ColumnRoshan Lal

سہیل احمد اور وسیم عباس لیجنڈ فنکار کیوں نہیں؟

سہیل احمد اور وسیم عباس لیجنڈ فنکار کیوں نہیں؟
تحریر ؍ روشن لعل
فن اور ثقافت کو دنیا کے اکثر ملکوں میں، معاشرے کی روح،شناخت اور ترقی کا عکاس تصور کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ثقافتی سرگرمیوں اور فنکارانہ صلاحیتوں کے عملی اظہار کو تفریح کے حصول کا ذریعہ ماننے کے باوجود بہت کم یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ فن و ثقافت ہی سماجی اقدار،اخلاقیات اور طرز زندگی کے ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقلی کا وسیلہ بنتے ہیں۔ جس سماج میں فن و ثقافت کی اہمیت سے آشنا لوگوں کا قحط ہو وہاں فن کاروں کی قدردانی اور واجب عزت افزائی کے مناظر بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس قسم کے ماحول میں فنکار بننے کا شوق پالنا اور پھر اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا لوہا منوانا ، کسی طرح بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔ فن و ثقافت کی ترویج کے لیے انتہائی غیر موافق حالات کے باوجود جن فنکاروں نے نام کمایا ، ان کی طویل فہرست میں سے یہاں ، بوجوہ صرف سہیل احمد اور وسیم عباس کا ذکر کیا جارہا ہے۔
سہیل احمد اور وسیم عباس کے یہاں خاص ذکر کی وجہ یہ ہے کہ آج کل سوشل میڈیا پر ان دونوںکا نام خاص سیاق و سباق میں لیا جارہا ہے۔ مذکورہ دونوں فنکار ، عرصہ دراز سے منفرد انداز میں ، اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے، خود کو برینڈڈ اداکار ثابت کر چکے ہیں۔ اگر سوشل میڈیا پر سہیل احمد اور وسیم عباس کی اداکاری پر بات ہو رہی ہوتی تو خواہش کے باوجود ایسی بات چیت کا حصہ بننے سے گریز کیا جاتا کیونکہ راقم کے نزدیک اس طرح کی بحثوں کا حصہ بننے سے زیادہ اہم، عصر حاضر کے سیاسی و معاشی مسائل پر اظہار خیال کرنا ہے۔ اس وقت، مذکورہ دونوں اداکاروں کے جو بیانات سوشل میڈیا پربحث کا محور بنے ہوئے ہیں ان کی نوعیت کیونکہ نیم سیاسی اور انتہائی حساس نوعیت کی ہے، لہذا ، انہیں ایک مختلف زاویے سے دیکھتے ہوئی مختلف نقطہ نظر پیش کیا جارہا ہے۔
سب سے پہلے بات کی جارہی ہے سہیل احمد کی جن کے کچھ منٹوں پر محیط بیان میں سے چند سیکنڈ کا کلپ نکال کر اسے اس قسم کا توہین آمیز مواد بنا کر پیش کیا گیا جس قسم کا مواد ماضی میں عام نہیں بلکہ کئی نامور لوگوں کے قتل کی وجہ بن چکا ہے۔ سہیل احمد کا بیان توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہوئے اسے توہین آمیز بنانے کی کوشش کو ، کچھ لوگوں نے ان کی قتل کی سازش کے مترادف قرار دیا۔ جس کوشش کو قتل کی سازش کے مترادف قرار دیا گیا اس کی بنیاد نجی ٹی وی چینل پر عید ٹرانسمیشن کے دوران پیش کیے جانے والے ایک پروگرام میں پوچھا گیا وہ سوال بنا جس کے جواب میں سہیل احمد نے عمران خان کو کرکٹ کا ہیرو تو تسلیم کیا لیکن سیاسی میدان کا ہیرو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ عید کے خوشیاں بانٹنے جیسے مواقع پر معروف فنکاروں کے منہہ سے متنازعہ بیان اگلوانے کی کوششیں کرنا اگر پاکستان کے میڈیا اینکرز نے اپنی ترجیح نہ بنایا ہوتا تو سہیل احمد سے وہ سوال ہی نہ پوچھا جاتا جس کے تسلسل میں یہاں ایک سے بڑھ کر ایک بد مزگی برآمد ہوئی۔ افسوس کے عید جیسے جن مواقع پر ٹی وی نشریات کا مقصد خوشیاں بانٹنے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہونا چاہیے اسے ناعاقبت اندیش اینکرز اپنی ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں فساد برپا کرنے کے لیے استعمال کرنے سے ذرہ برابر نہیں ہچکچاتے۔ ریٹنگ کی دوڑ میں اندھا دھند بھاگنے والے میڈیا اینکرز کی مذمت کرتے ہوئے یہاں اس بات کا اظہار کیے بغیر نہیں رہا جاسکتا کہ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنا جس سہیل احمد کا خاصہ ہے اس سہیل احمد کو دہائیوں سے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا حصہ بنے رہنے کے بعد یہ ادراک ہو جانا چاہیے تھا کہ فساد برپا کرنے کی شہرت رکھنے والے اینکرز کے ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔
جس فساد کی بنیاد عید کے موقع پر پیش کیا جانے والا ایک ٹی وی پروگرام بنا ، بعدازاں اس فساد کی لپیٹ میں وسیم عباس بھی آگئے۔ وسیم عباس ایک سینئر اداکار ہونے کے ناطے سہیل احمد کے پرانے ساتھی بھی ہیں۔ وسیم عباس کا سہیل احمد کے حق میں دیا جانے والا بیان ان لوگوں کو سخت ناگوار گزرا جنہوں نے یو ٹیوب چینلز کے ذریعے اخلاقیات کا جنازہ نکالنے کو اپنا منافع بخش کاروبار بنا یا ہوا ہے۔ ایسے لوگ ان دنوں وسیم عباس کے خلاف میسر آنے والے پراپیگنڈا کے موقع کو اپنے نفرت انگیز یو ٹیوب چینلز کی دن دگنی، رات چوگنی ترقی کے لیے بھر پور طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔ سہیل احمد نے اپنے خلاف کیے جانے والے پراپیگنڈے کے جواب میں جس حد تک جانے سے گریز کیا وسیم عباس اس حد کو عبور کرنے کے باوجود بھی اپنے مخالف یوٹیوبرز کے قریب نہیں پہنچ سکے۔ اپنے خلاف پراپیگنڈا کرنے والوں کا مقابلہ کرتے ہوئے انہیں پیچھے چھوڑنا تو درکنار، ان کے قریب پہنچنا بھی وسیم عباس کے بس باہر لگ رہا ہے۔ ملک کے بہترین اداکاروں کی فہرست میں شامل ہونے کے باوجود سہیل احمد اور وسیم عباس کو یہ احساس نہیں ہو سکا کہ ان کا مقابلہ محض اپنے جیسے اداکاروں سے نہیں بلکہ سیاسی اداکاروں سے ہے۔ سہیل احمد اور وسیم عباس گو کہ بہترین اداکار ہیں لیکن انہوں نے اداکاری کی تعلیم کسی تیار شدہ سلیبس کے مطابق حاصل نہیں کی ۔ دوسری طرف ان کے مقابلہ میں سیاسی اداکاری کرنے والوں کی تربیت، ایجنسیوں، عدلیہ، مخصوص سیاسی جماعتوں اور عدلیہ کے کارٹل کے باقاعدتیار کردہ سلیبس کے مطابق ہوتی رہی۔ سیاسی اداکاروں کی تربیت کرنے والا کارٹل تواب ٹوٹ چکا ہے لیکن اس کارٹل نے جن لوگوں کو تیار کیا وہ اپنے ہنر کو اپنی پرورش کرنے والوں کے خلاف استعمال کرنے سے بھی نہیں شرماتے۔
سہیل احمد نے اپنی کامیابیوں کا سفر منہہ میں سونے کا چمچ لے کر نہیں بلکہ صفر سے شروع کیا تھا۔ وسیم عباس کا جنم گو کہ فلم انڈسٹری کی ایک کامیاب فیملی میں ہوا لیکن فلمی دنیا میں ابتدائی پے درپے ناکامیوں کے بعد انہوں اپنا خاندانی پس منظر ایک طرف رکھ کر شوبزنس میں اپنی محنت سے اپنا نام اور مقام بنایا ۔ سہیل احمد اور وسیم عباس عام اداکاروں کے ہجوم سے ترقی کرتے ہوئے ملک کے نامور اداکاروں کی صف میں شامل ہوئے۔ مزید ترقی کرتے ہوئے یہ دونوں اب ایسے برینڈڈ اداکار بن چکے ہیں جن کے منہہ سے نکلنے والے الفاظ محض اشیائے صرف کو لوگوں کے لیے قابل قبول بنانے کا کام نہیں کرتے بلکہ سیاست دانوں کے متعلق کیا جانے والا ان کا اظہار خیال بھی ان لوگوں کے لیے خاص معانی رکھتا ہے جو اسے اپنے حق یا مخالفت میں دیا گیا بیان تصور کرتے ہیں۔
سہیل احمد اور وسیم عباس ، برینڈڈ فنکار وں کی فہرست میں تو شامل ہوگئے لیکن ابھی تک لیجنڈ نہیں بن سکے۔ لیجنڈ اور برینڈڈ ،اداکاروں کا فرق یہ ہوتا ہے کہ برینڈ ڈادکاروں کا استعمال تفریحی سرگرمیوں اور کسی کے سیاسی فائدہ یا نقصان تک محدود ہوتا ہے لیکن فن و ثقافت کی دنیا میں لیجنڈ اداکاروں کا کردار سماجی اقدار،اخلاقیات اور طرز زندگی کے ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقلی کا وسیلہ بنتا ہے۔ سہیل احمد اور وسیم عباس اتنے سینئر اداکار بن چکے ہیں کہ انہیں سیاسی اداکاری کی طرف مائل ہونے کی بجائے اب لیجنڈ اداکار وں کی طرح کردار ادا کرنے کے متعلق سوچنا چاہیے۔

جواب دیں

Back to top button