Column

ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل: خدشات اور افواہیں

ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل: خدشات اور افواہیں
تحریر : رفیع صحرائی
پاکستان میں جب بھی کوئی نیا قانون سامنے آتا ہے تو اس کے حق اور مخالفت میں آراء کا ایک طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہی صورتحال اس وقت ’’ ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل‘‘ کے حوالے سے بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض حلقے اسے شہریوں کی جائیدادوں پر قبضے کی سازش قرار دے رہے ہیں، جبکہ حکومت اور متعلقہ ادارے اسے ملک کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔ حقیقت ان دونوں انتہائوں کے درمیان کہیں موجود ہے، جسے سمجھنے کے لیے جذبات کے بجائے حقائق کی روشنی میں گفتگو ضروری ہے۔
سب سے پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ ’’ رائٹ آف وے‘‘ یا حقِ گزر کا تصور کوئی نئی ایجاد نہیں۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں عوامی فلاح کے منصوبوں، شاہراہوں، گیس پائپ لائنوں، بجلی کی ترسیل اور مواصلاتی نظام کی توسیع کے لیے حکومتوں کو مخصوص قانونی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ قانون پہلے سے موجود ہے۔ موٹرویز، رنگ روڈز، نہریں اور دیگر بڑے ترقیاتی منصوبے اسی اصول کے تحت مکمل کیے گئے۔ ایسے مواقع پر متاثرہ افراد کو قانونی طریقہ کار کے تحت معاوضہ دیا جاتا ہے اور اکثر مارکیٹ قیمت سے زیادہ ادائیگی کی مثالیں بھی موجود ہیں۔
ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل کا بنیادی مقصد ملک میں فائبر آپٹک نیٹ ورک، موبائل انفراسٹرکچر اور انٹرنیٹ کی رسائی کو بہتر بنانا بتایا جا رہا ہے۔ یہ کوئی راز نہیں کہ پاکستان میں لاکھوں نوجوان، فری لانسرز، طلبہ اور کاروباری افراد انٹرنیٹ پر انحصار کرتے ہیں۔ ایک سست رفتار اور غیر مستحکم انٹرنیٹ نہ صرف معیشت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ تعلیم، روزگار اور عالمی مسابقت میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔
دوسری جانب عوام کے خدشات کو بھی یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی شہری کی مرضی کے بغیر اس کی زمین یا گھر میں ٹیلی کام ٹاور لگایا جا سکے گا؟ اگر بل کی موجودہ تشریحات اور حکومتی وضاحتوں کو دیکھا جائے تو ایسا نہیں ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کسی نجی جائیداد پر زبردستی قبضے یا ٹاور کی تنصیب کی اجازت نہیں دی جا رہی، بلکہ باہمی رضامندی، قانونی معاہدے اور تنازعات کے حل کے لیے ایک واضح طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے۔
پانچ کروڑ روپے جرمانے کی شق بھی تنازع کا سبب بنی۔ سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا گیا کہ اگر کوئی شہری اپنی زمین دینے سے انکار کرے گا تو اسے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا، جبکہ حکومتی موقف یہ ہے کہ یہ جرمانہ صرف ان معاملات میں لاگو ہو سکتا ہے جہاں قانونی معاہدہ پہلے ہی ہو چکا ہو اور بعد میں کوئی فریق بلاجواز رکاوٹ پیدا کرے۔
اصل مسئلہ قانون سے زیادہ اعتماد کا بحران ہے۔ ماضی میں مختلف اداروں کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال، زمینوں کے تنازعات اور عوامی شکایات نے شہریوں میں بے اعتمادی پیدا کی ہے۔ اسی لیے لوگ ہر نئے قانون کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی زبان کو اتنا واضح بنائے کہ کسی قسم کے ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔
ایک اور اہم بحث موبائل ٹاورز کی صحت پر ممکنہ اثرات سے متعلق ہے۔ دنیا بھر میں اس موضوع پر تحقیق جاری ہے۔ اب تک عالمی ادارہ صحت اور متعدد سائنسی اداروں کی رپورٹس کے مطابق مقررہ بین الاقوامی حدود کے اندر کام کرنے والے موبائل ٹاورز سے صحت کو شدید نقصان پہنچنے کے حتمی شواہد موجود نہیں۔ تاہم احتیاطی تدابیر اختیار کرنا، ماحولیاتی جائزے کرنا اور رہائشی علاقوں میں سائنسی معیارات کی پابندی یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عوامی خدشات کو ’’ سازشی نظریات‘‘ کہہ کر رد کرنا بھی مناسب نہیں اور ہر نئی ٹیکنالوجی کو قیامت قرار دینا بھی دانشمندی نہیں۔
اسی طرح بعض حلقے اس قانون کو ایلون مسک کی ٹیکنالوجیز، اسٹارلنک یا انسانی پرائیویسی کے خاتمے سے جوڑ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسٹارلنک، ڈائریکٹ ٹو سیل سروس، نیورالنک اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز اپنی جگہ ایک الگ بحث ہیں اور ان کا براہِ راست تعلق پاکستان کے اس مجوزہ ٹیلی کمیونیکیشن بل سے ثابت نہیں کیا جا سکا۔ البتہ ڈیجیٹل دور میں پرائیویسی، ڈیٹا سکیورٹی اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے مضبوط قوانین کی ضرورت سے انکار بھی ممکن نہیں۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ بل ابھی حتمی قانون نہیں بنا۔ یہ پارلیمانی جائزے کے مراحل سے گزر رہا ہے اور سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی میں اس پر مزید غور کیا جا رہا ہے۔ جمہوری نظام کا حسن یہی ہے کہ اعتراضات سنے جائیں، خامیوں کو دور کیا جائے اور ایسی قانون سازی کی جائے جس سے نہ شہری حقوق متاثر ہوں اور نہ ہی ملک کی ترقی کا سفر رکے۔آج دنیا ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، آن لائن تعلیم، ٹیلی میڈیسن، ای کامرس اور فری لانسنگ کے دور میں پاکستان بہتر انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کا متحمل نہیں بلکہ اس کا محتاج ہے۔ لیکن ترقی کا راستہ عوامی اعتماد سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر کسی قانون سے لوگوں میں خوف اور خدشات پیدا ہو رہے ہیں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ وضاحت کرے، زبان میں موجود ابہام ختم کرے اور شہریوں کو مکمل آئینی تحفظ فراہم کرے۔
ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل نہ تو ملک پر کوئی ’’ ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ مسلط کر رہا ہے اور نہ ہی اسے بغیر تنقید کے قبول کر لینا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہی کہ جذبات، افواہوں اور سازشی نظریات سے ہٹ کر اس بل کو قانونی، آئینی اور سائنسی بنیادوں پر پرکھا جائے۔ ایک متوازن قانون ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ڈیجیٹل ترقی بھی دے سکتا ہے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت بھی کر سکتا ہے۔
کیونکہ قومیں خوف سے نہیں، شعور سے ترقی کرتی ہیں؛ اور قانون سازی کا اصل مقصد بھی یہی ہونا چاہیے کہ ریاست کی ضرورت اور شہری کے حق کے درمیان ایک منصفانہ توازن قائم رہے۔

جواب دیں

Back to top button