مفاہمتی یادداشت کے بعد پاکستان کا کردار

مفاہمتی یادداشت کے بعد پاکستان کا کردار
تحریر : روشن لعل
امریکہ اور ایران کے درمیان 17جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر ان دونوں متحارب ملکوں کے صدور کے ساتھ ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ثالث کی حیثیت سے دستخط کیے۔ اس مفاہمتی یادداشت پر فاصلاتی، الیکٹرانک دستخطوں کے بعد بالمشافہ رسمی کارروائی کی تقریب جنیوا میںمنعقد کیے جانے کا اعلان ہوا تھا مگر کوئی ٹھوس وجہ بتائے بغیر اچانک یہ تقریب ملتوی کر دی گئی۔ جس مفاہمتی یادداشت پر ایران اور امریکہ کے صدور اور پاکستان کے وزیر اعظم نے الیکٹرانک دستخط کیے اسے اسلام آباد ایم او یو کا نام دیا گیا ہے کیونکہ جس بات چیت کے نتیجے میں یہ دستاویز وجود میں آئی اس کا آغاز ہمارے دارالحکومت میں 11اپریل2026ء کو ہوا تھا۔11اپریل سے 17جو ن کے درمیان گزرے 68دنوں کے دوران جو اتار چڑھائو آئے کہ ان میں کبھی تو یہ لگتا تھا کہ کچھ گھنٹوں میں دونوں ملک کوئی حتمی معاہدہ کرلیں گے اور کبھی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دونوں کے درمیان کسی بھی وقت تباہ کن جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ ان 68دنوں کے دوران پاکستان کی سرکردہ شخصیات اپنی ریاستی ذمہ داریاں پوری کرنے کے ساتھ ثالث کا کردار ادا کرنے میں بھی مصروف نظر آئیں۔ مفاہمتی یادداشت میں ایران اور امریکہ نے کئی متنازعہ امور نمٹا دیئے ہیں لیکن ان کے درمیان حتمی معاہدہ ابھی تک طے نہیں پایا کیونکہ اب بھی کچھ معاملات طے ہونا باقی ہیں۔ ان متنازعہ معاملات کو طے کرنے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست بات چیت کا آغاز ہو چکا جس کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے 60دن کی حد مقرر کی گئی ہے۔ کچھ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جانے تک تو پاکستانی حکام نے ثالث کا کردار ادا کیا ، لیکن ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست بات چیت شروع ہونے کے بعد کیا اب بھی پاکستان کے بطور ثالث کردار کی گنجائش موجود ہے۔
واضح رہے کہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہونے تک ثالث کا مرکزی کردار تو پاکستان نے نبھایا لیکن اس کام میں قطر، ترکی ، مصر اور عمان نے بھی پاکستان کی معاونت کی ، ان کے علاوہ سعودی عرب نہ صرف ہر موقع پر رابطے میں رہا بلکہ اس نے جس قدر ممکن تھا سہولت کاری کی۔ پاکستان اور اس کی معاونت کرنے والے ملکوں کا بطور ثالث کردار ابھی ختم نہیں ہوا۔ پاکستان اور اس کے معاون ممالک ثالث کا کردار نبھاتے ہوئے، آنے والے ساٹھ دنوں میں نہ صرف یہ کوشش کریں گے کہ ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے ، اس کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور نیوکلیئر توانائی جیسے معاملات اتفاق رائے سے طے پا جائیں بلکہ یہ بھی دیکھیں گے کہ 14نکاتی مفاہمتی یادداشت کے مطابق دونوں ملکوں نے جو اقدامات کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے وہ اس کے لیے کس حد تک عمل کر رہے ہیں۔
پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو ممکن بنانے کے لیے ، ثالث کا جو کردار ادا کیا، اسے کئی بیرونی ملکوں نے سراہا ہے۔ بطور ثالث مثبت کردار ادا کرنے پر پاکستان کو جس طرح بیرونی دنیا میں سراہا جارہا ہے ، اس معاملے میں کیا یہی پاکستان کا حاصل وصول ہے یا اس کے علاوہ بھی ہم نے کچھ پایا ۔ بیرونی دنیا کی طرف سے سراہا جانا ہی صرف پاکستان کا حاصل وصول نہیں بلکہ اس کے لیے اصل اطمینان بخش بات یہ ہے کہ جو جنگ اس کے دروازے پر لڑی جارہی تھی اور جس کے اثرات نے اندر سے اس کی کمزور معیشت کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا تھا وہ جنگ اب ختم ہو چکی ہے۔ اس جنگ کے خاتمے کا پاکستان پر پہلا مثبت اثر یہ ہوا کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے عام آدمی کی معاشی مشکلات یقیناً کسی نہ کسی حد کم ہوئی ہیں۔ ایران امریکہ جنگ کے خاتمے کے بعد جو تبدیلیاں رونما ہوئیں ، ان سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جہاں بھی امن قائم ہو وہاں خطے کے تمام ملکوں کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ایران ، امریکہ جنگ ختم ہونے سے امن تو قائم ہو گیا لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ خطے کے تمام تنازعات طے پا گئے ہیں۔ امریکہ کے ایران پر حملے سے پہلے بھی خلیج فارس کے ارد گرد موجود مختلف ممالک کے تعلقات آپس میں کشیدہ تھے۔ جنگ کے دوران ایران نے ان ملکوں پر کئی حملے کیے جن کے ساتھ ایک عرصہ سے اس کے تعلقات کشیدہ چلے آ رہے تھے۔ جنگ کے دوران ان ملکوں کی آپس کی کشیدگی میں جو اضافہ ہوا اس کے متعلق ابھی تک بہت کم سوچا اور لکھا گیا ہے۔ خلیج فارس کے ارد گرد موجود ملکوں کے تعلقات اگر کشیدہ رہیں گے تو جنگ کا امکان نہ ہونے کے باوجود خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں ہو سکے گا۔ پاکستان نے جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کو ممکن بنانے کے لیے ثالثی کی وہاں اس کردار کو خلیج فارس کے ارد گرد موجود ملکوں کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کے لیے بروئے کار لانے کی گنجائش موجود ہے۔
ایران امریکہ جنگ کے دوران جہاں خلیج فارس کے ارد گرد بہت کچھ غلط ہوا وہاں ایک ملک کی طرف سے ایسا مثبت رویہ بھی دیکھنے میں آیا جوا س کی سابقہ روایتوں کے برعکس تھا۔ یہ بات کوئی راز نہیں ہے کہ خلیج فارس کے دوسرے کنارے پر موجود ملکوں کے ساتھ ایران کے سفارتی تعلقات میں اکثر اتار چڑھائو آتا رہتا ہے۔ دونوں طرف کے ملکوں نے باہمی سفارتی تعلقات کو مضبوط کرنا کبھی ضروری نہیں سمجھا۔ ماضی میں دیکھا گیا کہ کسی بھی عرب ملک کے ایران کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہونے پر دونوں کے سفارتی تعلقات محدود کر دیئے گئے۔ سعودی عرب میں جنوری 2016ء میں ایک شیعہ عالم کو پھانسی دیئے جانے کے بعد تہران میں اس عمل کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے جب وہاں سعودی سفارت خانے پر حملہ کیا تو سعودی عرب نے جواب میں فوراً ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ سعودیہ، ایران سفارتی تعلقات سات برس تک مقطع رہنے کے بعد مارچ 2023ء میں بحال ہوئے۔ حالیہ جنگ کے دوران ایران نے سعودی عرب پر 438ڈرون اور 36میزائل فائر کیے لیکن ، ان حملوں کے باوجود سعودی عرب کی طرف سے ایران کے ساتھ 2023ء میں بحال ہونے والے سفارتی تعلقات ختم کرنے کی بات ایک مرتبہ بھی سامنے نہیں آئی۔ اس رویے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی کی نسبت سعودی عرب کی ترجیحات تبدیل ہو چکی ہیں۔
ایران، امریکہ مفاہمتی یادداشت سے یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ جنگ اب کسی بھی ملک کی ترجیح نہیں ہے۔ جنگ اگر اس وقت خلیجی ممالک کی ترجیح نہیں رہی تو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کو انہیں کشیدگی ختم کرنے کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس طرح کی کوششیں شروع کرنے کے لیے پاکستانی کو فوراً یہ اعلان کر دینا چاہیے کہ وہ عرب ممالک کی حالیہ باہمی کشیدگیوں اور ان کی ایران کے ساتھ عرصہ سے چلی آرہی کشیدگی ختم کرانے کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔





