امریکہ، ایران مذاکرات

امریکہ، ایران مذاکرات
مکمل، اہم پیش رفت
بین الاقوامی سیاست میں تنازعات کا حل ہمیشہ جنگی محاذوں پر نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر تلاش کیا جاتا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ طویل ترین اور پیچیدہ ترین تنازعات بھی بالآخر سفارت کاری، مکالمے اور باہمی مفاہمت کے ذریعے ہی حل کی جانب بڑھتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ روز کی مذاکراتی پیش رفت اسی حقیقت کی ایک اہم مثال ہے، جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں امن کی امید کو تقویت دی ہے۔ قطر اور پاکستان کی مشترکہ ثالثی میں منعقد ہونے والے لوسرن سربراہی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں فریقین کی جانب سے آئندہ ساٹھ روز کے اندر ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے باقاعدہ روڈمیپ پر اتفاق عالمی سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ کئی برسوں سے مختلف نوعیت کے اختلافات، پابندیوں اور علاقائی کشیدگی کے باعث ایران اور امریکا کے تعلقات تنا کا شکار رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں مذاکرات کا تسلسل برقرار رہنا اور عملی اقدامات پر اتفاق ہونا یقیناً ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ اعلامیے کے مطابق اعلیٰ سطح کی کمیٹی، خصوصی ورکنگ گروپس اور براہ راست رابطے کے نظام کا قیام اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ دونوں فریق صرف بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہتے، بلکہ عملی اور ادارہ جاتی سطح پر اعتماد سازی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے براہ راست رابطہ نظام کا قیام عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے بھی مثبت اشارہ ہے۔ دنیا کا بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان اسی اہم بحری گزرگاہ سے گزرتا ہے، لہٰذا وہاں استحکام پوری عالمی معیشت کے مفاد میں ہے۔ ان مذاکرات کا ایک اور اہم پہلو لبنان سے متعلق معاملات میں سامنے آنے والی پیش رفت ہے۔ اگر فریقین واقعی کشیدگی کے خاتمے اور سیاسی حل کی جانب بڑھتے ہیں تو یہ پورے خطے میں امن کے امکانات کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگوں، تنازعات اور عدم استحکام کا شکار رہا ہے، جس کے اثرات صرف علاقائی ممالک تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے گئے ہیں۔ اس لیے ہر وہ کوشش جو مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے مسائل کے حل کی طرف لے جائے، قابلِ ستائش ہے۔ اس تمام عمل میں پاکستان کا کردار خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ امن، مکالمے اور تنازعات کے پُرامن حل کی حمایت کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا مختلف جغرافیائی اور سیاسی تقسیموں کا شکار نظر آتی ہے، پاکستان کی جانب سے ثالثی اور اعتماد سازی کے عمل میں شمولیت اس کے مثبت اور ذمے دار سفارتی کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جارہا ہے جو مختلف فریقین کے درمیان رابطے اور مفاہمت کا پل بن سکتا ہے۔ اگرچہ پاکستان ماضی میں بھی متعدد بین الاقوامی امور میں تعمیری کردار ادا کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ سفارتی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک عالمی سطح پر اپنی مثبت شناخت کو مزید مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ قطر کے ساتھ مل کر اس مذاکراتی عمل میں سہولت کاری نہ صرف پاکستان کی سفارتی ساکھ کے لیے اہم ہے بلکہ یہ اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی برادری پاکستان کے کردار اور صلاحیتوں کو تسلیم کررہی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی مذاکراتی عمل کی کامیابی صرف ابتدائی اعلانات سے یقینی نہیں بنتی۔ اصل امتحان ان معاہدوں اور روڈمیپس پر عمل درآمد کا ہوتا ہے جو مذاکرات کے دوران طے پاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کا فقدان ایک طویل عرصے سے موجود رہا ہے، اس لیے آئندہ ساٹھ روز دونوں فریقوں کے لیے نہایت اہم ہوں گے۔ اگر فریقین سنجیدگی اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو نہ صرف دوطرفہ تعلقات میں بہتری آسکتی ہے بلکہ پورے خطے میں استحکام کے امکانات بھی روشن ہو سکتے ہیں۔عالمی برادری کو بھی اس عمل کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پابندیاں، محاذ آرائی اور طاقت کا استعمال مسائل کو مزید پیچیدہ بنادیتے ہیں جب کہ مکالمہ اور سفارت کاری دیرپا حل کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ مذاکراتی عمل کو ایک اہم موقع کے طور پر دیکھا جارہا ہے، جس سے خطے میں امن اور ترقی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ لمحہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ وہ اپنی سفارتی کامیابیوں کو مزید مثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرے۔ عالمی امن کے لیے کی جانے والی ایسی مثبت کوششیں نہ صرف ملک کے وقار میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون اور بین الاقوامی اعتماد کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ بلاشبہ لوسرن اجلاس میں ہونے والی پیش رفت ابھی ایک ابتدائی مرحلہ ہے، لیکن یہ ایک امید افزا آغاز ضرور ہے۔ اگر مذاکرات کا یہ سلسلہ کامیابی سے آگے بڑھتا ہے تو اسے نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں بہتری کی جانب ایک سنگ میل سمجھا جائے گا بلکہ پاکستان اور قطر کی مشترکہ سفارتی کاوشوں کو بھی عالمی سطح پر ایک کامیاب مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ دنیا کو آج جنگوں سے زیادہ مکالمے کی ضرورت ہے اور یہی پیغام اس پیش رفت کا سب سے اہم پہلو ہے۔
سرمائے کے اخراج کا چیلنج
پاکستانی معیشت کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری ہمیشہ اہم رہی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف مالیاتی منڈیوں میں اعتماد کا اظہار ہوتی ہے بلکہ معاشی استحکام، روزگار کے مواقع اور ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔ اس پس منظر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار تشویش کا باعث ہیں، جن کے مطابق رواں مالی سال کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستانی حصص سے 73کروڑ 60لاکھ ڈالر نکال لیے۔ یہ صورت حال اس امر کی نشان دہی کرتی ہے کہ عالمی سرمایہ کار اب بھی پاکستان کی سرمایہ منڈی کو مطلوبہ حد تک محفوظ اور پُرکشش نہیں سمجھ رہے۔ اعداد و شمار کے مطابق حصص میں مجموعی سرمایہ کاری 298.3ملین ڈالر رہی جب کہ سرمایہ کے اخراج کا حجم 1.03ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس فرق سے واضح ہوتا ہے کہ نئے سرمایہ کی آمد کے مقابلے میں سرمایہ کا انخلا کہیں زیادہ رہا۔ امریکا، برطانیہ اور سویڈن سے وابستہ سرمایہ کاروں کا بڑا حصہ نکل جانا اس رجحان کی سنگینی کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورت حال کی کئی وجوہ ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی کیفیت اور امریکا و یورپ میں بلند شرح سود نے سرمایہ کاروں کو نسبتاً محفوظ اور زیادہ منافع بخش منڈیوں کی طرف راغب کیا ہے۔ پاکستان کو داخلی سطح پر بھی معاشی چیلنجز، پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان اور سرمایہ کاروں کے اعتماد سے متعلق مسائل کا سامنا رہا ہے۔ یہی عوامل پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی کشش کو متاثر کرتے ہیں۔ تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جے ایس گلوبل کیپیٹل کے ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کے آثار موجود ہیں اور آئندہ مالی سال میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھنے کی توقع ہے۔ اگر حکومت معاشی اصلاحات کے عمل کو تیز کرے، کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنائے، پالیسیوں میں تسلسل یقینی بنائے اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے مثر اقدامات کرے تو بیرونی سرمایہ دوبارہ متوجہ کیا جاسکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان قلیل مدتی ردعمل کے بجائے طویل مدتی معاشی حکمت عملی اپنائے۔ مضبوط مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت، سیاسی استحکام اور سرمایہ کار دوست پالیسیاں ہی وہ عوامل ہیں جو نہ صرف سرمایہ کے اخراج کو روک سکتے ہیں بلکہ پاکستان کو عالمی سرمایہ کاری کے نقشے پر ایک قابل اعتماد منزل بھی بنا سکتے ہیں۔




