Column

جنگلات: قومی معیشت کے خاموش محافظ

جنگلات: قومی معیشت کے خاموش محافظ
تحریر: رفیع صحرائی
قدرت نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، لیکن ان میں جنگلات ایک ایسی نعمت ہیں جو نہ صرف زمین کے حسن کو دوبالا کرتے ہیں بلکہ انسانی زندگی، معیشت اور ماحول کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہم نے برسوں تک جنگلات کو محض لکڑی اور ایندھن کا ذریعہ سمجھا، حالانکہ ان کی افادیت اس سے کہیں زیادہ وسیع اور گہری ہے۔ پاکستان اقتصادی جائزہ 2025۔26نے پہلی مرتبہ نہایت واضح انداز میں یہ حقیقت دنیا کے سامنے رکھی ہے کہ جنگلات سے حاصل ہونے والی ماحولیاتی خدمات کی مالیت ملک کی مجموعی قومی پیداوار ( جی ڈی پی) کے 11.48فیصد کے برابر ہے۔ یہ اعداد و شمار اس امر کا ثبوت ہیں کہ جنگلات محض درختوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک عظیم قومی سرمایہ ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جنگلات کا شعبہ براہ راست قومی پیداوار میں صرف 0.5فیصد حصہ ڈالتا ہے لیکن ان کی بالواسطہ معاشی خدمات کا حجم 11.48فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ گویا جنگلات خاموشی سے معیشت کے پہیے کو رواں رکھنے میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ آبی ذخائر کا تحفظ، زراعت کی بقا، پن بجلی کی پیداوار، مٹی کی زرخیزی، زیر زمین پانی کی بحالی، موسمی توازن، سیلاب سے بچائو اور فضائی آلودگی میں کمی، یہ سب وہ خدمات ہیں جو جنگلات بلا معاوضہ انجام دیتے ہیں۔
آج دنیا موسمیاتی تبدیلی کے سنگین خطرات سے دوچار ہے۔ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، غیر معمولی بارشیں اور تباہ کن سیلاب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں جنگلات ایک قدرتی ڈھال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے گرین ہاس گیسوں کے اثرات کو کم کرتے ہیں اور عالمی حدت میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں شجرکاری کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف سب سے موثر اور کم خرچ ہتھیار قرار دیا جا رہا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں جنگلات کا رقبہ انتہائی کم ہے۔ ملک کے کل رقبے کا صرف 4.7فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک میں ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے کم از کم 25فیصد رقبے پر جنگلات ہونا ضروری ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 11ہزار ہیکٹر جنگلات ختم ہو رہے ہیں۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والی نسلوں کو سرسبز و شاداب پاکستان نہیں بلکہ بنجر زمینیں اور آلودہ ماحول ورثے میں ملے گا۔
جنگلات صرف ماحول ہی نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔ دیہی علاقوں میں بے شمار خاندان ایندھن کی لکڑی، ادویاتی پودوں، شہد، چراگاہوں اور دیگر قدرتی وسائل کے لیے جنگلات پر انحصار کرتے ہیں۔ جنگلات جنگلی حیات کے مسکن ہیں اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر جنگلات ختم ہوں گے تو کئی نایاب پودے اور جانور بھی ہمیشہ کے لیے دنیا سے معدوم ہو جائیں گے۔
پاکستان کو حالیہ برسوں میں آنے والے تباہ کن سیلابوں نے یہ سبق بھی دیا ہے کہ جنگلات کی کمی قدرتی آفات کی شدت میں اضافہ کرتی ہے۔ صحت مند جنگلات بارش کے پانی کو جذب کرتے ہیں، مٹی کو مضبوط رکھتے ہیں اور سیلابی ریلوں کی شدت کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ خشک سالی اور پانی کی قلت جیسے مسائل سے نمٹنے میں بھی جنگلات کا کردار نہایت اہم ہے۔ گویا جنگلات قومی سلامتی اور آبی تحفظ کا بھی ایک اہم ستون ہیں۔
حکومت کی جانب سے گرین پاکستان پروگرام اور مختلف شجرکاری منصوبے خوش آئند ہیں مگر صرف سرکاری اقدامات کافی نہیں۔ درخت لگانا ایک دن کی تقریب نہیں بلکہ ایک مسلسل قومی تحریک ہونی چاہیے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں شجرکاری مہم اکثر تصویروں اور بیانات تک محدود رہ جاتی ہے۔ ہزاروں، لاکھوں پودے لگانے کا اعلان تو کر دیا جاتا ہے مگر چند ماہ بعد ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا۔ اصل کامیابی درخت لگانے میں نہیں بلکہ انہیں پروان چڑھانے میں ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟ سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ ہر شہری اپنی زندگی میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے اور ان کی حفاظت کا عہد کرے۔ والدین بچوں میں درختوں سے محبت پیدا کریں۔ تعلیمی اداروں میں شجرکاری کو نصابی اور عملی سرگرمی کا حصہ بنایا جائے۔ مساجد، مدارس، سرکاری دفاتر، فیکٹریاں اور ہائوسنگ سوسائٹیاں اپنے اپنے حصے کا سبز رقبہ بڑھانے کی پابند ہوں۔ غیر قانونی کٹائی کے خلاف سخت قانون سازی اور موثر عمل درآمد بھی ناگزیر ہے۔
میڈیا، سول سوسائٹی اور مذہبی و سماجی رہنماں کو بھی ماحولیات کے تحفظ کو قومی بیانیے کا حصہ بنانا ہوگا۔ درخت لگانا دراصل اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھنا ہے۔ یہ محض ایک پودا نہیں بلکہ سایہ، آکسیجن، پانی، خوشحالی اور زندگی کا تحفہ ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جنگلات کو محض زمین کا ایک حصہ نہ سمجھیں بلکہ انہیں ایک قیمتی قومی اثاثہ تصور کریں۔ اگر ہم نے جنگلات کے تحفظ اور توسیع کو قومی ترجیح بنا لیا تو نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کے خطرات میں کمی آئے گی بلکہ ہماری معیشت، زراعت، آبی وسائل اور عوامی صحت بھی مستحکم ہوگی۔ لیکن اگر ہم نے اس مسئلے کو نظر انداز کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
درختوں کی حفاظت دراصل زندگی کی حفاظت ہے۔ سر سبز پاکستان ہی محفوظ پاکستان کی ضمانت ہے۔

جواب دیں

Back to top button