تباہی در پر ۔۔

تباہی در پر ۔۔
محمد مبشر انوار
مشرق وسطی کے حالات ڈھکے چھپے نہیں بلکہ اب اور واضح ہوتے دکھائی دے رہے ہیں کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کا مکمل کنٹرول، جہازوں کی آمدورفت بند ہونے کے ساتھ واضح ہے اور ایران نے اعلان کر رکھا ہے کہ آبنائے ہرمز سے صرف وہی جہاز گزر سکتے ہیں، جن کو ایران اجازت دے گا اور مخصوص راستے، جہاں پر بارودی سرنگیں نہیں ہے، وہاں سے خود گزارے گا۔ اس کے باوجود، وہ جہاز جو آبنائے ہرمز میں محبوس ہیں، اس محفوظ راستے سے گزرنے کا ازخود رسک نہیں لے سکتے کہ یہ تجارتی جہاز ہیں کوئی جنگی جہاز نہیں جو لڑتے بھڑتے، اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہوئے ، آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کریں۔ دوسری طرف امریکہ کہ جانب سے بھی آبنائے ہرمز کی بیرونی ناکہ بندی کی گئی ہے اور امریکی نیوی آبنائے ہرمز سے نکلنے والے ایسے جہازوں کو جن پر ایرانی پرچم ہے، گزرنے کی اجازت نہیں دے رہی، یوں آبنائے ہرمز، جو دنیا کے بیس فیصد تیل اور تیس فیصد گیس کی گزرگاہ ہے، بند پڑی ہے ۔ اس بندش کے باعث، عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں مسلسل اتار چڑھائو کا شکار تو ہیں ہی، تیل کی عدم ترسیل کے باعث، دستیابی بھی کم ہوتی جارہی ہے اور صنعتی پہیہ بھی متاثر ہو رہا ہے، اس کے باوجود فریقین پر کوئی اثر ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اور فریقین اپنی اپنی فتح کو یقینی بنانے کی جتن کر رہے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے، آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لئے پراجیکٹ فریڈم کا اعلان کیا گیا اور جواز یہ پیش کیا گیا ہے کہ امریکہ انسانی ہمدردی کے باعث، آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کو اپنی حفاظت میں، گزارے گا کہ پھنسے ہوئے جہازوں میں ان ممالک کے جہاز بھی شامل ہیں ، جو غیر جانبدار ہیں اور ان کا اس تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور دوسرا جواز یہ ہے کہ ان پھنسے ہوئے جہازوں میں خوراک و دیگر اشیاء کم ہورہی ہیں، ختم ہو رہی ہیں لہذا ان کو راستہ ملنا چاہئے کہ وہ اپنی منازل پر پہنچ سکیں۔ امریکہ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے گہ اگر اس پراجیکٹ فریڈم کو روکنے کی کوشش کی گئی تو امریکہ طاقت کے زور پر ان جہازوں کو آبنائے ہرمز سے نکالے گا اور رکاوٹ بننے والوں کو عبرت کا نشان بنائے گا، امریکہ کا یہ پراجیکٹ فریڈم پیر کے روز سے شروع ہونا تھا لیکن تاحال ایک امریکی جہاز نے کوشش کی، جس کو ایران کی جانب سے میزائلوں کا سامنا کرنے پر، واپس ہونا پڑا۔ جبکہ ایران کا یہ موقف ہے کہ امریکہ بیرونی ناکہ بندی ختم کرے اور محبوس جہاز ایرانی شرائط کے مطابق، ایرانی اجازت سے، آبنائے ہرمز سے گزر جائیں اور اگر امریکہ نے جبرا آبنائے ہرمز میں داخلے کی کوشش کی تو سنگین نتائج بھگتنے کے لئے تیار رہے اور ایران اس امر کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے کسی نرمی یا رعایت کا اظہار نہیں کرے گا حالانکہ انسانی ہمدردی اگر مقصد ہوتا تو ایران کے ساتھ معاملات طے کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہ ہوتا اور ایران انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان جہازوں کی ضروریات خود بھی پوری کر دیتا لیکن معاملہ صرف انسانی ہمدردی کا نہیں بلکہ اپنی طاقت کا اظہار ہے۔ معاملہ بغور دیکھا جائے تو ایک طرف یہ ٹرمپ کی ذاتی کرتوتوں کے باعث اس حد تک پہنچا ہے کہ اسے ایپسٹین فائلز میں موجود مواد کی وجہ سے اپنی شخصیت کا دفاع کرنا ہے تو دوسری طرف اب یہ ٹرمپ کی انا کا مسئلہ بھی بن چکا ہے کہ ٹرمپ کیسے اور کیونکر شکست کا داغ ماتھے پر سجائے ایک ایسے ملک سے پسپا ہو، جو گزشتہ سینتالیس سال سے سخت پابندیوں کا شکار رہا ہے۔ ٹرمپ کے ان دعوئوں کا کیا ہو گا، جس کے مطابق ٹرمپ ساری دنیا کے سامنے یہ اعلان کر رہا ہے کہ امریکہ نے ایران کی فضائی و بحری قوت کو پاش پاش کر دیا ہے جبکہ سینٹ کام اور امریکی نیوی کا حالت یہ ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے دور، ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی رینج سے باہر ناکہ بندی کئے ہوئے ہیں اور آبنائے ہرمز یا ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی رینج میں جانے سے کترا رہے ہیں۔ امریکہ کے تین بحری بیڑے، جو اس جنگ کے لئے تیار کئے گئے تھے، اپنی توڑ پھوڑ کروا کر، ایران کی حدود سے دور کھڑے ہیں، ایک اپنی مرمت کروا کر، جس کے پس پردہ یہ خبریں بھی ہے کہ اس پر سوار فوج نے اس جنگ میں شامل نہ ہونے کا اظہار کیا تھا، دوبارہ اسرائیلی بندرگاہ پر پہنچ چکا ہے، اور جنگ میں بادل نخواستہ شامل ہونے کے لئے تیار ہے۔
تیل کے ذخائر پر قابو پانے کی خواہش سمجھیں یا اسرائیل کی درفنطنی جانیں، لمحہ موجود میں دونوں باتیں حقیقت دکھائی دیتی ہیں البتہ اسرائیلی توسیع پسندی، اس خطے میں تیل کے ذخائر پر قابو پانے کے ساتھ ازخود مکمل ہو سکتی ہے کہ جب تیل سے مالا مال ان ریاستوں پر قبضہ ہو جائے، اگر ممکن ہو تو، گریٹر اسرائیل بھی حقیقت بن سکتا ہے اور تیل کی دولت پر قبضہ بھی مل سکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے، یو اے ای سے پہلے سفارتی تعلقات استوار کئے گئے، پھر وہاں زیر زمین ایسی سازشیں رچائی گئی ہیں جن کی حقیقت، یو اے ای کی اوپیک تنظیم سے علیحدگی کی صورت سامنے آئی اور اب یہ مزید کھل کر سامنے ایسے آئی ہے کہ یو اے ای نے اپنے دفاع کے لئے ایک طرف امریکہ پر انحصار کر رکھا ہے تو دوسری طرف اسرائیلی آئرن ڈوم و اسرائیلی فوجیوں کی یو اے ای میں موجودگی، اس امر کا ثبوت ہیں کہ یو اے ای کو اس بلاک سے الگ کرنے کا کام ٹرمپ کی گزشتہ دور میں ہی شروع ہو چکا تھا، جس کے نتائج عین اس وقت سامنے آئے ہیں ، جب امریکہ و اسرائیل مل کر ایران کو دبوچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یو اے ای کا اوپیک سے علیحدگی کا اعلان اور اس کے علاوہ تیل کی پیداوار میں یکطرفہ اضافہ، اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عالمی برادری اس وقت تیل کی عدم ترسیل سے کس قدر پریشان ہے اور کس طرح وہ کسی ایک ملک سے تیل کا حصول ممکن بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ یو اے ای نے اپنے تیل کی ترسیل کے لئے، آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لئے، اپنی فجیرہ بندرگاہ کو استعمال کرنے کی کوشش تو کی مگر بدقسمتی سے یو اے ای اور اس کے پشت پناہ، یہاں سے تیل کی ترسیل میں کامیاب نہیں ہو پائے، اس کی بڑی وجہ ایران کا وہ نیا نقشہ جاری کرنا ہے، جس میں یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ کو ایرانی سمندری حدود کا حصہ دکھایا گیا ہے اور ایران نے اس نقشے کی بنیاد پر یو اے ای کے تیل بردار جہاز کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی۔ ایران کی جانب سے اس اقدام کے بعد، فجیرہ بندرگاہ پر موجود، آئل ریفائنری پر حملہ ہوتا ہے اور اس ریفائنری میں آگ لگنے سے، یو اے ای کا اچھا خاصا نقصان ہو چکا ہے اور یو اے ای کی جانب سے اسے خود مختاری پر حملہ تصور کیا جارہا ہے۔ یو اے ای کی وزارت دفاع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے یہ حملہ یو اے ای کی خود مختاری پر حملہ ہے اور یو اے ای اپنی خود مختاری کو یقینی محفوظ بنانے کے لئے ہر اقدام کرے گا جبکہ ایران کی جانب سے اس حملے کی واضح تردید کی گئی ہے کہ ایران نے نہ یہ حملہ کیا ہے اور نہ ایران کا یو اے ای پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ ہے بشرطیکہ یو اے ای کی سرزمین سے ایران پر کوئی حملہ نہیں ہوتا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، یو اے ای کے اوپیک سے الگ ہونے کے باوجود، موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے، یو اے ای کے حکمران محمد بن زید سے فون پر رابطہ کیا ہے اور ان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں کہ یقینی طور پر محمد بن سلمان آرامکو پر کئے گئے حملے کے پس منظر میں یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ اس وقت بھی سعودی عرب کو جنگ میں دھکیلنے کے لئے ایسے فالس فلیگ آپریشن کئے گئے تھے کہ کسی طرح سعودی عرب جنگ کا حصہ بنے، جبکہ سعودی عرب نے انتہائی دانشمندی و صبر و تحمل سے خود کو جنگ سے دور رکھا تھا، اسی کا مشورہ یو اے ای کے حکمرانوں کو بھی دیا گیا ہے، اس پر عمل کرتے ہیں یا نہیں، یہ یو اے ای کی اپنی صوابدید ہے۔ پراجیکٹ فریڈم کی آڑ اور یو اے ای پر حملے کے بعد، سینٹ کام کا دعوی ہے کہ انہیں ایران پر حملے کی اجازت مل چکی ہے، اور ایرانی جزیرے جیشم کے قریب ایران کی سات فوجی کشتیوں کو نشانہ بھی بنایا گیا ہے، بندرعباس کے قریب تجارتی گودی میں بھی جہازو ں میں آگ بھڑک اٹھی ہے، جبکہ ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ کشتیاں نجی تھی مگر اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا مزید برآں، امریکہ نے جنگ بندی توڑ دی ہے اور اب بھرپور جنگ ہوگی، بھرپور جنگ کا مطلب تو ایک ہی ہے کہ عقل و دانش کام نہیں آئی اور اب بھرپور جنگ کی صورت تباہی در پر ہے۔۔





