی گزارنے اور اپنے اعمال کو اپنے حق میں گواہی بنانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت، نہ کشور کشائی





