
آپریشن شعبان نتیجہ خیز ہو گا
تحریر : سی ایم رضوان
وزیر اعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ اگر یہ کہہ دیں کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان دلیری سے کام کر رہے ہیں۔ جوابا وزیر اعلیٰ بلوچستان بھی یہ کہہ دیں کہ مرکز بلوچستان میں بڑا کام کر رہا ہے تو ان دونوں تہنیتی بیانات سے ان حالات اور حقائق پر کوئی فرق نہیں پڑتا جن سے بلوچستان اب گزر رہا ہے۔ البتہ جو آپریشن شعبان اب بلوچستان میں شروع کیا گیا ہے اس سے فرق پڑ سکتا ہے جس کے اچھے برے نتائج تو وقت ہی بتائے گا مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس سے دہشت گردانہ کارروائیوں میں فوری طور پر کمی ضرور واقع ہو گی اور زندگی رواں دواں رہے گی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا گزشتہ روز یہ کہنا قابل اعتماد ہے کہ آپریشن شعبان کامیابی سے جاری ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں پاک فوج، فرنٹیئر کور اور بلوچستان پولیس کی مشترکہ زمینی و فضائی کارروائیوں پر مبنی آپریشن شعبان میں اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔
’’ آپریشن شعبان‘‘ صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لئے ایک اہم ترین اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ کسی بھی بڑے انٹیلی جنس بیسڈ یا عسکری آپریشن کی طرح، اس آپریشن کے بھی متعدد پہلو ہیں جنہیں ملکی سلامتی اور مقامی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس آپریشن کی ضرورت، اہمیت اور افادیت یہ ہے کہ اس سے بلوچستان میں بالخصوص دہشت گردی کا فوری تدارک ہو گا اور دہشت گرد نیٹ ورک کی تباہی یقینی ہو جائے گی۔ اس آپریشن کی سب سے بڑی افادیت سکیورٹی فورسز کی فوری اور موثر کارروائیاں ہیں۔ اب تک درجنوں شرپسند اور دہشت گرد اس آپریشن میں مارے جا چکے ہیں، جس سے دہشت گرد تنظیموں کی قیادت اور تنظیمی ڈھانچے کو گہرا دھچکا پہنچا ہے۔ نتیجتاً ریاستی رِٹ کی بحالی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ منگی ڈیم اور خضدار جیسے حساس علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور پولیس پر حملوں کے بعد یہ آپریشن ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ شر پسند عناصر کو واضح پیغام دیا جا سکے کہ ریاست کی رِٹ کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ اس آپریشن کی خاص بات فوج، ایف سی اور بلوچستان پولیس کا مشترکہ ایکشن ہے۔ مقامی پولیس کو فرنٹ لائن پر شامل کرنے سے جہاں اس کا مورال بلند ہوا ہے، وہاں انٹیلی جنس شیئرنگ اور مقامی نیٹ ورک کو سمجھنے میں بھی مدد ملی ہے۔ اس آپریشن سے معاشی و ترقیاتی منصوبوں کا تحفظ بھی ہو گا۔ بلوچستان بالخصوص سی پیک اور دیگر غیر ملکی و مقامی ترقیاتی منصوبوں کا مرکز ہے۔ اس لئے یہاں امن و امان کی صورتحال بہتر کیے بغیر معاشی استحکام ناممکن ہے، لہٰذا یہ آپریشن سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لئے انتہائی اہم ہے۔ گو کہ اس اپریشن کے ناقدین کا خیال ہے کہ صرف فوجی طاقت پر انحصار پائیدار حل نہیں لیکن دہشت گردانہ کارروائیوں کی حد سے بڑھتی تعداد بھی تو خاموشی سے دیکھنا انتظامی جرم ہے۔ تاہم بعض مبصرین اور ماہرینِ سیاست کا یہ تجزیہ قابل ذکر ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ محض سکیورٹی یا عسکری کارروائیوں سے مستقل طور پر حل نہیں ہو سکتا۔ ماضی کے آپریشنز کی طرح، اگر اس بار بھی عسکری کامیابی کے بعد سیاسی و سماجی سطح پر اقدامات نہ کیے گئے، تو یہ افادیت عارضی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سے مقامی آبادی میں احساسِ محرومی اور خوف بڑھے گا بڑے پیمانے پر کیے جانے والے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران بعض اوقات ناکہ بندیوں، سرچ آپریشنز اور نقل و حرکت پر پابندیوں کی وجہ سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے مقامی آبادی میں بیگانگی اور ریاستی اداروں کے خلاف عدمِ اعتماد کی فضا پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ پراپیگنڈا اور علیحدگی پسندوں کو بیانیہ مل جاتا ہے اور وہ فوجی آپریشنز کو اکثر ملک دشمن اور علیحدگی پسند عناصر اپنے پروپیگنڈے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ وہ مقامی نوجوانوں کو ریاست کے خلاف بھڑکانے اور مظلومیت کا بیانیہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے نمٹنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ آپریشن کے ناقدین کا خیال ہے کہ بلوچستان کے اصل مسائل معاشی پسماندگی، وسائل پر اختیار کی کمی، اور سیاسی خلا ہیں۔ جب تک ان بنیادی محرکات کو دور نہیں کیا جاتا، تب تک عسکری آپریشنز سے حاصل ہونے والے نتائج کو طویل مدت تک برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ جس طرح دہشت گرد گروہوں نے ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا اور اس کی کارروائیوں سے تھانے، سکیورٹی مراکز، سرکاری و حساس تنصیبات حتیٰ کہ راہ چلتے مسافر اور عام شہریوں کو بھی ہر وقت جانوں کا خطرہ لاحق ہو اس کے خلاف فوری سخت اور فیصلہ کن آپریشن ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محب وطن حلقوں کی جانب سے واضح طور پر کہا جا رہا ہے کہ آپریشن شعبان بلوچستان میں امن کی فوری بحالی اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے گراف کو نیچے لانے کے لئے انتہائی ضروری اور ناگزیر تھا۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے قلع قمع میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں جو اس کی افادیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ تاہم، اس آپریشن کی پائیدار افادیت کا انحصار اس بات پر ہے کہ عسکری کامیابیوں کے ساتھ ساتھ حکومتِ پاکستان بلوچستان میں مخلصانہ سیاسی ڈائیلاگ، مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع، اور صوبے کی معاشی و سماجی ترقی کے لئے جامع اقدامات کو یقینی بنائے۔
پاکستان کی عسکری تاریخ میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے متعدد بڑے آپریشن کیے گئے ہیں۔ آپریشن شعبان کا موازنہ اگر ماضی اور حال کے دیگر بڑے عسکری آپریشنز جیسے آپریشن ضربِ عضب، آپریشن ردِ الفساد اور ماضی کے روایتی سکیورٹی اقدامات سے کیا جائے، تو اس کی حکمتِ عملی، دائرہ کار اور اہداف میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ کیونکہ آپریشن شعبان کا جغرافیائی دائرہ کار اور نوعیت مختلف ہے۔ ماضی کے آپریشنز مثلاً ضربِ عضب، راہِ راست زیادہ تر خیبر پختونخوا اور سابقہ فاٹا ( مثلاً شمالی وزیرستان، سوات وغیرہ) کے مخصوص اور مربوط علاقوں میں کیے گئے جہاں دہشت گردوں نے اپنے باقاعدہ ٹھکانے بنا رکھے تھے۔ یہ ’’ علاقہ صاف کرنے‘‘ کے روایتی فوجی آپریشنز تھے جبکہ آپریشن شعبان بلوچستان کے مخصوص، دشوار گزار اور بکھرے ہوئی حصوں ( جیسے منگی ڈیم، خضدار اور قلات کے پہاڑی سلسلے) پر مرکوز ہے۔ یہاں دہشت گردوں کے مستقل ٹھکانے یا قلعے نہیں ہیں، بلکہ وہ گوریلا جنگ اور ’’ ہٹ اینڈ رن‘‘ (Hit and Run)کی حکمتِ عملی اپناتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ آپریشن جغرافیائی طور پر زیادہ پیچیدہ ہے۔ لہٰذا اس آپریشن کی آپریشنل حکمتِ عملی بھی مختلف ہے۔ ماضی کے آپریشنز: ضربِ عضب جیسے آپریشنز میں بھاری ہتھیاروں، فضائیہ کا استعمال اور بڑے پیمانے پر فوج کی نقل و حرکت شامل تھی، جس کے نتیجے میں سویلین آبادی کو عارضی طور پر منتقل بھی کرنا پڑا تھا لیکن آپریشن شعبان بنیادی طور پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن اور ہائی ٹارگٹ سرچ آپریشنز پر مبنی ہے۔ اس میں مقامی آبادی کو بے گھر کیے بغیر، مخصوص انٹیلی جنس معلومات پر رات کے اندھیرے میں یا اچانک چھاپے مار کر دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ عام شہریوں کا نقصان کم سے کم ہو۔ اس آپریشن میں سول ملٹری اور مقامی پولیس کا کردار بھی منفرد ہے۔ ماضی کے آپریشنز: فاٹا اور سوات میں پولیس کا ڈھانچہ کمزور ہونے کی وجہ سے فرنٹ لائن پر مکمل طور پر پاک فوج اور فرنٹیر کور موجود تھی۔ سول انتظامیہ کا کردار آپریشن کے بعد بحالی کے مرحلے میں شروع ہوتا تھا جبکہ اس آپریشن کی ایک منفرد خصوصیت جوائنٹ ایکشن ہے۔ اس میں پاک فوج اور ایف سی کے ساتھ ساتھ بلوچستان پولیس اور سی ٹی ڈی کو ہراول دستے کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اس سے مقامی پولیس کی صلاحیت اور مورال میں اضافہ ہوا ہے اور مقامی سطح پر معلومات تک رسائی آسان ہوئی ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ ردِ الفساد اور ضربِ عضب جیسے آپریشنز کا بنیادی ہدف نظریاتی یا مذہبی شدت پسند تنظیمیں ( جیسے تحریکِ طالبان پاکستان) تھیں، جن کا بیانیہ مذہب کی آڑ میں تھا جبکہ آپریشن شعبان کا سامنا زیادہ تر قوم پرست اور علیحدگی پسند مسلح گروہوں ( جیسے بی ایل اے، بی ایل ایف وغیرہ) سے ہے، جن کا نیٹ ورک سیاسی محرومیوں اور بیرونی ( سرحد پار) فنڈنگ پر چلتا ہے۔ اس لئے اس آپریشن میں دشمن کا بیانیہ بالکل مختلف ہے، جس سے نمٹنے کے لئے محض طاقت نہیں بلکہ پروپیگنڈا کا توڑ کرنا بھی، عسکری حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
یہ بھی طے ہے کہ آپریشن شعبان بلوچستان کے سکیورٹی اور انتظامی تناظر میں مقامی آپریشن ہے، یہ ایک علاقائی سٹریٹیجی بھی ہے جس کے نتائج اور اس کی طویل مدتی کامیابی کا انحصار چند بنیادی عوامل اور زمینی حقائق پر ہے۔ کسی بھی ایسے آپریشن کے نتیجہ خیز ہونے کی مدت اور اس کی حد کا تعین کرنے کے لئے متعدد دلائل اور جواز پیش کیے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپریشن کے ابتدائی مرحلے ( پہلے 3سے 6ماہ) میں عام طور پر واضح کامیابیاں نظر آتی ہیں، جیسے کہ مطلوبہ اہداف کا حصول، نیٹ ورکس کی توڑ پھوڑ، یا کسی خاص غیر قانونی سرگرمی پر فوری گرفت۔ لیکن کوئی بھی آپریشن مستقل بنیادوں پر تبھی نتیجہ خیز ہو سکتا ہے جب اس کے بعد مستقل اور مضبوط ہولڈ کی حکمتِ عملی اپنائی جائے۔ اگر انتظامی یا سکیورٹی فورسز کلیئر کیے گئے علاقوں یا شعبوں پر اپنی گرفت تادیر برقرار نہ رکھ سکیں، تو خطرات دوبارہ سر اٹھا سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ اگر یہ آپریشن محض وقتی طاقت کے استعمال تک محدود رہا تو اس کے نتائج عارضی ہوں گے۔ البتہ مستقل کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ مسئلے کی جڑ ( مثلاً معاشی محرومی، گورننس کی کمزوری، یا سکیورٹی کے خلا) کو نشانہ بنایا جائے۔ جب یہ طے ہے کہ کسی بھی آپریشن کی سب سے بڑی طاقت عوام کا اعتماد اور سیاسی قیادت کا ایک پیج پر ہونا ہوتا ہے اور عوامی تعاون کے بغیر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں طویل عرصے تک کامیاب نہیں رہ سکتیں تو اس حکمت عملی کا مجموعی اہداف میں شامل ہونا ناگزیر ہے۔ اگر آپریشن میں شامل تمام ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہم آہنگی سے کام کرتے رہیں، تو آپریشن کے سو فیصد نتائج حاصل کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ آپریشنز اس وقت اپنی افادیت کھو دیتے ہیں جب ابتدائی کامیابی کے بعد فالو اپ سست پڑ جاتا ہے۔ اس لئے جب تک مستقل مانیٹرنگ کا نظام قائم نہیں ہوتا، تب تک طویل مدتی نتائج حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ لہٰذا خلاصہ یہ ہے کہ آپریشن شعبان اپنے ابتدائی مقاصد میں تو فوری اور انتہائی حد تک نتیجہ خیز ہو سکتا ہے، لیکن اس کے اثرات کو مستقل بنانے کے لئے محض طاقت کا استعمال کافی نہیں ہوگا۔ اگر اس کے ساتھ انتظامی اصلاحات، معاشی استحکام اور گورننس کو بہتر نہ کیا گیا تو چند ماہ یا سال بھر بعد اس کے اثرات مدہم پڑ سکتے ہیں۔ اس لئے طویل مدتی کامیابی کا جواز صرف اور صرف مستقل فالو اپ اور سٹرکچرل اصلاحات سے ہی فراہم کیا جا سکتا ہے۔
سی ایم رضوان







