28ویں آئینی ترمیم

28ویں آئینی ترمیم
محمد مبشر انوار
پارلیمانی نظام حکومت میں، قانون سازی کا اختیار کلیتا پارلیمان کا اختیار ہوتا ہے جبکہ پارلیمان کے اختیار کو بھی بہرطور، آئین کے اندر محدود کیا جاسکتا ہے کہ پارلیمان کس طرح کی قانون سازی کر سکتی ہے اور اس کی حدود و قیود کیا ہیں۔ برطانوی پارلیمان کے اس ضمن میں اختیارات لامحدود ہیں اور حالات و واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے، برطانوی پارلیمان کوئی بھی قانون بنا سکتی ہے البتہ برطانوی پارلیمان بھی عوامی بہتری یا عوامی رائے کو بہرطور سامنے رکھتے ہوئے ہی قوانین بناتی ہے کہ عوامی رائے کی خلاف کی گئی قانون سازی بالعموم، عوامی احتجاج یا ناپسندیدگی کی بنا ء پر واپس بھی لے لی جاتی ہے۔ امریکہ کی کانگریس کے اختیارات بھی بظاہر لامحدود دکھائی دیتے ہیں لیکن اس پر بھی بہرطور سپریم کورٹ کی نظر موجود رہتی ہے اور یہی درحقیقت امریکی آئین کی خصوصیت ہے کہ ہر آئینی ادارے لامحدود اختیارات کا حامل ہونے کے باوجود دوسرے ادارے کے سامنے جوابدہ ہے اور بارہا ایسے معاملات سامنے آئے ہیں کہ جہاں قانون سازوں کی قانون سازی کو امریکی سپریم کورٹ نے خلاف آئین و قانون قرار دیتے ہوئے، کالعدم قرار دیا ہے اور یوں امریکی معاشرہ طویل عرصہ سے پنپ رہا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ آج بھی بخوبی روبہ عمل ہے اور اس کا اثر امریکی معاشرے پر آج بھی بخوبی دیکھا جا سکتا ہے کہ کسی بھی ایسی قانون سازی کو جو آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم، کسی بھی دبائو، مصلحت یا جبر کے تحت، تسلیم نہیں کرتی اور اسی آئین کی روح سے متصادم قرار دے کر کالعدم کر دیتی ہے۔ دوسری طرف پاکستانی مقننہ ہے کہ جس کی قانون سازی بالعموم کسی فرد واحد کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے گو کہ آئین میں حاکمیت اعلی کا تصور اللہ رب العزت کو تسلیم کیا گیا ہے، قانون سازی قرآن و سنت کے تقاضوں کے مطابق کئے جانے کا بھی اندراج موجود ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں زیادہ تر قانون سازی، کسی فرد واحد کی خواہشات اور مقاصد کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے حتی کہ ابتدائی دور میں ہی اس میں کی گئی ترامیم اس امر کی غماز ہے کہ مقننہ نے آئین کو ایک مقدس دستاویز کی حیثیت سے کم اور موم کی ناک زیادہ سمجھا ہے۔
پاکستان میں آئین کی محافظ اور تشریح کرنے والی سپریم کورٹ کی حالت انتہائی نا گفتہ بہ دکھائی دیتی ہے کہ یہ اپنے آئینی اختیارات تک استعمال کرنے کی جرات نہیں رکھتی، آئین عدالتوں کو ’’ نظر ثانی‘‘ کا اختیار دیتا ہے لیکن بدقسمتی سے اس اختیار کا دھڑلے سے استعمال آخری مرتبہ چودھری افتخار احمد کے دور میں دیکھنے کو ملا جبکہ دیگر منصفین کی جانب سے ہمیشہ کسی درخواست گزار کا انتظار کیا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ درخواست گزار کے سامنے آنے پر بھی بالعموم کئی ایک قدغنیں رہتی ہیں اور بسا اوقات درخواست گزار ہی اپنی درخواست واپس لے لیتا ہے بشرطیکہ ایسی کوئی قانون سازی، طاقت کے محور و مرکز سے متعلق ہو جبکہ سویلین کے لئے معاملات کبھی اس انتہا تک نہیں جاتے۔ یوں پاکستان کی اعلی عدالتیں، اپنے اس اختیار کے استعمال سے گریز کرتی ہی دکھائی دیتی ہے اور اصولا یہ حقیقت بھی ہے کہ عدالتوں کو ازخود متحرک ہونے سے گریز کرنا چاہئے البتہ کسی درخواست پر ایسی ترامیم جو بنیادی آئینی ڈھانچے سے متصادم ہوں، ان کو بلاخوف و خطر ماورائے آئین و قانون قرار دے کر کالعدم کر دینا چاہئے۔ غالبا یہی وجہ تھی کہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں اس وقت سماعت کے لئے مقرر نہیں ہوئی کہ امکان یہی تھا کہ اس وقت کی عدالت میں موجود، ججز کی اکثریت اس ترمیم کو ماورائے آئین سمجھتی تھی، لہذا اس ترمیم کے خلاف سماعت ہی مقرر نہیں ہوئی تاوقتیکہ عدالت کو مکمل طور پر تسخیر کر لیا گیا اور طرہ یہ کہ 27ویں ترمیم منظور کروا لی گئی۔ جس کے بعد جو موہوم امید باقی تھی کہ سید منصور علی شاہ،26ویں آئینی ترمیم کی سماعت میں، اگر عدالت نے کالعدم قرار دی تو چیف جسٹس بن سکتے ہیں، وہ بھی ختم ہو گئی اور سید منصور علی شاہ، اس ترمیم کے بعد، اپنے منصب سے مستعفی ہو کر گھر چلے گئے۔ گو کہ اس وقت یہ افواہیں زیر گردش تھی کہ سید منصور علی شاہ، آئین کی سر بلندی کے لئے، کسی تحریک کا حصہ بننے جارہے ہیں اور وکلاء تحریک کی قیادت بھی کریں گے لیکن واقفان حال بتاتے ہیں کہ سید منصور علی شاہ دباؤ برداشت نہیں کر پائے اور خود کو ان چیزوں سے الگ کر لیا۔ سید منصور علی شاہ کی زندگی آئین و قانون کی بالا دستی کے لئے گزری، انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ قاعدے قانون کے ساتھ گزارا اور ممکنہ طور پر انہیں یہ گمان تھا کہ اگر وہ کسی تحریک کا حصہ بنتے ہیں تو یقینی طور پر آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئی کریں گے مگر وہ بھول گئے کہ سرزمین پاکستان میں ایسی تحاریک بھی بہرحال کسی کے اشارہ ابرو پر ہی چلتی ہیں، ازخود ایسی تحاریک کو پنپنے سے پہلے ہی دبا دیا جاتا ہے۔ اب سید منصور علی شاہ کا طریقہ بدل چکا ہے اور وہ اپنی علمی صلاحیتیوں کو نئی نسل میں منتقل کر رہے ہیں، زیادہ تر سیمینارز، عالمی سطح پر کلاسز، ثالثی سے متعلق علم کی منتقلی ہی ان کا طرز زندگی ہے کہ اس ملک میں کسی ایسے شخص کا، جو آئین و قانون میں یقین رکھتا ہو، طاقتوروں کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتا کہ جن کی نظر میں آئین و قانون کی حیثیت کاغذوں کے ایک پلندے سے زیادہ نہیں۔ سید منصور علی شاہ ہی کی کیا بات کریں، جو بہرحال ایک انتہائی اچھی شہرت کے مالک ہیں کہ یہاں تو قوم نے جسے اپنا قائد تسلیم کر رکھا ہے، اس کے رہائی کے لئے بھی باہر نکلنے کے لئے تیار نہیں تو منصور علی شاہ کیا کرتے؟
اس وقت ایک اور آئینی ترمیم کا غلغلہ ہے اور شنید یہ ہے کہ نئی آئینی ترمیم میں اس چیز کی گنجائش نکالی جائے گی کہ کسی طرح منصب صدارت پر آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو براجمان کروایا جائے، ظاہر ہے کہ موجودہ صورتحال میں سید عاصم منیر اگر قصر صدارت میں داخل ہوتے ہیں، تو اس کی اجازت انہیں آئین نہیں دیتا اور دوسرا راستہ ایسا ہے کہ اس سے جمہوریت کا گلا گھونٹا جاتا ہے۔ جمہوریت کا گلا گھونٹا گیا تو عالمی سطح پر کئی ایک معاملات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں تو غالبا کسی نابغہ روزگار کی جانب سے یہ تجویز دی گئی ہو گی کہ کیوں نہ آئین کو ہی تبدیل کر دیا جائے کہ اس وقت بھی دنیا کو ہائبرڈ نظام کی دہائی دی جارہی ہے کہ پاکستان میں ہائبرڈ نظام روبہ عمل ہے تو اس کو آئینی حیثیت دے دی جائے؟ اس ہائبرڈ نظام کو آئینی حیثیت دینے کے لئے یقینی طور ایک بار پھر آئینی ترمیم کرنا ہوگی اور آئینی ترمیم کرنے کے لئے پھر ’’ بروٹ میجورٹی‘‘ حاصل کرنا ہوگی، جو قصر صدارت میں موجود پیپلز پارٹی کی قیادت کے لئے ایک کڑوا گھونٹ ثابت ہو سکتا ہے لہذا خبریں گرم ہیں کہ نیب کا ادارہ ایک بار پھر متحرک ہے اور اس مرتبہ اس کا رخ روشن پیپلز پارٹی کی جانب ہے۔ پیپلز پارٹی کا ردعمل کیا ہوگا یا کیا ہو سکتا ہے؟ عوامی حمایت سے محروم یہ جماعت، پہلے ہی ڈرائنگ روم کی سیاست کر رہی ہے اور اس کی اقتدار میں شمولیت بہرطور آقائوں کی آشیرباد سے ہی ممکن ہے یا ان کا اپنا زور بازو، جس کے بل بوتے پر وہ اندرون سندھ ہی نہیں بلکہ اب تو شہری علاقوں میں بھی غیر متوقع طور پر ووٹ حاصل کر رہے ہیںکہ انتظامیہ پر مکمل کنٹرول نے پیپلز پارٹی کے تن مردہ میں جان ڈال دی ہے۔ بہرکیف اگر واقعتا ایسی کوئی ترمیم لائی جاتی ہے کہ جس سے پیپلز پارٹی کو قصر صدارت چھوڑنا پڑتا ہے تو پیپلز پارٹی کیا کرے گی؟ کیا پیپلز پارٹی اپنے مربی و محسن کے خلاف جائے گی یا جا سکتی ہے؟ کیا سیاسی میدان میں کوئی نئی ہلچل ہو سکتی ہے؟ وہ ہلچل کیا ہو سکتی ہے؟ ڈرائنگ روم کی سیاست کرنے والی پیپلز پارٹی سے یہ توقع کرنا کہ وہ، بغیر پکی جمع تفریق کئے، طاقتوروں کے خلاف جائے، مشکل دکھائی دیتا ہے جبکہ سیاسی میدان میں شنید ہے کہ پیپلز پارٹی، ن لیگ سے اتحاد ختم کرکے ن لیگ کے لئے مشکلات کھڑی کر سکتی ہے تو وہ بھی ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ ن لیگ کو اتنی اکثریت مل چکی ہے کہ وہ تن تنہا حکومت سازی کر سکتی ہے یا بوقت ضرورت چند دانے ادھر ادھر سے تعداد پوری کرنے کے لئے مہیا کئے جا سکتے ہیں۔ تحریک انصاف کے ساتھ ملنے کا کوئی امکان بھی، تحریک انصاف کی جانب سے دکھائی نہیں دیتا تو پیپلز پارٹی کو 28ویں ترمیم کے نتیجہ میں قصر صدارت چھوڑنا ہی پڑے گا مگر اس کا عوضانہ بھی پیپلز پارٹی یقینا کم نہیں لے گی جبکہ 28ویں آئینی ترمیم کے بعد، اگر ہو جاتی ہے تو، تحریک انصاف بالعموم جبکہ عمران خان بالخصوص مزید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے لیکن اس ترمیم کے بعد، ن لیگ ، پیپلز پارٹی اور سید عاصم منیر کو تو فائدہ ہو جائیگا کیا پاکستان کو بھی کوئی فائدہ ملے گا؟ اس پر پھر کسی وقت بات کریں گے۔





