آپریشن شعبان کی کامیابیاں

آپریشن شعبان کی کامیابیاں
پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جہاں قومی سلامتی، عوامی تحفظ اور ریاستی رٹ کے تقاضے کسی بھی مصلحت سے بالاتر دکھائی دیتے ہیں۔ بلوچستان میں پاک فوج، فرنٹیئر کور ( ایف سی)، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جاری مشترکہ کارروائیاں اس حقیقت کا اظہار ہیں کہ ریاست دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پوری سنجیدگی، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ میدانِ عمل میں موجود ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق آپریشن ’’ شعبان‘‘ کے دوران 24گھنٹے میں مزید 3دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ ذرائع کے مطابق 5جولائی سے اب تک مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 105دہشت گرد ہلاک کیے جاچکے ہیں۔ یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردوں کے لیے پاکستان کی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہوں کی گنجائش مسلسل محدود ہوتی جارہی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف جو قیمت ادا کی ہے، شاید ہی دنیا کا کوئی دوسرا ملک اس کی مثال پیش کر سکے۔ ہمارے فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں، ایف سی کے سپاہیوں اور عام شہریوں نے اپنے خون سے اس وطن کے امن کی آبیاری کی ہے۔ شہدا کی قربانیاں محض تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ قوم کے حوصلے، استقامت اور آزادی کی علامت ہیں۔ انہی قربانیوں کی بدولت آج پاکستان دہشت گردی کے خلاف پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور منظم انداز میں کھڑا نظر آتا ہے۔ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ دشمن عناصر ہمیشہ اس خطے کے امن کو نقصان پہنچا کر پاکستان کی معاشی ترقی، قومی یکجہتی اور علاقائی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں امن کا قیام صرف ایک صوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ جب شاہراہیں محفوظ ہوں گی، ترقیاتی منصوبے بلاخوف جاری رہیں گے، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور عوام کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے تو دہشت گردی کے لیے زمین خود بخود تنگ ہوتی چلی جائے گی۔ دہشت گردی کا مقابلہ صرف ہتھیار سے نہیں بلکہ قومی شعور، اتحاد، بہتر حکمرانی، انصاف اور سماجی ترقی سے بھی کیا جاتا ہے۔ بندوق دہشت گرد کو ختم کر سکتی ہے، مگر دہشت گردی کے نظریے کو شکست دینے کے لیے تعلیم، قومی یکجہتی اور عوامی اعتماد ناگزیر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی ادارے ایک جانب عسکری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تو دوسری جانب عوامی تعاون اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر بھی دہشت گرد نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا جارہا ہے۔ مستونگ میں قومی شاہراہ پر دھماکے اور چاغی میں چیک پوسٹ پر حملے جیسے واقعات اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ دشمن اب بھی اپنے مذموم عزائم سے باز نہیں آیا۔ تاہم پاکستان کے سیکیورٹی ادارے منظم، جدید اور تجربہ کار ہیں۔ ہر حملے کے بعد نہ صرف فوری ردعمل دیا جاتا بلکہ اس کے پس پردہ موجود نیٹ ورکس تک پہنچنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے تاکہ دہشت گردی کی جڑوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جاسکے۔ پاک فوج، ایف سی، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے دن رات، شدید موسم، دشوار گزار پہاڑوں اور جان لیوا خطرات کے باوجود اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، بہادری اور قربانی قابلِ تحسین ہے۔ قوم کا فرض ہے کہ وہ اپنے محافظوں کے ساتھ کھڑی رہے، ان کی کامیابیوں کو سراہے اور دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کو مضبوط بنائے۔ عوام کا تعاون، بروقت اطلاعات اور قانون کا احترام اس جنگ میں ریاست کی طاقت کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جاسکتی کہ دہشت گردی کسی مذہب، قوم یا تہذیب کی نمائندہ نہیں ہوتی۔ دہشت گرد صرف خوف، انتشار اور خونریزی کی سیاست کرتے ہیں۔ ان کا مقصد ترقی کا راستہ روکنا، عوام میں خوف پیدا کرنا اور ریاستی اداروں کو کمزور دکھانا ہوتا ہے، لیکن پاکستانی قوم نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ آزمائش کے ہر دور میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو صرف سیکیورٹی اداروں کی ذمے داری نہ سمجھا جائے بلکہ اسے پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد تصور کیا جائے۔ جب ریاست، عوام، میڈیا، علمائ، اساتذہ اور نوجوان ایک ہی مقصد کے لیے متحد ہوں تو دہشت گردی کی ہر سازش ناکامی سے دوچار ہوتی ہے۔ قومی اتحاد ہی وہ طاقت ہے جو دشمن کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملا سکتی ہے۔ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے ماضی میں بھی دہشت گردی کے خلاف بڑے آپریشنز میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور ملک کے بیشتر حصوں میں امن بحال کیا۔ انہی کامیابیوں کی بنیاد پر یہ امید بجا ہے کہ موجودہ کارروائیاں بھی دہشت گردوں کے منظم نیٹ ورکس کو مزید کمزور کریں گی۔ ریاست کا واضح موقف ہے کہ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کے خلاف کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا۔ یہ جنگ صرف آج کی نسل کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی جنگ ہے۔ شہداء کے خون کا تقاضا بھی یہی ہے کہ امن کے اس سفر کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ پوری قوم کو اپنے سیکیورٹی اداروں پر اعتماد رکھتے ہوئے ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہنا ہوگا تاکہ پاکستان امن، استحکام اور ترقی کی منزل کی جانب مزید مضبوطی سے آگے بڑھ سکے۔ دہشت گردی کی تاریک رات خواہ کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، سحر کا سورج طلوع ہو کر رہتا ہے۔ پاکستان نے ماضی میں بھی مشکلات پر قابو پایا ہے اور آج بھی اس کی ریاستی قوت، عوامی اتحاد اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں اس بات کی ضمانت ہیں کہ دہشت گردی کا یہ ناسور اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔ ان شاء اللہ وہ دن دُور نہیں جب پاکستان کا ہر شہر، ہر گائوں اور ہر شاہراہ امن، ترقی اور خوش حالی کی علامت ہوگی اور دہشت گردی صرف تاریخ کے سیاہ بابوں میں باقی رہ جائے گی۔
غیر قانونی سمز، موثر کارروائیاں ناگزیر
پاکستان میں ڈیجیٹل رابطوں کے فروغ کے ساتھ موبائل فون اور سموں کا استعمال روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ تاہم اسی سہولت کا غیر قانونی استعمال قومی سلامتی، عوامی تحفظ اور سائبر جرائم کے حوالے سے ایک سنگین چیلنج بھی بن گیا ہے۔ ایسے میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے) کی جانب سے غیر قانونی طور پر جاری کی جانے والی سموں کے خلاف کارروائی ایک خوش آئند اور بروقت اقدام ہے۔ ساہیوال میں این سی سی آئی اے کے تعاون سے کی گئی کارروائی میں سیکڑوں غیر قانونی سموں کی برآمدگی اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ بعض عناصر جعلی یا غیر قانونی طریقوں سے سمیں جاری کرکے انہیں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کارروائی کے دوران 329غیر قانونی سمیں برآمد ہوئیں، جن میں 176جاز، 83یوفون، 66زونگ اور 4ٹیلی نار کی سمیں شامل تھیں۔ ابتدائی تحقیقات میں ان سموں کی مختلف شہروں تک ترسیل اور خرید و فروخت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ غیر قانونی سمیں مالی فراڈ، سائبر کرائم، بھتہ خوری، جعلی کالز، شناختی چوری اور دیگر جرائم میں استعمال ہوسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سموں کے اجرا کے نظام کو شفاف، محفوظ اور قابلِ اعتماد بنانا نہایت ضروری ہے۔ بائیومیٹرک تصدیق کے نظام کے غلط استعمال کی روک تھام اور ذمے دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کی ذمے داری بھی کم نہیں۔ ہر شہری کو چاہیے کہ وہ وقتاً فوقتاً اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سموں کی تصدیق کرے اور اگر کسی غیر مجاز سم کا اندراج سامنے آئے تو فوراً متعلقہ اداروں کو اطلاع دے۔ عوامی تعاون کے بغیر اس مسئلے پر مکمل قابو پانا ممکن نہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ پی ٹی اے، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور موبائل کمپنیوں کے باہمی تعاون سے غیر قانونی سموں کے نیٹ ورکس کا موثر خاتمہ ہوگا۔ شفاف نظام، سخت نگرانی اور فوری قانونی کارروائی ہی وہ راستہ ہے جس سے شہریوں کا اعتماد بحال، قومی سلامتی مضبوط اور ڈیجیٹل پاکستان کا خواب مزید محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔




