Abdul Hanan Raja.Column

ون کانسٹیٹیوشن کرپشن کیس تعلیمی زوال کا نکتہ کمال

ون کانسٹیٹیوشن کرپشن کیس تعلیمی زوال کا نکتہ کمال
عبدالحنان راجہ
طاقت اور قانون سازی کے مرکز اسلام آباد میں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو اور اس طرز کے لاتعداد کیس صرف ریگولیٹری اداروں کی بدنیتی، نااہلی اور بددیانتی کی مثال نہیں بلکہ اس کی جڑیں ہمارے نصاب و نظام تعلیم سے جا جڑتی ہیں۔ آپ پوچھیں گے کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس میں تعلیمی ناکامی کہاں سے آن ٹپکی۔ ؟ جی ہاں ہر برائی اور ہر ظلم کی ایک بنیاد ہوتی ہے اور خرابی کی ظاہری و بنیادی وجوہات۔ بالکل اسی طرح ہمارا نظام و نصاب تعلیم لاقانونیت، جھوٹ کرپشن اور اخلاقی زوال کی بنیادی وجہ جبکہ بظاہر سرکاری عمال۔
جھوٹ اور بدعنوانی پاکستان کے دو بڑے مسائل، بلکہ کینسر، اور معیشت اور قرضوں سے بھی بڑے۔ جی ہاں میرا استدلال بڑا واضح کہ ان دونوں مسائل اور معاشرے میں اس کے تیزی سے پھیلائو کی وجہ ناقص، بے مقصد اور ہمارے معاشرے سے عدم آہنگ تعلیمی نظام۔ آپ کرپشن کے ہزاروں کیسز اور ماضی کی لاتعداد بدعنوانیوں کو چھوڑیئے تازہ مثال سے بات سمجھنے کی کوشش کریں کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کرپشن کیس کے سبھی کردار CDA، خرید کنندگان، عدلیہ، قانون دان کیا سبھی اعلی تعلیم یافتہ نہیں۔ ؟ کیا وہ اس سے لاعلم کہ وہ صرف آئین اور قانون کی نہیں اسلامی اقدار اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑا کر اپنی آخرت برباد کر رہے ہیں ؟۔
اگر ہمارے نصاب و نظام تعلیم نے ان کے اندر سچائی، راست گوئی، دیانت، امانت، نظم و ضبط کا جذبہ پیدا اور ان کی صحیح معنوں میں کردار سازی کی ہوتی تو کیا 75سال بعد بھی ملک ان رذائل کے ہاتھوں برباد ہو رہا ہوتا؟ ۔
پاکستان میں سالانہ 5سے چھ ہزار ارب کی معلوم بدعنوانی ہوتی اور ہر سال تین سے چار بلین ڈالرز کی منی لانڈرنگ، منی لانڈرنگ سے یاد آیا کہ ڈالر گرل کو گرفتار کرنے والے تو اللہ کے حضور پہنچا دئیے گئے کہ کوئین کے ہاتھ لمبے اور سفارشیں تگڑی، ڈالر کوئین کی وکالت کے لیے وقت کے اعلیٰ ترین مناصب پر فائز رہنے والے قانون دان اور پی پی و پی ٹی آئی کے مرکزی لیڈران قطار اندر قطار عدالت عالیہ میں اسے بے قصور ثابت کرنے کے لیے قانون کے نام پر دن کے اجالے میں جھوٹ پہ جھوٹ۔ مجرمہ کو رہائی دینے اور قانون کے نام پر دفاع کرنے والے تعلیم یافتہ ہی تو تھے، مہنگے ترین اداروں سے، مگر کیا کسی کی تعلیم ان کے ضمیر کو جھنجھوڑ پائی جواب نفی میں۔ جی بالکل کرپشن اور جھوٹ کی ہر کہانی سے آپ کو تعلیمی نظام کی بدحالی کے مناظر ہی ملیں گے۔
کیوں ہمارے ہاں برس ہا برس سے آئی پی پیز شوگر و دیگر مافیاز حرام کی کمائی اور لوٹ مار کی عادی اور ہر بار باوجود بدعنوانی کے کھلے ثبوتوں کے وہ ہمارے نظام انصاف کو بڑے اور نامور قانون دانوں کی قانونی موشگافیوں کے ساتھ چکمہ دینے میں کامیاب اور آئندہ پھر سے کرپشن اور لوٹ مار کے لیے جری ہو جاتے ہیں ؟۔ اکثر متمول خاندانوں سے تعلق، مگر اس کے باوجود ناجائز دولت کی ہوس انہیں ہر آئین اور اخلاق سے عاری کرتی جا رہی ہے۔
ہمارے نامور اور معروف سیاسی کردار اور اقتدار میں رہنے والی تینوں چاروں جماعتوں کے سربراہان اور اکثریت ممبران اسمبلی کرپشن اور لوٹ مار میں ملوث، ہر آنے والی حکومت اپنے پیشرو پر مقدمات کے دفاتر کھولتی ہے اور گرفتاریاں ہوتی ہیں اور یہ کھیل اب تک جاری۔ مگر آج تک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کسی بدعنوان کو نشان عبرت نہ بنایا جا سکا۔ کیوں۔؟ کرپشن میں ان کے معاونین بیوروکریٹس، سرکاری اہل کار اور مستفیض ہونے والے سیاست دان ان کو انصاف دلانے والے قانون دان اور انصاف دینے والا نظام سبھی تو یہاں کے کسی نہ کسی تعلیمی ادارے کے طالب علم مگر روایتی تعلیم مردہ ضمیروں کو جگانے میں ناکام !!!
چھوٹے سرکاری دفاتر سے لیکر تحصیل اور ایوان وزیر اعلی سے لیکر ایوان صدر تک ہر سو کرپشن، جھوٹ اور لوٹ مار کی الگ اور نت نئی داستانیں۔ کہ جنہیں احاطہ تحریر میں لانا ناممکن۔
اور ہماری بیوروکریسی بدعنوانی کا شہ دماغ۔ اگر تعلیم نے ان کی کردار سازی کی ہوتی، اساتذہ اور والدین نے تربیت کا حق ادا کیا ہوتا نظام تعلیم نے انہیں نظم و ضبط، پابندی وقت، دیانت داری، عجز و انکساری جیسی خوبیوں سے متصوف کیا ہوتا تو سرکاری اداروں میں یہ فرعون نما افسران لوٹ مار، بدتہذیبی اور بدعنوانی کا بازار گرم نہ کیے ہوتے، سال ہا سال جائز درخواستیں دبائے رکھنے کا رجحان ہوتا نہ سرمایہ کاری کے لیے آنے والوں کی درگت بنائی جا رہی ہوتی، ہر شعبہ تجارت، صحافت، سیاست حتی کی مذہب زبوں حالی کا شکار نہ ہوتا اور نہ بدعنوانی کے محافظ اسمبلیوں، قانون ساز اداروں، عدالتوں اور قانونی اداروں میں اعلیٰ مناصب پر فائز ! ان کی اکثریت علم اور کتابوں کا بوجھ اٹھائے چلتے پھرتے ناسور اور ملک و قوم کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں دن رات مصروف۔ بدقسمتی یہ بھی کہ والدین بچوں کے جسم کی پرورش تو کر رہے ہیں مگر روح کی پرورش کو فراموش کر دیا گیا۔ اور نتیجہ سامنے کہ ہمارے ہاں اچھی اور مہنگی تعلیم اپنے ساتھ کتنے معاشرتی مسائل اور اخلاقی رذائل لا رہی ہے۔
بامقصد تعلیم اور تربیت کیسے معاشرے پر اثر انداز ہوتی اور نتائج دیتی ہے اس کے لیے ہمیں رخ کرنا پڑے گا ایک ایسے ملک کا کہ جو سات دہاییاں قبل ایٹم بم کی تجربہ گاہ بن چکا۔ جہاں تبلیغ کا سلسلہ دراز ہے اور نہ دینی اقدار اس معاشرے میں راسخ، مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے وہاں نہ سڑکیں بند کی جاتی ہیں اور نہ مذہب کے نام پر دنگا و فساد۔ مگر اس کے باوجود اخلاقی اعتبار و اقدار میں وہ دنیا بھر میں پہلے نمبر پر۔ احتیاط و احساس کا عالم یہ کہ سیل فون پر اونچی آواز پہ گھنٹی بھی معیوب۔ گلی محلوں، دفاتر حتی کہ عوامی مقامات کی صفائی ہر شہری اپنی ذمہ داری سمجھتا پے۔ وقت کی پابندی، صاف گوئی ان کی پہچان، سرکاری دفتر میں سائل کا آ جانا ان کے لیے باعث ذلت کہ مسائل نظام کے تحت شہریوں کی دہلیز پر حل کرنے کا رواج۔ تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر میں خاکروب اور کلاس فور کا تصور نہیں کہ ہر فرد اپنے حصہ کی صفائی کا ذمہ دار، احساس ندامت اتنا کہ معمولی سے کوتاہی پر اہل کار اور افراد شرم سے واقعی ڈوب مرتے ہیں تاریخ کے بدترین زلزلے کے بعد بھی بنیادی اشیائے خورونوش کے لیے قطار ٹوٹی اور نہ کوئی لوٹ مار، شاپنگ مال کھلے رہے اور امرا نے دروازے ضرورت مندوں کے لیے کھول دئیے مگر ہر جاپانی نے انتہائی ضرورت کی اشیا بقدرے سہولت ہی لیں اور گھروں کو ذخیرہ اندوزی کا مرکز بنایا اور نہ کسی کا حق مارا۔ سچی بات تو یہ کہ ان کے اس رویہ نے انصار مدینہ کی یاد تازہ کی کہ حالانکہ یہ حق ہم پر تھا۔ گالم گلوچ اور دھینگا مشتی تو دور کی بات اونچی آواز اور بحث عام شہری کے نزدیک بھی بدتہذیبی کے زمرہ میں جبکہ ہمارا سب سے معزز ایوان گالم گلوچ اور بدتمیزی کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ یہ سب کیسے ممکن؟۔ بہترین نظام و نصاب تعلیم سے۔ جاپان میں بھاری بھر کم فیسیں ہیں اور نہ کتابی بوجھ۔ تعلیم ہمارے ہاں کی طرح ذریعہ روزگار ہے اور نہ کرپشن کے نت نئے طریقے ایجاد کرنے کا۔ جاپان میں تعلیم انسان بناتی ہے اور انسانیت سکھاتی ہے اور پھر اس کی جھلک زندگی کے ہر شعبہ زندگی میں نظر بھی آتی ہے۔ جاپان کا سفر کرنے اور وہاں کے نظام کا بغور مشاہدہ کرنے والوں کے مطابق تعلیمی اداروں کے ابتدائی تین سے چار سال تربیت اور تعمیر شخصیت و اخلاقیات کے لیے وقف۔
فرد کی اصلاح ہو یا قوموں کی تربیت اور بامقصد نظام تعلیم و نصاب تعلیم سے وابستہ۔ اب یہ ہمارے پہ منحصر کہ ہم بہتر مستقبل کے لیے اپنی اور معاشرے کی اصلاح چاہتے ہیں یا نہیں کہ رائج نظام و نصاب تعلیم کے ساتھ یہ ممکن نہیں۔

جواب دیں

Back to top button