سندھ حکومت کی مثبت کارکردگی

سندھ حکومت کی مثبت کارکردگی
تحریر: تجمّل حسین ہاشمی
پاکستان میں کینسر اب صرف ایک طبی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک سماجی، معاشی اور عوامی صحت کی ہنگامی صورتِ حال اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ملک میں کینسر کے مریضوں کی حقیقی تعداد کا اندازہ لگانے کے لیے ابھی تک مکمل اور موثر قومی نظام کمزور ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں قومی اور صوبائی سطح پر کینسر رجسٹریوں کے قیام کی کوششیں تیز ہوئی ہیں۔ اعداد و شمار اور زمینی حقائق کے درمیان خلا موجود ہے۔ ابھی محکمہ صحت میں بری تبدیلی کی امید ہے۔ سندھ حکومت کے شعبہ صحت کے حوالہ سے کی جانے والی کوششوں کی تعریف بنتی ہے۔ ہمیں سندھ حکومت کے حوالے سے مثبت سوچ رکھنا بھی ضروری ہے، میں محسوس کرتا ہوں کہ کئی حلقوں میں اس حوالے سے تھوڑی سخت دلی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ محکمہ صحت سندھ کینسر اور صحت سے جوڑے دیگر مسائل کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ میڈیا پر چلنے والی خبروں اور آنکھوں دیکھے میں کافی فرق موجود ہے۔ شعبہ صحت کی کارکردگی کا احوال لکھنا اپنا فرض سمجھ رہا ہوں، گزشتہ کئی ماہ پہلے میرے محلے دار کے 12سالہ بیٹے کو کینسر کی تشخیص ہوئی، مالی وسائل کی کمی نے حالات کو مزید گمبھیر بنا دیا، اس نے محکمہ صحت سندھ کو مالی مدد کی درخواست دی تاکہ اپنے12سالہ بچے کی جان بچائی جا سکے، والد کی پریشانی اپنی جگہ اور سندھ حکومت کی کارکردگی کے بارے میڈیا پر خبروں سے نا امید تھا ۔ ایک دن میں اس کے ساتھ محکمہ صحت کے دفتر چلا گیا تاکہ داد رسی کا معلوم کر سکیں، ہماری بے یقینی یقین میں بدل گئی۔ جب ایڈیشنل سیکرٹری صحت جناب عامر ضیاء نے بری عزت دی اور محکمہ کارروائی کے تمام مراحل کو بڑے احترام سے سمجھایا گیا۔ میں خود بھی ایڈیشنل سیکرٹری جناب عامر ضیاء اور ان کے اسٹاف کی بے لوث خدمات کو دیکھ کر حیران تھا کہ ہر آنے والے شہریوں کی فریاد کو سنا جا رہا تھا، میں یہ تفصیل اس لئے لکھ رہا ہوں کہ تمام لوگوں جان سکیں کہ سندھ حکومت اور افسران بالا اپنے شہریوں کی سنوائی کرتے ہیں، اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ سندھ حکومت اپنے شہریوں کی صحت کے لیے کام کر رہی ہے۔ الزامات کے پرچار پر مت جائیں۔ بلکہ حقیقت کو تسلیم کریں۔ اگر ہم عالمی سطح پر دیکھا جائے تو کینسر کی شرح میں نمایاں تفاوت پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں ہر سال قریباً 4سے 5لاکھ اموات کینسر کے باعث ہوتی ہیں، جبکہ برطانیہ میں سالانہ تین لاکھ سے زائد نئے کیس رپورٹ ہوتے ہیں۔ اسی طرح بھارت میں بھی کینسر کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اندازاً ہر سال 14سے 15لاکھ نئے کیس سامنے آتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کینسر ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے اور پاکستان بھی اس سے الگ نہیں۔
حالیہ شائع ہونے والی حیدرآباد کینسر رجسٹری کی رپورٹ کے مطابق خواتین میں چھاتی کا سرطان جبکہ مردوں میں منہ کا سرطان سب سے زیادہ عام ہے۔ ماہرین کے مطابق منہ کے سرطان میں اضافے کی بڑی وجوہات گٹکا، ماوا، چھالیہ اور تمباکو کا استعمال ہے، جبکہ چھاتی کے سرطان کے کیس نوجوان خواتین میں بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ سندھ حکومت نے گٹکا ماوا اور منشیات پر سخت کارروائی کر رہی ہے، بڑے بڑے مافیاز کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سندھ حکومت صحت کے حوالے کئی اہم اقدامات کر رہی ہے، ہمارے ہاں ملک میں اس وقت کئی اہم ادارے کینسر رجسٹری اور علاج کے شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ ان میں کراچی کینسر رجسٹری، پنجاب کینسر رجسٹری، پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کینسر رجسٹری، آرمڈ فورسز ادارہ برائے امراضیات کینسر رجسٹری اور قومی کینسر رجسٹری پروگرام نمایاں ہیں۔ قومی کینسر رجسٹری کی پہلی جامع رپورٹ کے لیے انہی اداروں کے اعداد و شمار کو یکجا کیا گیا، جس سے قریباً دو لاکھ ستر ہزار مریضوں کا تجزیہ ممکن ہوا۔ کارکردگی کے اعتبار سے پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کا کردار سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔ ادارے کے مطابق اس کے ملک بھر میں قائم بیس کینسر اسپتال ہر سال چالیس ہزار سے زائد نئے مریضوں کا علاج کرتے ہیں اور لاکھوں تشخیصی و علاج کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق ملک کے کینسر مریضوں کی ایک بڑی تعداد انہی مراکز سے علاج حاصل کرتی ہے۔ کراچی میں واقع کینسر کے بڑے مراکز میں پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے تحت چلنے والا کِران، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، آغا خان یونیورسٹی اسپتال، ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک شامل ہیں۔ ان اداروں نے تشخیص اور علاج میں اہم خدمات انجام دی ہیں، تاہم مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں سہولیات اب بھی ناکافی محسوس ہوتی ہیں۔ کیوں کہ آبادی کے بڑھنے کی رفتار بہت زیادہ ہے اور مسائل کی کمی اپنی جگہ موجود ہے۔ حیدرآباد کینسر رجسٹری کی کامیابی میں لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کا کردار خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ تحقیق کے مطابق اس ادارے نے جدید بافتی تشخیصی خدمات کو سندھ کے دور دراز علاقوں تک پہنچا کر کینسر کی تشخیص کو بہتر بنایا ہے۔ دوسری جانب سندھ حکومت نے مالی سال 2025۔26کے بجٹ میں صحت کے شعبے کے لیے 334ارب روپے مختص کیے ہیں، جو صوبے کی تاریخ کے بڑے صحت بجٹوں میں شمار ہوتا ہے۔ بجٹ میں کینسر کی نگہداشت، جدید طبی سہولیات، اسپتالوں کی توسیع اور خصوصی علاج کے پروگراموں کے لیے فنڈز رکھے گئے ہیں۔ تاہم ایک سنجیدہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کیا صرف بجٹ میں اضافہ ہی کافی ہے؟ اگر ضلع سطح پر کینسر رجسٹریاں فعال نہ ہوں، اگر تشخیص کے مراکز محدود ہوں، اور اگر دیہی سندھ کے مریض کراچی یا حیدرآباد جانے پر مجبور ہوں تو اربوں روپے کے اعلانات اپنی افادیت کھو دیتے ہیں۔ اصل کامیابی فنڈز مختص کرنے میں نہیں بلکہ ان کے موثر استعمال میں ہے۔ سندھ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر ڈویژن میں جدید کینسر تشخیصی مراکز قائم کرے، کینسر رجسٹری کو قانونی اور انتظامی تحفظ فراہم کرے اور تمباکو و گٹکا کلچر کے خلاف سخت اقدامات کرے جو کئے بھی جا رہے ہیں ان کو مزید تیز کیا جائے۔ سخت سزائیں دی جائیں۔ سرطان کے بڑھتے ہوئے رجحانات کو نہ روکا گیا تو آنے والے برسوں میں صحت کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ کینسر صرف جینیاتی مسئلہ نہیں بلکہ طرزِ زندگی، خوراک، ماحول اور سماجی رویّوں سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اس لیے حکومت، نجی شعبے، جامعات، محققین اور میڈیا کو مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ دوسرا اہم مسئلہ کینسر کی بر وقت تشخیص ہے ، کینسر کے مریض کو کئی ماہ تک پتہ ہی نہیں پڑتا کہ اسے بیماری کیا ہے، جب معلوم پڑتا ہے تو کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے، وفاق اور صوبائی حکومتوں کینسر کی تشخیص پر مزید کام کی ضرورت ہے۔ سندھ کے لیے خوش آئند بات یہ ہے کہ کراچی اور حیدرآباد کینسر رجسٹری جیسے منصوبے اب ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اداروں کی رپورٹس کو فائلوں تک محدود رکھنے کے بجائے پالیسی سازی کا حصہ بھی بنایا جائے۔ اس توجہ کے بعد پر امید ہیں کہ صرف اعداد و شمار نہیں رہیں گے بلکہ ہزاروں زندگیاں بچانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔




