Column

مئی کیس میں سزائوں کے بعد پاکستان کہاں کھڑا ہے۔۔۔

9مئی کیس میں سزائوں کے بعد پاکستان کہاں کھڑا ہے۔۔۔؟
تحریر : غلام مصطفیٰ جمالی
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک دن تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات برسوں تک قومی سیاست، ریاستی اداروں، عدالتی نظام اور عوامی سوچ پر مرتب ہوتے رہتے ہیں۔ 9مئی 2023ء کے واقعات بھی انہی اہم واقعات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے پاکستان کے سیاسی منظرنامے کو ایک نئے رخ پر لا کھڑا کیا۔ ان واقعات کے بعد ملک بھر میں درجنوں مقدمات قائم ہوئے، سیاسی سرگرمیوں میں غیر معمولی تبدیلیاں آئیں، عدالتی کارروائیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا اور ملک کے سیاسی ماحول میں ایک نئی بحث نے جنم لیا۔ اب جب مختلف مقدمات کے فیصلے سامنے آ رہے ہیں اور بعض رہنماں کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں تو ایک اہم سوال پورے ملک میں زیر بحث ہے کہ 9مئی کیس میں سزاں کے بعد پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
9 مئی2023ی کے واقعات کو سمجھے بغیر موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا ممکن نہیں۔ اس روز سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے۔ ابتدا میں یہ احتجاج سیاسی ردعمل کے طور پر سامنے آئے لیکن بعض مقامات پر صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ مختلف شہروں میں ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ پولیس کی گاڑیوں کو نذر آتش کیے جانے اور مختلف سرکاری تنصیبات پر حملوں کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ ان واقعات کے بعد ریاستی اداروں نے سخت کارروائیاں شروع کیں اور ملک بھر میں متعدد مقدمات درج کیے گئے۔
بعد ازاں یہ مقدمات پاکستان کی سیاست کا اہم ترین موضوع بن گئے۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے ان واقعات کی مختلف انداز میں تشریح کی۔ ایک موقف یہ تھا کہ ریاستی اداروں اور قومی املاک کو نقصان پہنچانا ناقابل قبول عمل ہے اور اس میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق جواب دہ ہونا چاہیے۔ دوسری جانب بعض حلقوں نے مقدمات کے مختلف پہلوئوں پر سوالات بھی اٹھائے۔ تاہم تمام معاملات بالآخر عدالتوں تک پہنچے جہاں قانونی کارروائی کے بعد فیصلے سامنے آنے لگے۔
حالیہ دنوں میں لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے 9مئی کے ایک مقدمے میں بعض سیاسی رہنمائوں کو سزائیں سنائی گئیں جبکہ شاہ محمود قریشی کو بری کر دیا گیا۔ اس فیصلے نے سیاسی ماحول میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سیاسی مبصرین، قانونی ماہرین اور عام شہری سب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ان فیصلوں کے ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اور آنے والے دنوں میں سیاسی منظرنامہ کس سمت جائے گا۔
پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہمیشہ سے ایک اہم قومی ضرورت رہی ہے۔ عوام کی خواہش ہوتی ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو اور انصاف کی فراہمی میں کسی قسم کا امتیاز نہ برتا جائے۔ کسی بھی ریاست کی مضبوطی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کے ادارے آئین اور قانون کے مطابق کام کریں۔ جب عدالتیں مقدمات کا فیصلہ کرتی ہیں تو وہ اپنے سامنے موجود شواہد، گواہوں کے بیانات اور قانونی نکات کی بنیاد پر فیصلہ سناتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی عدالتی فیصلے کو ایک قانونی عمل کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
9 مئی کے مقدمات کے فیصلوں نے پاکستان میں سیاسی برداشت کے موضوع کو بھی نمایاں کیا ہے۔ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ اختلاف رائے کو برداشت کرنے اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کا نام بھی ہے۔ جب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتی ہیں اور قومی مفاد کو مقدم رکھتی ہیں تو جمہوری نظام مضبوط ہوتا ہے۔ لیکن جب سیاسی اختلافات شدید محاذ آرائی کی شکل اختیار کر لیں تو اس کے اثرات پورے نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔
پاکستان اس وقت کئی اہم چیلنجز سے دوچار ہے۔ معیشت کو استحکام کی ضرورت ہے، مہنگائی عوام کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے، بے روزگاری نوجوانوں کے لیے تشویش کا باعث ہے اور توانائی سمیت کئی شعبے اصلاحات کے منتظر ہیں۔ ایسے حالات میں سیاسی استحکام کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر سیاسی ماحول مسلسل کشیدہ رہے تو حکومتوں کی توجہ قومی مسائل کے حل کے بجائے سیاسی بحرانوں کے انتظام پر مرکوز ہو جاتی ہے۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کا گہرا تعلق سیاسی استحکام سے ہوتا ہے۔ عالمی سرمایہ کار ہمیشہ ایسے ممالک میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں جہاں سیاسی ماحول نسبتاً مستحکم ہو اور پالیسیوں میں تسلسل موجود ہو۔ پاکستان کو اس وقت اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ یہی سرمایہ کاری روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہے اور معاشی ترقی کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔
9 مئی کے مقدمات نے نوجوان نسل کو بھی گہرے انداز میں متاثر کیا ہے۔ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ نوجوان سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ملکی معاملات پر اپنی رائے بھی رکھتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ انہیں مثبت سیاسی شعور، جمہوری اقدار اور آئینی حدود سے آگاہ کیا جائے۔ سیاسی تربیت کا مقصد صرف کارکن تیار کرنا نہیں بلکہ ذمہ دار شہری پیدا کرنا بھی ہوتا ہے۔
میڈیا نے بھی 9مئی کے واقعات اور اس کے بعد کے عدالتی عمل کو عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ روایتی میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا بھی اس معاملے میں موثر رہا۔ تاہم جدید دور میں معلومات کے ساتھ غلط معلومات کا مسئلہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام تصدیق شدہ معلومات پر انحصار کریں اور افواہوں سے گریز کریں۔
سوشل میڈیا نے سیاست کے انداز کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج چند لمحوں میں کوئی بھی خبر لاکھوں افراد تک پہنچ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں، میڈیا اداروں اور عوام پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معلومات کے تبادلے میں احتیاط کا مظاہرہ کریں۔ غلط معلومات نہ صرف سیاسی کشیدگی میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ قومی یکجہتی کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
9 مئی کے واقعات اور ان کے بعد کے فیصلے اس بات کی یاد دہانی بھی کراتے ہیں کہ آئین اور قانون ہی کسی بھی تنازع کے حل کا بنیادی راستہ ہیں۔ اگر کسی فریق کو عدالتی فیصلے پر اعتراض ہو تو اپیل کا حق موجود ہوتا ہے۔ یہی قانونی طریقہ کار جمہوری معاشروں کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اختلاف رائے کا حق ہر شہری کو حاصل ہے لیکن اس کا اظہار آئینی اور قانونی حدود کے اندر ہونا چاہیے۔
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیاسی قوتوں نے مکالمے اور مفاہمت کا راستہ اختیار کیا، ملک میں استحکام پیدا ہوا۔ اس کے برعکس جب محاذ آرائی میں اضافہ ہوا تو قومی ترقی کی رفتار متاثر ہوئی۔ آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں قومی مفاد کو ترجیح دیں اور ایسے ماحول کے قیام میں کردار ادا کریں جہاں اختلاف کے باوجود مکالمے کے دروازے کھلے رہیں۔
9 مئی کیس میں سزاں کے بعد پاکستان ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ مرحلہ صرف عدالتی فیصلوں کا نہیں بلکہ سیاسی رویوں، جمہوری اقدار اور قومی ترجیحات کے تعین کا بھی ہے۔ آنے والے دنوں میں مختلف مقدمات کے مزید فیصلے سامنے آئیں گے، اپیلوں کا عمل جاری رہے گا اور سیاسی مباحث بھی جاری رہیں گے۔ تاہم اس پورے عمل کے دوران یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان کی اصل ضرورت سیاسی استحکام، معاشی ترقی، قومی یکجہتی اور قانون کی حکمرانی ہے۔
عوام کی خواہش ہے کہ ملک میں امن ہو، ترقی ہو، روزگار کے مواقع بڑھیں اور سیاسی جماعتیں عوامی مسائل کے حل پر توجہ دیں۔ اگر سیاسی قوتیں اس حقیقت کو سمجھ لیں اور قومی مفاد کو مقدم رکھیں تو پاکستان موجودہ مشکلات سے نکل کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط، مستحکم اور جمہوری پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔
9 مئی کیس میں سزائوں کے بعد پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ اس سوال کا جواب شاید یہی ہے کہ ملک ایک ایسے دوراہے پر موجود ہے جہاں ایک راستہ سیاسی محاذ آرائی، تقسیم اور عدم استحکام کی طرف جاتا ہے جبکہ دوسرا راستہ آئین، قانون، مکالمے، جمہوری استحکام اور قومی یکجہتی کی طرف لے جاتا ہے۔ پاکستان کے بہتر مستقبل کا انحصار اسی انتخاب پر ہے کہ ہم بحیثیت قوم کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button