ColumnImtiaz Aasi

جیلیں ، منشیات اور ملازمین

جیلیں ، منشیات اور ملازمین
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
جیلوں میں منشیات کا استعمال کوئی انہونی بات نہیں۔ جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں طرح طرح کے لوگ اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ جیلیں جو جرائم پیشہ لوگوں کی قیام گاہ ہوتیں ہیں وہاں منشیات کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں البتہ منشیات کے انسداد کے لئے اقدامات بہت ضروری ہیں۔ مروجہ طریقہ کار کے مطابق جیلوں میں داخلے کے وقت مختلف مقامات پر جامہ تلاشی اور سامان کو سکینگ مشین سے گزارنے کے بعد قیدی تک پہنچایا جاتا ہے۔ عام طورپر قیدی اور حوالاتی جب اپنے مقدمات کے سلسلے میں عدالتوں میں پیشی پر جاتے ہیں جیل واپسی کے وقت کسی نہ کسی طریقہ سے منشیات کی کچھ مقدار اپنے ساتھ لانے میںکامیاب ہو جاتے ہیں۔ یقین کریں بسا اوقات قیدی مختلف پھلوں اور سبزیوں میں ہیروئن پائوڈر اور دیگر منشیات اندر لے جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ خصوصا خواتین قیدی اور ان سے ملاقات کے لئے آنے والی بعض خواتین منشیات لے آتی ہیں۔ ہم یہاں کسی جیل کا افسر کا نام تو نہیں لیتے درحقیقت بعض جیلوں میں منشیات کی خریدوفروخت ہوتی ہے جس میں بعض افسران کی مبینہ طور بھگت ہوتی ہے۔ کوئی قیدی یا حوالاتی جیل ملازمین کی پشت پناہی کے بغیر منشیات کا دھندہ نہیں کر سکتا۔ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر سنٹرل جیل فیصل آباد کے برخاست شدہ وارڈر ریاض کی باتیں سن کر مجھے حریت ہوئی کہ ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی نگرانی میں منشیات فروخت ہوتی ہے لیکن سینٹرل جیل فیصل آباد کے سنیئر سپرنٹنڈنٹ عبدل غفور انجم نے مجھے اس سارے معاملے کی تفصیلات سے آگاہ کیا تو میں سوچوں میں گم ہو گیا کہ کیسے کیسے ملازمین ہیں جو اپنے جرم کو چھپانے کے لئے اپنے افسران کے خلاف جھوٹے الزامات لگاتے ہیں۔ جیل وارڈر نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پر منشیات کی فروخت کا الزام لگایا جب کہ اصل کہانی کچھ اور تھی۔ وارڈر نے ایک خاتون وارڈر کا موبائل فون چرا لیا تو اس کے خلاف انکوائری کی گئی تو اس پر جرم ثابت ہو گیا جس کے بعد اس کے خلاف پولیس اسٹیشن میں چوری کا مقدمہ درج کرانے کے بعد سائبر کرائم میں بھی مقدمہ کے اندراج کے درخواست دے دی گئی ہے۔ انکوائری میں وارڈر کے خلاف جرم ثابت ہونے پر سپرنٹنڈنٹ جیل نے اسے ملازمت سے برخاست کر دیا ہے۔ جیل وارڈر کی طرف سے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پر الزامات لگانے اور وارڈر کے خلاف انکوائری اور مقدمہ کے اندراج سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا وہ اپنے جرم کو چھپانے کے لئے اپنے افسران پر دبائو ڈال رہا تھا تاکہ کسی طرح وہ ملازمت سے برخاستگی سے بچ جائے۔ سوشل میڈیا پر وارڈر کی طرف سے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کا نام لے کر ان کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ سے متعلقہ افسران کی دل شکنی قدرتی امر ہے۔ میاں فاروق نذیر کی سبکدوشی کے بعد میاں سالک جلال کو عارضی طور پر آئی جی جیل خانہ جات مقرر کیا گیا ہے۔ جیلوں میں منشیات کی آمد اور اس کے استعمال کے تدارک کے لئے اس ناچیز کی رائے میں جیل ملازمین کے جیلوں میں داخلے سے قبل باریک بینی سے جامہ تلاشی ہونی چاہیے۔ اس موقع پر ایک افسر کا موقع پر ہونا بہت ضروری ہے جب کہ جو ملازمین جامہ تلاشی پر مامور ہوں انہیں روزانہ بنیادوں پر تبدیل ہونا چاہیے تاکہ کوئی ملازم دیگر ملازمین کے ساتھ روابط نہ رکھ سکے۔ جہاں تک جیلوں میں منشیات کے استعمال کی بات ہے اس سے صرف نظر ممکن نہیں بعض جیلوں میں باقاعدہ منشیات فروخت ہوتی ہیں۔ مجھے یاد ہے ایک سینٹرل جیل میں سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی سرپرستی میں منشیات کی کھلے عام فروخت ہوتی تھی۔ ہمیں افسوس ہے جو بھی آئی جی جیل خانہ جات تعینات ہوا اس نے منشیات کے روک تھام اور سب اچھا ختم کرنے کے لئے اقدامات نہیں کئے۔ ہم کسی کا نام تو نہیں لیتے مگر یہ مسلمہ حقیقت ہے جیلوں سے سب اچھا کی رقم بعض اعلیٰ افسران تک پہنچائی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ملک کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کرپشن سے پاک ہو کرپشن کے ناسور نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں۔ تعجب ہے جو آئی جی جیل خانہ جات آتا ہے جیل اصلاحات کا پرچار کرتا ہے لیکن کرپشن کے خاتمے کے لئے اقدامات کا کوئی ذکر نہیں ہوتا جس سے معاملات مشکوک ہوجاتے ہیں۔ سوال ہے سابق آئی جی جیل خانہ جات اور موجودہ عارضی آئی جی جیل خانہ جات جو خود بھی ایک عرصہ تک مختلف جیلوں میں سپرنٹنڈنٹ تعینات رہ چکے ہیں وہ مبینہ کرپشن سے لاعلم ہیں؟، اگر ہم ملک بھر کی جیلوں کے حالات پر نظر ڈالیں تو پنجاب کی جیلوں میں سب سے زیادہ کرپشن پائی جاتی ہے۔ ایک وقت تھا جیلوں کے افسران قیدیوں کی ایماء پر دوسرے قیدیوں کے چالان نکل دیتے تھے۔ یہ ناچیز اپنے کالموں میں کئی بار اس معاملے کی طرف توجہ دلا چکا تھا کہ اب محکمہ جیل خانہ جات کے قیدیوں کو سزا کی طور پر دوسری جیلوں میں منتقلی کے لئے ایس او پیز جاری کئے ہیں جس کے بعد قیدیوں کو دوسری جیلوں میں منتقلی میں یقینی طور پر کمی واقع ہو گی ورنہ تو معمولی معمولی بات پر قیدیوں کو اپنے اضلاع کی جیلوں سے دور دراز جیلوں میں بھیج دیا جاتا تھا۔ گو ہم اس سے قبل اپنے کالموں اور وی لاگ میں اس اہم معاملے کی طرف توجہ دلا چکے ہیں کہ جب ایک مقدمہ میں دو تین ملزمان جیلوں میں آتے ہیں تو جیل حکام ان سے نذرانہ کی وصولی کی خاطر مختلف بیرکس میں بھیج دیتے ہیں جس کے بعد ان سے مبینہ طور پر رشوت لے کر انہیں ایک ہی بیرک میں ڈال دیتی ہیں۔ کرپشن کا یہ طریقہ کار بہت پرانا چلا آرہا ہے ہمیں امید ہے عارضی آئی جی جیل خانہ جات اس معاملے کی طرف خصوصی توجہ دیں گے۔ اگرچہ قیدیوں کے اور بھی بہت سے معاملات ہیں جس میں مبینہ طور پر جیل ملازمین بھاری رشوت وصول کرتے ہیں ان کا ذکر آئندہ کالم میں کروں گا ۔قیدیوں کو دوسری جیلوں میں منتقلی کے لئے ایک طریقہ کار طے کرنے سے جہاں کریشن کے خاتمے میں مدد ملے گی وہاں قیدیوں کے لواحقین کو ایک بہت بڑی اذیت سے نجات مل جائے گی۔ مثال کے طور پر اگر راولپنڈی سے کسی قیدی کو بہاول پور جیل بھیج دیا جائے تو اس کے اہل خانہ کو ملاقات سے قبل کتنی مسافت طے کرنی پڑے گی۔

جواب دیں

Back to top button