Column

پرجارک

پرجارک
تحریر: شکیل سلاوٹ
بجٹ سے پہلے کا پاکستان
مہنگائی، توانائی بلوں کا عذاب طویل لوڈشیڈنگ۔ عوام کے دکھوں کا کون مداوا کرے گا اس عوامی حکومتوں میں جو کہ وفاق سمیت ملک کے تمام صوبوں نیں ہے۔ پاکستان ایک بار پھر وفاقی بجٹ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی دعوے ہوں گے، اعداد و شمار پیش کیے جائیں گے، ترقی کے خواب دکھائے جائیں گے، مگر سوال وہی پرانا ہے: کیا عام آدمی کی زندگی میں کوئی حقیقی آسانی آئے گی؟
آج کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے، جو کسی طوفان کی طرح ہر گھر کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ آٹا، چینی، گھی، بجلی، گیس، کوئی بھی بنیادی ضرورت ایسی نہیں جو عام آدمی کی پہنچ میں رہ گئی ہو۔ ایک متوسط طبقے کا فرد، جو کبھی اپنے محدود وسائل میں زندگی گزار لیتا تھا، اب ہر مہینے کے اختتام سے پہلے ہی قرض اور ادھار کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔
خاص طور پر بجلی اور گیس کے بل عوام کے لیے ایک ڈرائونا خواب بن چکے ہیں۔ گھروں میں نہ مناسب بجلی دستیاب ہے اور نہ ہی گیس، مگر بل ایسے آتے ہیں جیسے سہولیات پوری دی جا رہی ہوں۔ کئی گھروں میں گھنٹوں لوڈشیڈنگ رہتی ہے، چولہے ٹھنڈے پڑے ہوتے ہیں، مگر بلوں میں ہزاروں نہیں بلکہ بعض اوقات لاکھوں روپے تک کے واجبات شامل ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے، جہاں بنیادی سہولت نہ ہونے کے باوجود اس کی قیمت پوری وصول کی جا رہی ہے۔
بازاروں میں جائیں تو قیمتیں روز بدلتی ہیں، مگر تنخواہیں وہی پرانی ہیں۔ مزدور کی دیہاڑی میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ یہ تضاد صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی بحران بنتا جا رہا ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک صورتحال پنشنرز کی ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگیاں اس ملک کی خدمت میں گزار دیں، آج بڑھتی مہنگائی کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے پنشن میں محض 6سے 7فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے، جو موجودہ مہنگائی کے تناسب سے نہایت ناکافی ہے۔ ادویات، یوٹیلٹی بلز اور روزمرہ اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے، مگر پنشنرز کی آمدنی تقریباً جمود کا شکار ہے۔ یہ ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے؟
دوسری طرف حکومتی ایوانوں میں خاموشی ہے، یا پھر ایسے بیانات جو زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتے۔ پالیسی ساز جب مہنگائی کو ’’ عارضی‘‘ قرار دیتے ہیں تو یہ الفاظ ان لاکھوں لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوتے ہیں جو روزانہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے ہوں یا نئے ٹیکسز کا نفاذ ہر قدم کا اثر براہِ راست عام آدمی پر پڑتا ہے۔ سبسڈیز میں کمی، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، اور ٹیکسوں کا بوجھ، یہ سب مل کر مہنگائی کی آگ کو مزید بھڑکاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان فیصلوں کے ساتھ عوام کے لیے کوئی موثر حفاظتی نظام بھی موجود ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں پالیسی سازی اکثر اعداد و شمار تک محدود رہ جاتی ہے، جبکہ انسانی پہلو نظرانداز ہو جاتا ہے۔ ایک مزدور کے خالی برتن، ایک ماں کی پریشانی، ایک پنشنر کی بے بسی، اور ایک طالب علم کے ادھورے خواب، یہ سب وہ حقیقتیں ہیں جو کسی بجٹ دستاویز میں پوری طرح ظاہر نہیں ہوتیں۔
اگر حکومت واقعی عوامی ریلیف چاہتی ہے تو اسے محض اعلانات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ضروری ہے کہ بجلی اور گیس کے بلوں میں غیر منصفانہ چارجز کا خاتمہ کیا جائے۔ لوڈشیڈنگ کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ کم آمدنی والے طبقے کے لیے براہِ راست مالی مدد فراہم کی جائےیہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بجٹ صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے۔ جو یہ دکھاتا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ کس حد تک مخلص ہے۔ اگر اس آئینے میں عوام کی مشکلات نظر نہ آئیں، تو پھر ترقی کے تمام دعوے محض الفاظ کا گورکھ دھندا رہ جاتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button