اندازے کی غلطی اور عالمی سیاست کی قیمت

اندازے کی غلطی اور عالمی سیاست کی قیمت
تحریر : رفیع صحرائی
بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات گولی، میزائل اور فوجی قوت سے زیادہ خطرناک چیز غلط اندازہ ثابت ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی بڑی سلطنتیں دشمن کی عسکری قوت سے کم اور اپنے غلط تخمینوں کی وجہ سے زیادہ نقصان اٹھاتی رہی ہیں۔ عراق، افغانستان، ویتنام اور لیبیا کے تجربات کے بعد اگر دنیا کو یہ توقع تھی کہ عالمی طاقتیں اب فیصلے کرتے وقت زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کریں گی تو حالیہ ایران۔ امریکہ کشیدگی نے اس تاثر کو کمزور کر دیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعتراف کہ انہیں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے عوامی جذبات اور ان کے جنازے میں لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت پر حیرت ہوئی، دراصل ایک بڑے سوال کو جنم دیتا ہے۔ اگر واقعی امریکی قیادت یہ سمجھتی رہی کہ ایرانی عوام اپنے سیاسی اور مذہبی نظام سے مکمل طور پر بیزار ہیں اور کسی بیرونی دبائو یا عسکری کارروائی کے نتیجے میں فوری طور پر اقتدار کی تبدیلی ممکن ہو جائے گی تو یہ اندازہ حقیقت سے بہت دور ثابت ہوا۔ ایران میں رجیم چینج کے لیے امریکی ایڈونچر بری طرح ناکامی سے دوچار ہو گیا۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین برسوں سے یہ کہتے آئے ہیں کہ بیرونی دبا اور فوجی حملے اکثر داخلی اختلافات رکھنے والے معاشروں میں بھی قومی یکجہتی کو مضبوط کر دیتے ہیں۔ ایران میں بھی کچھ ایسا ہی دیکھنے میں آیا۔ اختلافات، سیاسی تنقید اور داخلی مباحث اپنی جگہ موجود رہے، لیکن بیرونی دبا نے بڑی حد تک قومی بیانیے کو تقویت دی اور ریاستی اداروں کے گرد حمایت کا دائرہ وسیع ہوا۔
یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن کو اپنے اندازوں کی غلطی کا ادراک ہے؟ کیونکہ غلط تخمینے صرف ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتے ہی تیل کی منڈیاں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو جاتی ہیں، سمندری تجارتی راستے خطرات کی زد میں آ جاتے ہیں، عالمی منڈیوں میں اتار چڑھائو پیدا ہوتا ہے اور اس کا بوجھ بالآخر دنیا بھر کے عام شہریوں کو مہنگائی اور معاشی دبا کی صورت میں اٹھانا پڑتا ہے۔
کئی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ واشنگٹن میں بعض حلقوں کو توقع تھی کہ ایران محدود وقت میں پسپائی اختیار کر لے گا اور طاقت کے توازن میں فوری تبدیلی آ جائے گی، لیکن عملی صورت حال اس سے مختلف رہی۔ ایران نے اپنے دفاعی اور عسکری وسائل استعمال کرتی ہوئے نہ صرف مزاحمت کی بلکہ خطے میں موجود امریکی مفادات اور اتحادیوں کے لیے بھی نئے سوالات پیدا کر دئیے۔ اس صورتحال نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ کے پیچیدہ تنازعات کو محض عسکری طاقت کے ذریعے حل کرنا آسان نہیں۔
اسی تناظر میں یہ بحث بھی سامنے آئی کہ اگر کشیدگی مزید بڑھتی تو دنیا ایک بڑے علاقائی تصادم بلکہ بعض مبصرین کے مطابق ایک وسیع تر عالمی بحران کے دہانے تک پہنچ سکتی تھی۔ سادہ لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ دنیا تیسی عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی قیادت کو اس خطرے کی شدت کا احساس تھا؟ کیونکہ جدید دنیا میں ایک محدود جنگ بھی عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی استحکام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس تنازعے نے ایک اور حقیقت بھی نمایاں کی کہ جدید جنگوں میں صرف میدانِ جنگ ہی فیصلہ کن نہیں ہوتا بلکہ نفسیاتی، سفارتی اور اطلاعاتی محاذ بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کشیدگی سے دنیا بھر میں یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ خطے کی قوتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے یک طرفہ فیصلے کرنا پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عسکری طاقت کے ساتھ ساتھ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حکمت عملی کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔
امریکہ کے لیے بھی یہ صورتحال کئی سوال چھوڑ گئی۔ جدید عسکری ٹیکنالوجی، اربوں ڈالر کے دفاعی اخراجات اور عالمی اثر و رسوخ کے باوجود یہ حقیقت برقرار رہی کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات کا کوئی فوری اور آسان حل موجود نہیں۔ افغانستان اور عراق کے تجربات کے بعد امریکی پالیسی ساز یقیناً ایک اور طویل زمینی تنازعے کے نتائج سے بخوبی آگاہ تھے لیکن صدر ٹرمپ نے اپنے ہی اندازے قائم کیے ہوئے تھے۔
یہاں پاکستان کے کردار کا ذکر بھی ضروری ہے۔ پاکستان مسلسل یہ موقف اختیار کرتا رہا کہ خطے کے مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری میں پوشیدہ ہے، نہ کہ جنگ اور محاذ آرائی میں۔ پاکستانی قیادت اور عسکری قیادت نے کشیدگی میں کمی اور سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا۔ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ جیسے حساس خطوں میں یہی رویہ عالمی امن کے لیے زیادہ سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔
تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جنگوں کا آغاز اکثر جذبات، غلط معلومات یا حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی کے نتیجے میں ہوتا ہے، لیکن ان کا اختتام بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی ہوتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا دنیا اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے لاکھوں انسانوں کو خوف، بے یقینی اور تباہی کے مراحل سے گزارنا ضروری سمجھتی رہے گی؟
طاقت کا اصل امتحان جنگ شروع کرنے میں نہیں بلکہ جنگ کو روکنے میں ہوتا ہے۔ اگر عالمی قیادت اس حقیقت کو سمجھ لے تو شاید آنے والی نسلیں ایک اور تباہ کن عالمی تصادم کے خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔ اور اگر طاقتور ممالک اپنے اندازوں اور خواہشات کو حقیقت کا متبادل سمجھتے رہے تو تاریخ انہیں ایک بار پھر یہ یاد دلانے میں دیر نہیں لگائے گی کہ قومیں صرف اسلحے سے نہیں بلکہ عزم، اجتماعی شعور اور قومی وحدت سے بھی اپنا دفاع کرتی ہیں۔



