Column

کور کمانڈرز کانفرنس کا پیغام

اداریہ۔۔۔
کور کمانڈرز کانفرنس کا پیغام
پاکستان کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی چیلنج کی عکاس ہے، جہاں اندرونی استحکام اور بیرونی خطرات دونوں ہی ریاستی پالیسی کے مرکزی نکات بن چکے ہیں۔ گزشتہ روز کور کمانڈرز کانفرنس میں کیے گئے فیصلے اور اظہارِ خیال اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی استحکام کے حوالے سے نہایت سنجیدہ اور فعال حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ پاکستان کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ دو ڈھائی دہائیوں میں ارض پاک نی بے شمار قربانیاں دی ہیں، جن میں ہزاروں شہری اور سیکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کور کمانڈرز کانفرنس میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے اور ان کے معاون انفرا اسٹرکچر کی تباہی کے عزم کا اعادہ ایک تسلسل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ صرف ایک بیان نہیں بلکہ ایک ایسی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک کے طول و عرض میں امن کو یقینی بنانا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کی پیشہ ورانہ تیاری اور جنگی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان کی فوج نہ صرف دفاعی لحاظ سے مستحکم ہے بلکہ جدید تقاضوں کے مطابق خود کو ہم آہنگ بھی کر رہی ہے۔ بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں ایک مضبوط اور چوکنا دفاعی نظام کسی بھی ملک کی بقا کے لیے ناگزیر ہوتا ہے اور پاکستان اس ضرورت سے بخوبی آگاہ ہے۔ کانفرنس میں افغان طالبان حکومت کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرنا بھی ایک اہم پہلو ہے۔ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ اس کی کارروائیاں صرف دہشت گرد عناصر اور ان کے ٹھکانوں کے خلاف ہوتی ہیں، نہ کہ عام شہریوں کے خلاف۔ اس حوالے سے شفافیت اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری نہایت ضروری ہے، کیونکہ غلط فہمیاں اور پروپیگنڈا نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو متاثر کرتے ہیں بلکہ خطے میں عدم استحکام کو بھی ہوا دیتے ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ جدید دور میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اطلاعاتی محاذ پر بھی لڑی جارہی ہے۔ ڈس انفارمیشن اور پروپیگنڈا مہمات ریاستوں کے درمیان اعتماد کو کمزور کرنے کا ایک موثر ہتھیار بن چکی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا یہ موقف کہ وہ بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتا اور حقائق پر مبنی بیانیہ پیش کرتا ہے، ایک ذمے دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ علاقائی سلامتی کے تناظر میں کور کمانڈرز کانفرنس کا یہ پیغام بھی نہایت اہم ہے کہ پاکستان کشیدگی میں اضافے کے بجائے تحمل اور استحکام کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی مختلف تنازعات اور عدم اعتماد کا شکار ہے اور ایسے میں کسی بھی قسم کی غیر ذمے دارانہ کارروائی پورے خطے کو متاثر کر سکتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے ذمے داری کا مظاہرہ اور امن کے لیے کوششیں اس کے مثبت سفارتی رویے کو ظاہر کرتی ہیں۔ معرکہ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر اس کی اہمیت کو اجاگر کرنا دراصل قومی اتحاد اور یکجہتی کی یاد دہانی ہے۔ یہ تصور اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ جب قوم، حکومت اور افواج ایک صفحے پر ہوں تو بڑے سے بڑا چیلنج بھی عبور کیا جاسکتا ہے۔ قومی یکجہتی کسی بھی ریاست کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے اور پاکستان کے لیے یہ پہلو خاص اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم، یہ بھی ضروری ہے کہ سلامتی کے ساتھ داخلی استحکام، معاشی ترقی اور عوامی فلاح کو بھی یکساں اہمیت دی جائے۔ ایک مضبوط دفاعی نظام اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب اس کے ساتھ ایک مستحکم معیشت اور مطمئن معاشرہ بھی موجود ہو۔ اس لیے ریاستی پالیسی کو ہمہ جہتی ہونا چاہیے، جس میں سیکیورٹی کے ساتھ تعلیم، صحت اور معیشت پر بھی توجہ دی جائے۔ پاکستان کو درپیش چیلنجز یقیناً پیچیدہ ہیں، مگر ان کا حل بھی مربوط حکمتِ عملی اور قومی اتفاقِ رائے میں پوشیدہ ہے۔ کور کمانڈرز کانفرنس کے پیغامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ملک ایک واضح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، جہاں سلامتی، استحکام اور خودمختاری بنیادی ترجیحات ہیں۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے کیونکہ ریاستی ادارے، حکومت اور عوام ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں اور مشترکہ اہداف کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ کامیابی اسی صورت ملتی ہے۔ اتحاد، صبر اور دانش مندی بڑی سے بڑی مشکل کی کلید ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک محفوظ، مستحکم اور باوقار ریاست کی طرف لے جارہا ہے۔
شذرہ۔۔۔۔
بجلی چوری کا خاتمہ ناگزیر
پاکستان میں توانائی کا بحران ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے، جس نے نہ صرف معیشت بلکہ عام شہری کی زندگی کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ ایسے میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بجلی چوروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت ایک بروقت اور ناگزیر اقدام ہے۔ بجلی چوری نہ صرف قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ایمانداری سے بل ادا کرنے والے صارفین پر بھی اضافی بوجھ ڈالتی ہے، جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بجلی چوری ایک منظم مسئلہ بن چکا ہے، جس میں بعض علاقوں میں باقاعدہ نیٹ ورکس کام کرتے ہیں۔ یہ عناصر نہ صرف ریاستی وسائل کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ نظام کی بہتری میں بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔ ایسے میں اگر ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی نہ کی جائے تو اصلاحات کے تمام دعوے کھوکھلے ثابت ہوں گے۔ وزیراعظم کا یہ واضح پیغام کہ بجلی چوروں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی، دراصل ریاستی رٹ کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔حکومت کی جانب سے اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کا فیصلہ بھی ایک مثبت پیش رفت ہے۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بجلی چوری کی شرح زیادہ ہے، وہاں ٹرانسفارمر سطح پر نگرانی سے نہ صرف چوری کی روک تھام ممکن ہوگی بلکہ لائن لاسز میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس سے شفافیت کو فروغ ملے گا۔ دوسری جانب، قابل تجدید توانائی کی طرف پیش قدمی بھی ایک دانش مندانہ حکمت عملی ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جہاں سورج اور ہوا جیسے قدرتی وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں، ان سے بھرپور فائدہ اٹھانا نہایت ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف بجلی کی پیداوار سستی ہوگی بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار بھی کم ہوگا، جو معیشت کے لیے فائدہ مند ہے۔ تاہم، صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ عوام کو بھی اپنی ذمے داری کا احساس کرنا ہوگا۔ بجلی چوری دراصل ایک قومی جرم ہے جس کے اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان چاہتے ہیں تو قانون کی پاسداری کو یقینی بنانا ہوگا۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ بجلی چوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی وہ ستون ہیں جن پر پاکستان کے توانائی کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ اس ناسور کو جڑ سے ختم کیا جائے اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جائے۔

جواب دیں

Back to top button