Column

تدبر سے ریلیف تک کا سفر

تدبر سے ریلیف تک کا سفر
وفاقی حکومت کی جانب سے فیول کنزرویشن اور کفایت شعاری کے تحت نافذ کیے گئے بعض عارضی اقدامات کے خاتمے کا اعلان اس بات کا مظہر ہے کہ ملک کے معاشی اور توانائی کے شعبے میں حالات بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن نہ صرف حکومتی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس امر کی بھی نشان دہی کرتا ہے کہ جن حالات کے باعث یہ پابندیاں عائد کی گئی تھیں، ان میں خاطر خواہ بہتری آچکی ہے۔ پاکستان گزشتہ چند برسوں کے دوران عالمی معاشی دبا، توانائی کے بحران، مہنگے ایندھن اور بے یقینی بین الاقوامی صورت حال جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کرتا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ جنگ کے تناظر میں وفاقی حکومت نے قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے متعدد کفایت شعاری اقدامات متعارف کرائے تھے جن کا مقصد ایندھن کی بچت، حکومتی اخراجات میں کمی اور توانائی کے وسائل کا موثر استعمال یقینی بنانا تھا۔ اگرچہ ان اقدامات سے بعض حلقوں کو وقتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم قومی معیشت کو سہارا دینے میں ان کا کردار قابل ذکر رہا۔ حال ہی میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور امن و استحکام کی جانب پیش رفت نے عالمی منڈیوں پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں استحکام اور توانائی کے شعبے میں پیدا ہونے والی نسبتاً بہتر صورت حال سے پاکستان بھی مستفید ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے نہ صرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی کمی کرکے عوام کو بڑا ریلیف فراہم کیا بلکہ اب حالات معمول پر آنے کے بعد بعض پابندیوں کو ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ کسی بھی حکومت کی کامیابی کا انحصار اس کی بروقت اور متوازن پالیسیوں پر ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت نے مشکل حالات میں کفایت شعاری کو ترجیح دی اور جب حالات میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے تو عوام اور سرکاری اداروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ان پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ کیا۔ یہ
طرزِ حکمرانی تدبر، دوراندیشی اور زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرنی کی صلاحیت کا عکاس ہے۔ سرکاری ملازمین کے لیے جمعہ کی اضافی تعطیل کا خاتمہ، سرکاری گاڑیوں کے استعمال کی جزوی بحالی اور پٹرول کی سہولتوں کی واپسی ایسے اقدامات ہیں جو انتظامی امور کو مزید موثر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب حکومت نے یہ بھی یقینی بنایا ہے کہ توانائی کے غیر ضروری ضیاع کو روکنے کے لیے بازاروں، شاپنگ مالز، شادی ہالز اور دیگر تجارتی مراکز کے اوقات کار سے متعلق ضوابط برقرار رہیں۔ یہ ایک متوازن حکمت عملی ہے جس میں عوامی سہولت اور توانائی کے ذمے دارانہ استعمال دونوں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ حکومت کی یہ پالیسی اس سوچ کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ کفایت شعاری کا مقصد عوام یا اداروں پر غیر ضروری بوجھ ڈالنا نہیں بلکہ قومی وسائل کا دانش مندانہ استعمال یقینی بنانا ہے۔ جب حالات تقاضا کریں تو سخت فیصلے کیے جائیں اور جب بہتری آئے تو عوام اور اداروں کو اس کی ثمرات منتقل کیے جائیں۔ یہی طرز عمل ایک ذمے دار اور عوام دوست حکومت کی پہچان ہوتا ہے۔ پاکستان کی معیشت حالیہ مہینوں میں متعدد مثبت اشاریوں کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، کرنٹ اکائونٹ کی صورت حال میں استحکام، مہنگائی کی شرح میں نسبتاً کمی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ایسے عوامل ہیں جو مستقبل کے لیے حوصلہ افزا ہیں۔ ان حالات میں حکومت کے حالیہ فیصلے کو معاشی بحالی کے سفر میں ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے۔ بلاشبہ ابھی بھی بہت سے چیلنجز موجود ہیں اور ملک کو مکمل معاشی استحکام کے لیے مسلسل محنت، دانش مندانہ پالیسیوں اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے، تاہم یہ امر خوش آئند ہے کہ حکومت نے مشکل حالات میں ذمے داری کا مظاہرہ کیا اور اب بہتر حالات میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ آنے والے دنوں میں علاقائی اور عالمی سطح پر امن و استحکام مزید مضبوط ہوگا، توانائی کی منڈیاں مزید متوازن ہوں گی اور پاکستان کی معیشت ترقی کی نئی منازل طے کرے گی۔ اسی طرح وفاقی حکومت بھی عوامی فلاح و بہبود، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور معاشی خوش حالی کے لیے مزید موثر اقدامات کرے گی، تاکہ ترقی اور استحکام کے ثمرات ملک کے ہر شہری تک پہنچ سکیں۔
ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونرز فیڈریشن کی جانب سے کرایوں میں 15فیصد کمی کا اعلان ایک خوش آئند اور بروقت اقدام ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات فوری طور پر عوام تک منتقل کر دئیے جاتے ہیں، لیکن قیمتوں میں کمی کے ثمرات اکثر تاخیر سے پہنچتے ہیں۔ ایسے میں ٹرانسپورٹ شعبے کی جانب سے فوری ردعمل قابل تحسین ہے۔ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کا اعلان کیا۔ پٹرول کی قیمت میں 74روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 67روپے فی لٹر کمی سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوئے ہیں بلکہ مجموعی معاشی سرگرمیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ اسی تناظر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 15فیصد کمی عوامی مفاد کے عین مطابق فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں افراد روزانہ سفر کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتے ہیں۔ مزدور، طلبہ، ملازمین اور کم آمدن والے طبقات کے لیے کرایوں میں کمی براہ راست ریلیف کا باعث بنے گی۔ اس فیصلے سے نہ صرف سفری اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ عوام کی قوت خرید پر پڑنے والے دبا میں بھی کسی حد تک کمی ہوگی۔ یہ اقدام دیگر شعبوں کے لیے بھی ایک مثبت مثال ہے۔ جب ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی بنیاد پر مختلف اشیا اور خدمات کے نرخ بڑھائے جاتے ہیں تو قیمتوں میں کمی کی صورت میں بھی عوام کو اس کا فائدہ منتقل ہونا چاہیے۔ ٹرانسپورٹ شعبے نے اس حوالے سے مثبت روایت قائم کی ہے جس کی پیروی دوسرے شعبوں کو بھی کرنی چاہیے۔ حکومت کے لیے بھی یہ موقع ہے کہ وہ مارکیٹ میں قیمتوں کے رجحانات پر موثر نظر رکھے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے فوائد عام شہری تک پہنچیں۔ اگر اشیائے ضروریہ، مال برداری اور دیگر خدمات کے نرخوں میں بھی مناسب کمی آتی ہے تو مہنگائی کے بوجھ میں مزید کمی ممکن ہوسکے گی۔ بلاشبہ کرایوں میں کمی کا حالیہ اعلان عوام کے لیے ایک مثبت خبر ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس کے اثرات معیشت کے دیگر شعبوں تک بھی پہنچیں گے اور عوام کو مزید ریلیف ملے گا، جس سے معاشی سرگرمیوں میں بہتری اور عوامی اطمینان میں اضافہ ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button