ColumnQadir Khan

کوئی بھی معاہدہ مکمل نہیں

کوئی بھی معاہدہ مکمل نہیں
قادر خان یوسف زئی
لبنان میں ایک عورت اپنے بچے کو لے کر بھاگ رہی تھی۔ اس کے پاس وقت نہیں تھا کہ وہ یہ سوچے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کس مرحلے میں ہیں۔ اسے صرف یہ معلوم تھا کہ اس کا گھر جل رہا ہے اور اس کے قدموں تلے زمین کانپ رہی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سے اس پوری کہانی کو سمجھنا ضروری ہے۔ کیونکہ جب طاقتور ممالک جنگ کرتے ہیں اور پھر میز پر بیٹھ کر معاہدے کرتے ہیں، تو تاریخ میں صرف وہ معاہدے درج ہوتے ہیں، عورت کے جلتے گھر کا ذکر کہیں نہیں ہوتا۔
اس پوری بحران کا مرکزی سبق یہ ہے کہ جنگیں عموماً اس وقت نہیں رکتیں جب فریقین تھک جاتے ہیں، بلکہ اس وقت رکتی ہیں جب ایک قابل اعتماد تیسرا فریق میز پر آتا ہے۔ وہ تیسرا فریق پاکستان تھا، اور یہ کوئی اتفاق نہیں تھا۔ پاکستان کی اس بحران میں داخلہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔ اسلام آباد وہ واحد مسلم اکثریتی ایٹمی طاقت ہے جس کے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ کام کرنے والے تعلقات موجود ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی سطح پر اعلان کیا کہ پاکستان مذاکرات کی میزبانی کرنے کے لیے تیار اور مشرف بہ خدمت ہے۔ لیکن اصل کردار فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ادا کیا۔ وزیراعظم نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ آرمی چیف نے نہ صرف دونوں فریقوں کے درمیان فاصلہ کم کیا بلکہ ایران کے اندر موجود مختلف دھڑوں کو بھی سنبھالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکی اور ایرانی وفود نے باضابطہ مذاکرات سے پہلے شریف اور منیر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ یعنی پاکستان کی ثالثی میں سویلین اور فوجی دونوں ٹریک بیک وقت چل رہے تھے، اور یہی اس ثالثی کی قوت تھی۔
8 اپریل 2026ء کو پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کروائی۔ پھر12اور 13اپریل کو اسلام آباد میں وہ ملاقات ہوئی جو 1979ء کے بعد پہلی بار امریکا اور ایران کے اعلی سطحی نمائندوں کے درمیان براہ راست ہوئی۔ نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اور ایرانی مذاکراتی ٹیم ایک ہی میز پر بیٹھے۔ 18جون 2026ء کو صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ شہباز شریف نے بطور ثالث دستخط کیے، اور قطر کے ساتھ مل کر پاکستان کو سوئٹزرلینڈ کے بیورگن اسٹاک میں تکنیکی مذاکرات میں شریک ثالث کا درجہ دیا گیا۔ یہ پاکستان کی دہائیوں میں سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہے اور وہ عالمی سطح پر امن کا پیامبر بن کر سامنے آیا۔
معاہدے پر دستخط ہونے کے صرف دو دن بعد، 20جون کو، ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی۔ وجہ اسرائیل کے لبنان میں تازہ فضائی حملے تھے جن میں کم از کم 83افراد ہلاک ہوئے۔ ایران نے کہا کہ ان حملوں نے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کی۔ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر 60دنوں میں حتمی معاہدہ نہ ہوا تو امریکا خود آبنائے ہرمز پر ٹول نافذ کرے گا۔ پھر 21اور 22جون کی درمیانی رات کو بیورگن اسٹاک میں ایسا ڈرامہ ہوا جسے ‘‘ انتہائی کشیدگی‘‘ قرار دیا۔ امریکی اور ایرانی مذاکراتی ٹیمیں آدھی رات تک بات کرتی رہیں۔ اطلاعات تھیں کہ مذاکرات ٹوٹنے کے قریب ہیں۔ ایران لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں بند کروانا چاہتا تھا جبکہ امریکا، ایران کے جوہری افزودگی کے مکمل خاتمے پر اصرار کر رہا تھا۔ لیکن 22جون کی صبح پاکستان اور قطر نے مشترکہ بیان جاری کیا جس میں اعلان کیا گیا کہ پہلے دور کی مذاکرات کامیابی سے مکمل ہوئے، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان ایک باضابطہ رابطہ لائن قائم کر دی گئی ہے، اور 60دن کے اندر حتمی معاہدے کے لیے ایک روڈ میپ طے کر لیا گیا ہے۔ اسی ہفتے مزید تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے۔
یہاں ایک اہم بات یاد رہے۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان 3جون کو واشنگٹن میں ایک علیحدہ جنگ بندی فریم ورک بھی طے ہوا تھا جس کے مطابق حزب اللہ جنوبی لبنان سے پیچھے ہٹے گی اور لبنانی فوج سرحدی علاقوں کا کنٹرول سنبھالے گی۔ تاہم حزب اللہ نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا کیونکہ اس میں اسرائیل کو بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی اور سیکیورٹی مذاکرات کا ایک نیا دور طے ہے۔ یعنی لبنان کا محاذ بھی ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ اب ذرا ان فلسطینیوں کی بات کریں جو اس سارے منظرنامے میں سب سے زیادہ نظرانداز ہوئے۔
صدر ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کروائی تھی۔ ابتدائی علامات مثبت تھیں۔ تھوڑی بہت امداد پہنچ رہی تھی، خلیجی ممالک نے تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر کے وعدے کیے تھے۔ پھر 28فروری 2026ء آیا اور ایک ہی جھٹکے میں سب کچھ رک گیا۔ اسرائیل نے غزہ کی تمام کراسنگ بند کر دیں، ایندھن ختم ہونے لگا، اور ہسپتالوں پر خطرہ منڈلانے لگا۔ یونیسف نے 13جون 2026ء کو کہا کہ غزہ کی صورتحال ’’ انتہائی سنگین‘‘ ہے اور لوگ روزمرہ کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں اور یہ سب جنگ بندی کے مہینوں بعد کی بات ہے۔ فلسطین کے وزیر خارجہ نے صاف الفاظ میں بتایا کہ ایران کی جنگ نے امریکا کی توجہ غزہ سے ہٹا دی ہے اور اس کا نتیجہ ’’ مزید تکلیف‘‘ کی صورت میں نکل رہا ہے۔ ایک ایسی میٹنگ جو مصر، قطر اور ترکی کی ثالثی میں حماس کے ساتھ ہونی تھی، جنگ شروع ہونے کے دن منسوخ ہوئی اور دوبارہ کبھی نہیں ہوئی۔
یہاں ایک بات ضرور کہی جانی چاہیے جو تکلیف دہ ہے۔ ایران، حزب اللہ، اور ’’ مزاحمت کا محور‘‘ دہائیوں سے فلسطین کا نام لیتے رہے۔ انہوں نے فلسطین کو اپنی علاقائی موجودگی، اپنے ہتھیاروں اور اپنی سیاسی بقا کا جواز بنایا۔ لیکن جب ایران کو براہ راست خطرہ ہوا تو اس نے آبنائے ہرمز کو بند کیا، لبنان کو میدان جنگ بنایا مگر غزہ کے لیے کچھ نہیں بدلا۔ بلکہ اسرائیل کو بین الاقوامی توجہ کے بغیر غزہ میں کارروائیاں تیز کرنے کا موقع مل گیا۔ فلسطین کا مسئلہ کبھی حل نہیں ہوا، اس لیے نہیں کہ دنیا کو پتہ نہیں تھا کہ کیا کرنا ہے، بلکہ اس لیے کہ جب بھی کوئی بڑا بحران آیا، فلسطین کو فہرست میں پیچھے دھکیل دیا گیا۔ یہ سلسلہ 2006ء میں بھی تھا، 2014ء میں بھی، 2023ء میں بھی، اور اب 2026ء میں بھی۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایک فریم ورک ہے، حتمی معاہدہ نہیں۔ بیورگن اسٹاک کی درمیانی رات نے یہ ثابت کر دیا کہ دو بنیادی رکاوٹیں، ایران کا جوہری افزودگی کا مسئلہ اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں، ابھی تک حل نہیں ہوئیں۔ پاکستان اور قطر نے ہرمز میں رابطہ لائن اور 60روزہ روڈ میپ بنا کر ایک عارضی پل تو تعمیر کر دیا ہے، مگر اس پل کے نیچے سے پانی تیزی سے بہہ رہا ہے۔ جب تک ان سوالوں کا جواب ’’ ہاں‘‘ نہ ہو، کوئی بھی معاہدہ مکمل نہیں ہے۔

جواب دیں

Back to top button